ممبئی،20اکتوبر(آئی این ایس انڈیا)این سی پی لیڈر پرفل پٹیل نے ای ڈی کے حکام کو تفتیش میں بتایا ہے کہ انہیں نہیں پتہ تھا کہ اقبال میمن اور اقبال مرچی ایک ہی شخص تھا۔انہوں نے دعوی کیا ہے کہ منشیات مافیا کے ساتھ ڈیل ایک رشتہ دار نے کی تھی جن کی چند سال پہلے موت ہو گئی۔غور طلب ہے کہ انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم کے لئے کام کر چکے میمن کے خلاف چل رہی منی لنڈرگ کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں پٹیل سے جمعہ 12 گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی۔ذرائع کے مطابق یہ تحقیقات ملینین ڈویلپرس نام کی کمپنی، پٹیل خاندان جسے پروموٹ کر رہا تھا اور مرچی کے خاندان کے درمیان ہوئے قانونی معاہدوں کو لے کر ہو رہی ہے۔ای ڈی اب فاروق پٹیل نام کے ایک شخص کی تلاش میں ہے جس نے پٹیل اور مرچی کے درمیان ڈیلنگ کرائی۔فاروق کا نام مرچی کے رشتہ دار مختار پٹکا سے پوچھ گچھ کے دوران سامنے آیا۔پٹکا بھارت میں مرچی کے زمین سے متعلق کیس دیکھتا تھا۔پٹیل نے ای ڈی کے سامنے فاروق کو جاننے کی بات مانی ہے۔حکام نے کہا ہے کہ مرچی نے ورلی میں 1985 میں زمین کے ایک پلاٹ پر قبضہ کر لیا تھا،یہ حصہ پٹیل خاندان کا تھا،مرچی نے وہاں ڈسکو شروع کر دیا اور یہاں سے منشیات کا کاروبار چلتا تھا،بعد میں وہ گرفتاری سے بچنے کے لئے بیرون ملک بھاگ گیا،1999 میں ڈسکو بند ہو گیا اور ملینیم ڈویلپرس نے مرچی کی بیوی ہاجرہ سے مکمل پلاٹ ڈویلپ کرنے کی ڈیل کی۔کمپنی نے یہاں چیف جسٹس ہاؤس نام کی 15 منزلہ عمارت کھڑی کی اور اس میں سے دو فلور ہاجرہ اور اس کے دو بیٹوں کو دے دیں، مرچی کی 2013 میں لندن میں موت ہو گئی۔ای ڈی کے حکام نے پٹیل سے ملینیم ڈویلپرس کے مرچی کی بیوی اور بیٹوں سے 5 کروڑ روپے لینے کے معاملے میں پوچھ گچھ کی ہے۔پٹیل نے انہیں بتایا کہ یہ رقم عمارت کی بحالی کے لئے لی گئی ہوگی۔ای ڈی پرفل پٹیل اور مرچی کے درمیان ایک مشترکہ دوست کے ذریعے فون پر بات چیت کی جانچ بھی کر رہی ہے۔