ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / دبئی و بحرین میں پھنسے افراد کی فہرست میں اُترکنڑا غائب؛ دبئی میں بھٹکل کے درجنوں افراد پھنسے ہونے کی اطلاع

دبئی و بحرین میں پھنسے افراد کی فہرست میں اُترکنڑا غائب؛ دبئی میں بھٹکل کے درجنوں افراد پھنسے ہونے کی اطلاع

Tue, 03 Mar 2026 17:44:06    S O News
دبئی و بحرین میں پھنسے افراد کی فہرست میں اُترکنڑا غائب؛ دبئی میں بھٹکل کے درجنوں افراد پھنسے ہونے کی اطلاع

بھٹکل، 3 مارچ (ایس او نیوز) ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے باعث خلیجی ممالک میں پھنسے کرناٹکا کے باشندوں کی ایک فہرست ریاستی حکومت کو موصول ہوئی ہے۔ تاہم حیرت کی بات یہ ہے کہ اس فہرست میں اُتر کنڑا ضلع کے کسی بھی فرد کا نام شامل نہیں ہے، جبکہ اطلاعات کے مطابق صرف بھٹکل کے ہی 50 سے زائد افراد، جو وزٹ ویزا پر دبئی گئے تھے، بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ فہرست میں بحرین اور دبئی ، متحدہ عرب امارات میں کرناٹکا کے جملہ 109 افراد کے پھنسے ہونے کا ذکر ہے۔ ان میں سے 100 افراد دبئی میں موجود ہیں۔ دبئی میں پھنسے افراد میں بلاری کے 32، بنگلورو کے 25، چکبالاپور کے 2، چکمگلورو کے 5، چترادرگہ کے 2، دکشن کنڑا کے 3، اڈپی کے 2، داونگیرے کے 9، کلبرگی کے 2، شیموگہ کے 3، کوڈاگو کے 4، ٹمکور کے 1، وجیا پور کے 4 اور رائچور کے 3 افراد شامل ہیں، جبکہ تین افراد ایسے ہیں جن کے ضلع کی تفصیل معلوم نہیں ہو سکی ہے۔

اسی طرح بحرین میں پھنسے 9 افراد میں ہاسن کے 4، کوڈاگو کا 1 اور اڈپی کے 3 افراد شامل ہیں، جبکہ ایک شخص کے ضلع کی تفصیل دستیاب نہیں ہو سکی ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے مختلف شہروں مثلاً دبئی، شارجہ، عجمان، راس الخیمہ، العین اور ابوظبی میں اُتر کنڑا، خصوصاً بھٹکل سے تعلق رکھنے والے تقریباً پانچ ہزار افراد مقیم ہیں، جبکہ بحرین میں بھی لگ بھگ 150 افراد مختلف ملازمتوں اور کاروبار سے وابستہ ہیں۔

ذرائع کے مطابق صرف بھٹکل سے ہی کم و بیش 300 افراد وزٹ ویزا پر دبئی میں موجود ہیں۔ ان میں سے تقریباً 50 افراد کے ویزا کی مدت یا تو ختم ہوچکی ہے یا آج کل میں ختم ہونے والی ہے جبکہ شہر کے مختلف حصوں میں دھماکوں کی آوازوں سے خوف میں مبتلا ہیں اور فوری واپس بھٹکل آنا چاہتے ہیں، لیکن پروازیں منسوخ ہونے کے باعث وہ وہاں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ ایسے میں حکومت کو فراہم کی گئی فہرست میں اُتر کنڑا کے کسی بھی فرد کا نام شامل نہ ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔


Share: