گزشتہ روز بھٹکل میں سنگھ پریوار کی تنظیموں کی جانب سے “ہندو سنگم” کے نام سے ایک عوامی پروگرام منعقد کیا گیا تھا، جس میں مبینہ طور پر اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے ماحول کو گرمانے کے لیے بدنام سابق رکنِ پارلیمان اننت کمار ہیگڑے کو اہم مقرر کے طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم اس مرتبہ پروگرام میں شریک ان کے بہت سے حامی ان کی تقریر سے مایوس نظر آئے، کیونکہ انہوں نے اپنے خطاب میں زیادہ تر ہندوؤں کو متحد رہنے کی تلقین ہی کی۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے یہاں تک کہا کہ ہندوؤں کو مسلمانوں یا عیسائیوں سے نہیں بلکہ خود ہندوؤں سے ہی خطرہ ہے۔
اسی پس منظر میں ضلع اُترکنڑا کے معروف کنڑا روزنامہ “کراولی منجاو” میں ایک تجزیاتی رپورٹ شائع ہوئی ہے، جس کا اردو ترجمہ کراولی منجاو کے شکریے کے ساتھ ساحل آن لائن کے اردو قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔
بی جے پی میں انتخابی تیاریوں کا آغاز
بھٹکل: ریاستی اسمبلی انتخابات میں ابھی دو سال باقی ہونے کے باوجود بی جے پی حلقوں میں تیاریوں نے ابھی سے زور پکڑ لیا ہے۔ آئندہ ہونے والے ضلع پنچایت، تعلقہ پنچایت اور گرام پنچایت انتخابات کو سیڑھی بنا کر کامیابی حاصل کرنے کے مقصد سے بی جے پی سرگرم ہو گئی ہے۔ چونکہ ریاستی سطح پر بی جے پی ابھی زیادہ مضبوط نہیں ہے، اس لیے اس کی مادر تنظیم آر ایس ایس نے اپنے 100 سالہ پروگرام کو گاؤں گاؤں میں منظم طریقے سے منعقد کر کے بی جے پی کو مضبوط کرنے کی کوشش شروع کی ہے۔
اس دوران یہ بحث بھی تیز ہو گئی ہے کہ ریاستی بی جے پی میں بظاہر خالی نظر آنے والی برہمن نمائندگی کو پُر کرنے کی کوشش شروع ہو گئی ہے، اور اسی سلسلے میں بی جے پی اور آر ایس ایس سرگرمیوں سے دور ہو چکے سابق رکن پارلیمان آننت کمار ہیگڈے کو دوبارہ اپنی طرف کھینچنے کی کوششوں کی بھی باتیں سیاسی حلقوں میں سنائی دے رہی ہیں۔
ریاستی بی جے پی میں برہمن طبقہ سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کی کمی نہیں ہے۔ سب سے پہلے، ریاستی بی جے پی کی کلیدی طاقت سمجھے جانے والے برہمن برادری کے بی ایل سنتوش اس وقت بی جے پی کے قومی تنظیمی جنرل سکریٹری ہیں۔ دھارواڑ کے رکن پارلیمان پرہلاد جوشی جو دیشستھا مادھوا برہمن ہیں، مرکزی حکومت کے ایک بااثر وزیر ہیں۔ بنگلورو ساؤتھ کے رکن پارلیمان تیجسوی سوریا بھی مادھوا برہمن طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اترا کنڑ کے رکن پارلیمان وشویشور ہیگڑے کاگیری ہوییک برہمن ہیں۔
یہ سب اگرچہ مرکزی حکومت کا حصہ ہیں، لیکن ریاست میں برہمن طبقہ سے تعلق رکھنے والے راجاجی نگر کے رکن اسمبلی ایس سُریش کمار کو اگرچہ سیاسی سینیارٹی حاصل ہے، مگر وہ سیاسی طور پر زیادہ طاقتور نہیں سمجھے جاتے۔ وہ اسمارٹھا برہمن برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ حال ہی میں ان کی ناسازیٔ صحت کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں۔ منگلورو ساؤتھ کے رکن اسمبلی ویداویاس کامتھ گوڈا سرسوت برہمن ہیں، مگر ریاستی سطح پر ان کا اثر بھی محدود ہی سمجھا جاتا ہے۔
اس پس منظر میں ریاستی سیاست پر اثر انداز ہونے والے برہمن طبقہ کے کسی لیڈر کو تلاش کر کے آگے لانے کی کوشش تیز ہو گئی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ باتیں سننے کو مل رہی ہیں کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ٹکٹ نہ ملنے پر ناراض ہو کر سیاست سے دور رہنے والے سابق رکن پارلیمان آننت کمار ہیگڈے اس کے لیے موزوں سمجھے جا رہے ہیں۔
اننت کمار ہیگڑے کیوں موزوں؟
سرسی کے رہنے والے اور ہوییک برہمن برادری سے تعلق رکھنے والے آننت کمار ہیگڈے چھ مرتبہ رکن پارلیمان رہ چکے ہیں اور انہیں سیاسی تجربہ حاصل ہے۔ اس کے علاوہ وہ آر ایس ایس کے نظریاتی ماحول میں پوری طرح تربیت یافتہ ہیں۔ مزید یہ کہ کرناٹک میں خصوصاً ساحلی علاقوں میں ہندوتوا کے نام پر دیگر برادریوں پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر دوسری برادریوں کو تنقید کا نشانہ بنا کر ووٹوں کو مجتمع کرنے کی حکمت عملی بھی رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے یہ سوچ بھی پائی جاتی ہے کہ اگر انہیں آگے لایا جائے تو بی جے پی کو فائدہ ہو سکتا ہے۔
ریاستی سیاست پر اثر پیدا کرنے کے لیے اس سے پہلے بھی اننت کمار ہیگڑے کو آئندہ وزیر اعلیٰ یا بی جے پی ریاستی صدر کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں ہو چکی ہیں۔ حال ہی میں بھٹکل کے ہندو سنگم پروگرام میں انہیں مدعو کرنے اور رخصت کرنے کے موقع پر بھی دوبارہ انہیں آئندہ وزیر اعلیٰ بنانے کے نعرے سنائی دیے۔ تاہم جب تک انہیں کوئی واضح یقین دہانی نہیں ملتی، اننت کمار ابھی کوئی قدم اٹھانے والے نہیں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ موزوں وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔
نمائندگی کی آواز پہلے سے موجود
ریاستی حکومت کی قیادت برہمن طبقہ کو دینے کی آواز پہلے سے ہی سنائی دیتی رہی ہے۔ جب جنوبی ہند میں بی جے پی کی مضبوط بنیاد نہیں تھی، تب بی ایس یڈی یورپّا نے لنگایت برادری کو مذہبی مٹھوں اور سوامیوں کے ذریعے متحد کر کے اقتدار حاصل کیا تھا۔ اسی دوران ان کے ساتھ پارٹی تنظیم میں کام کرنے والے بنگلورو کے رکن پارلیمان اور برہمن برادری کے آننت کمار کو وزیر اعلیٰ بنانے کی کوششیں بھی سامنے آئی تھیں۔
لیکن لنگایت مٹھوں کے اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی۔ بعد میں بدعنوانی کے ایک معاملہ میں جیل جانے کے بعد بھی یڈی یورپّا نے اصرار کرتے ہوئے وکلیگا برادری کے ڈی وی سدانند گوڈا کو موقع دیا مگر اننت کمار کو منظوری نہیں دی۔
جب یڈی یورپّا نے پارٹی چھوڑ کر نئی پارٹی کے جے پی قائم کی، اس وقت کئی لوگ بی ایل سنتوش کا نام بھی لیتے ہوئے نظر آئے۔ 2018 کے انتخابات کے بعد ایچ ڈی کماراسوامی نے جنتادل (ایس ) کی جانب سے کانگریس کی حمایت سے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا۔ 2019 میں ان کے مستعفی ہونے کے بعد یڈی یورپّا دوبارہ وزیر اعلیٰ بنے۔
جب یڈی یورپّا نے جولائی 2021 میں استعفیٰ دیا تو وزیر اعلیٰ کے لیے پرہلاد جوشی کا نام بھی سامنے آیا تھا۔ لیکن اس وقت بھی یڈی یورپّا اپنے مؤقف پر قائم رہے اور بالآخر بسوراج بومائی کو وزیر اعلیٰ بنا دیا گیا۔
کیا اننت کمار کے معاملے میں بھی ذات کا تضاد ہے؟
بظاہر اننت کمار ہیگڑے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ذات پر مبنی نمائندگی کا فائدہ اٹھانے والوں میں شامل نہیں ہیں۔ اسی وجہ سے بعض پسماندہ طبقات کے لوگ ریاست کے دوسرے برہمن سیاست دانوں کے مقابلے میں اننت کمار کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔ لیکن اگر ان کی سیاسی زندگی میں ملنے اور کھونے والے مواقع پر نظر ڈالی جائے — مثلاً پرہلاد جوشی کو وزیر بنانے کے لیے اننت کمار ہیگڑے کو نظر انداز کیا گیا تھا — تو یہ کہنا مشکل ہے کہ ذات پر مبنی نمائندگی کا عنصر ان کے معاملے میں موجود نہیں رہا۔
گھر کے باہر اننت کمار ہیگڑے کہتے ہیں کہ ذات کی تنگ نظری اور ذات کی برتری کا اظہار ہندو مذہب کو نقصان پہنچاتا ہے اور اتحاد کو کمزور کرتا ہے۔ لیکن برہمن برادری کو ذات کے نام پر دی جانے والی نمائندگی اور پس پردہ حکمت عملی کو وہ محض اہلیت کی بنیاد پر دیا گیا موقع قرار دیتے ہیں۔
بھٹکل کے ہندو سنگم میں اپنی تقریر کے دوران اننت کمار ہیگڈے نے ایسے انداز میں تقریر کی جیسے وہ ذات پات کے نظام کو مسترد کرتے ہوں اور مساوات کی بات کرتے ہوں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ ہندو مذہبی شاستروں میں ذات پات کی کوئی تفریق موجود نہیں ہے اور صرف وہی لوگ اس کے خلاف بات کرتے ہیں جنہوں نے منوسمرتی نہیں پڑھی۔ لیکن بی آر امبیڈکر نے منوسمرتی کو کیوں جلایا تھا اس کا جواب اننت کمار نہیں دے سکتے۔ یہی اننت کمار کا تضاد ہے۔