بنگلورو ، 8 /مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی) گھریلو استعمال کے ایل پی جی گیس سلنڈر کی قیمت میں حالیہ اضافے کے خلاف کانگریس رہنماؤں اور کارکنوں نے مرکز کی پالیسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انوکھا احتجاج کیا۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کے اس فیصلے سے غریب اور متوسط طبقے پر مزید معاشی بوجھ پڑے گا۔
مظاہرین کے مطابق حال ہی میں تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے ایل پی جی گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ کیا ہے، جس کے تحت گھریلو استعمال کے 14.2 کلوگرام سلنڈر کی قیمت میں تقریباً 60 روپے اور تجارتی استعمال کے 19 کلوگرام سلنڈر کی قیمت میں تقریباً 115 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان عوام کے لیے یہ فیصلہ ایک بڑا دھچکا ہے۔
رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ انتخابات سے قبل ایل پی جی، پیٹرول اور ضروری اشیاء کی قیمتیں کم کرنا اور بعد میں اچانک اضافہ کرنا وزیر اعظم نریندر مودی کی حکمت عملی بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ روزگار کے مواقع بڑھانے اور ملک کو معاشی طور پر مضبوط بنانے کے وعدے کے ساتھ اقتدار میں آنے والی بی جے پی حکومت آج اپنے ہی وعدوں کے برعکس کام کر رہی ہے۔
کانگریس لیڈروں کا کہنا تھا کہ 2014 سے 2025 کے دوران ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام خاندانوں کی زندگی کو مہنگا بنا چکا ہے۔ حکومت کی جانب سے سبسڈی نظام کو بتدریج کم کرنے سے غریب اور متوسط طبقہ مزید مشکلات کا شکار ہو رہا ہے۔
مظاہرین نے یہ بھی کہا کہ خارجہ اور معاشی پالیسیوں کے معاملے میں مرکزی حکومت کا موقف کمزور دکھائی دے رہا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سیاسی حالات کے درمیان ملک کے مفادات کا مضبوطی سے دفاع کرنے کے بجائے حکومت خاموشی اختیار کر رہی ہے، جو تشویش کا باعث ہے۔
کانگریس رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ فوری طور پر واپس لیا جائے اور عوام کو مہنگائی سے راحت فراہم کی جائے، بصورت دیگر عوامی غصے کا سامنا کرنے کے لیے مرکزی حکومت کو تیار رہنا چاہیے۔
اس احتجاج میں کے پی سی سی کے جنرل سکریٹری اور ایم ای آئی کے صدر ایس منوہر، میڈیا ترجمان آنند کمار ایم ایس، کانگریس رہنما سُنکدکٹے نوین، اوبلیش، چنی پرکاش ہیمرج، پُٹّاراجو، اُمیش، رنجیت، سنجے، سائی نوین، سیموئیل، پروین، اپّارائے، پون سمیت متعدد کانگریس کارکنان شریک تھے۔