منگلورو، 3 / مارچ (ایس او نیوز) اُلال پولیس نے ایک شرپسند کے خلاف از خود مقدمہ درج کرنے کے بعد بھٹکل کے ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے جس نے مبینہ طور پر ایک انسٹاگرام پیج پر اشتعال انگیز تبصرہ پوسٹ کیا تھا جس میں بجپے میں قتل کیے گئے ہندو تنظیم کے کارکن سہاس شیٹی کی تصویر تھی ۔ اس میں اُلال کی ایک مسجد کے قریب بم دھماکہ کرنے کی دھمکی دی گئی تھی اور اس کے لئے حمایت مانگی گئی تھی۔
گرفتار شخص کی شناخت بھٹکل دیوی نگر کے رہائشی شنکر ماستپا موگیر (35) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔
اشتعال انگیز پیغام ’شنکر 11916‘ نامی ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا، ’’سپورٹ ماڈی برو ۔ اُلال مسجد ہتّرا بم بلاسٹ ماڈتینی‘‘ (میرا ساتھ دو بھائی، میں اُلال مسجد کے قریب بم دھماکہ کروں گا) ۔ یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ۔
سوشیل میڈیا مانیٹرنگ ڈیوٹی پر موجود الال پولیس اسٹیشن عملے کے ایک رکن سنتوش دوڈمنی نے اس پیغام کو دیکھا اور شکایت درج کرائی ۔ ان کی شکایت پر اُلال پولس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
شکایت میں کہا گیا تھا کہ ملزم نے مختلف مذاہب کے درمیان دشمنی پیدا کرنے، تشدد بھڑکانے اور لوگوں کو اکسانے کی نیت سے سوشیل میڈیا پر اشتعال انگیز تبصرہ کیا ہے اس لئے ملزمان کے خلاف مناسب قانونی کارروائی کی جائے۔
معاملے کو لے کر پولیس کمشنر سدھیر کمار ریڈی نے بتایا کہ جس شخص نے یہ پیغام پوسٹ کیا ہے اسے گرفتار کر لیا جائے گا ۔دریں اثنا، اسمبلی اسپیکر یو ٹی قادر نے بھی پولیس کو ہدایت دی تھی کہ سوشل میڈیا پر پیغام پوسٹ کرنے والے شرپسند کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ اس سلسلے میں پولیس کمشنر سے بات کرتے ہوئے قادر نے کہا کہ اُلال میں تمام مذاہب کے لوگ ہم آہنگی کے ساتھ جی رہے ہیں اور محکمہ پولیس کو ایسی دھمکی آمیز پوسٹس کے ذریعے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوششوں کے خلاف چوکنا رہنا چاہیے۔
منگل شام کو موصولہ اطلاع میں بتایا گیا ہے کہ ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔