بنگلورو، 10 /مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی کے اثرات اب ہندوستان میں بھی نظر آنے لگے ہیں اور ایک طرف گھریلو ایل پی جی میں اچانک 60 روپئے کا اضافہ کیا گیا ہے تو وہیں کمرشیل ایل پی جی گیس کی قیمت میں 114.5 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی بنگلورو ہوٹل اونرز ایسوسی ایشن (بی بی ایچ او اے) کے مطابق کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی سپلائی بھی روک دی گئی ہے، ، جس کے نتیجے میں کئی ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کے معمولات متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر جلد ہی سپلائی بحال نہ کی گئی تو شہر کے ہوٹل اور ریسٹورنٹس بند کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے صدر پی سی راؤ نے کہا کہ شہر کے کئی ریسٹورنٹس کو کمرشل گیس سلنڈر نہیں مل رہے ہیں، جس کی وجہ سے کاروبار چلانا مشکل ہو رہا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے فوری مداخلت کرتے ہوئے سپلائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مغربی ایشیا میں جاری بحران کے سبب کچھ مقامات پر پیر سے کمرشل ایل پی جی کی سپلائی متاثر ہونے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔
پی سی راؤ کے مطابق پیر کی صبح تک شہر کے تقریباً 25 سے 30 ہوٹل اس صورتحال سے متاثر ہو چکے تھے کیونکہ سپلائرز نے ڈائریکٹ گیس کی فراہمی روک دی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے مرکزی حکومت کو خط لکھا گیا ہے اور مقامی اراکین پارلیمنٹ سے بھی رابطہ کیا گیا ہے، مگر اب تک کوئی ٹھوس نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
ایسوسی ایشن کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ہوٹل انڈسٹری ایک لازمی خدمت کے زمرے میں آتی ہے اور روزانہ بڑی تعداد میں عام شہری، بزرگ، طلبہ اور میڈیکل شعبے سے وابستہ افراد اپنی روزمرہ کی خوراک کے لیے ہوٹلوں پر انحصار کرتے ہیں۔ اگر گیس کی سپلائی بحال نہ ہوئی تو نہ صرف عوام کو دشواری پیش آئے گی بلکہ ہوٹل انڈسٹری کو بھی شدید بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔
خط میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تیل کمپنیوں نے پہلے یقین دہانی کرائی تھی کہ تقریباً 70 دن تک گیس کی سپلائی میں کوئی خلل نہیں آئے گا، مگر اچانک سپلائی روک دیے جانے سے صنعت کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ ایسوسی ایشن نے متعلقہ مرکزی حکام سے فوری اقدامات کرتے ہوئے کمرشل گیس کی سپلائی بحال کرنے کی اپیل کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی بحال نہ ہوئی تو 10 مارچ سے ہوٹل بند کرنے پڑ سکتے ہیں۔
پی سی راؤ نے کہا کہ ہوٹل مالکان کا مقصد کاروبار بند کرنا نہیں ہے، لیکن اگر گیس کی فراہمی دوبارہ شروع نہیں ہوئی تو ان کے پاس آپریشن بند کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ ان کے مطابق اس صورتحال سے ہوٹل انڈسٹری کو بھی بڑا مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے کیونکہ اس کے کاروبار پر سلسلہ وار اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب بعض مقامی ریسٹورنٹ مالکان نے بتایا کہ وہ فوری طور پر کاروبار بند کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے، تاہم کمرشل سلنڈروں کی شدید قلت کے باعث کام چلانا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایک ریسٹورنٹ مالک دیواکر آر کے مطابق کمرشل سلنڈر بلیک مارکیٹ میں تقریباً 2500 روپے تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ سرکاری بلنگ 1958 روپے کی ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی مرتبہ زیادہ قیمت دینے کے باوجود بھی سلنڈر حاصل کرنا ممکن نہیں ہو پا رہا۔
وزیر اعلیٰ سدارامیا نے پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ حد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمرشل استعمال کے لیے 115 روپے اور گھریلو سلنڈر پر 60 روپے کا اضافہ مناسب نہیں ہے۔