ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / ایران–اسرائیل تنازعہ: دبئی سے پروازیں معطل؛ مسقط ائیرپورٹ سے وطن واپسی کا سلسلہ تیز، بھٹکل کے افراد بھی شامل

ایران–اسرائیل تنازعہ: دبئی سے پروازیں معطل؛ مسقط ائیرپورٹ سے وطن واپسی کا سلسلہ تیز، بھٹکل کے افراد بھی شامل

Wed, 04 Mar 2026 20:45:36    S O News
ایران–اسرائیل تنازعہ: دبئی سے پروازیں معطل؛ مسقط ائیرپورٹ سے وطن واپسی کا سلسلہ تیز، بھٹکل کے افراد بھی شامل

بھٹکل، 4 مارچ (ایس او نیوز): مشرقِ وسطیٰ میں ایران پر اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتِ حال کے تناظر میں میزائل اور ڈرون سرگرمیوں کو قریب سے دیکھنے والے متعدد افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ بڑی تعداد میں غیر ملکی شہری اپنے وطن واپس جانے کے خواہش مند ہیں، تاہم دبئی اور ابوظبی ائیرپورٹس کی بندش کے باعث لوگ پڑوسی ملک عمان کے مسقط ائیرپورٹ کے ذریعے وطن لوٹ رہے ہیں، جن میں بھٹکل کے افراد بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر میزائل حملوں اور ایران کے رہنما آیت اللہ خمینی سمیت اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے کے بعد ایرانی افواج نے خلیج کے مختلف ممالک میں موجود امریکی فوجی تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابوظبی میں واقع امریکی فوجی تنصیب الظفرہ ایئر بیس سمیت زاید انٹرنیشنل ایئرپورٹ، زاید پورٹ، ابوظبی کورنیش اور البطین کے علاقوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ ان حملوں کے دوران زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور بعض عمارتوں سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔

اسی طرح دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، پام جمیرا میں واقع ‘فیرمونٹ دی پام’ ہوٹل کے قریب ڈرون حملے، برج العرب کو نشانہ بنانے کی کوشش اور جبل علی پورٹ پر میزائل گرائے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ تاہم متحدہ عرب امارات کے دفاعی نظام نے بیشتر حملوں کو ناکام بنا دیا۔ بعض مقامات پر ملبہ گرنے کے نتیجے میں تین افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی ہے۔

دبئی کے چند رہائشی علاقوں میں میزائلوں کے ملبے گرنے سے عوام میں خوف و ہراس پایا گیا۔ اگرچہ حکام صورتِ حال کو قابو میں قرار دے رہے ہیں، تاہم فضا میں مار گرائے گئے میزائلوں کے ٹکڑے رہائشی مقامات پر گرنے سے تشویش برقرار ہے۔

اتوار کو دبئی کے الممزر علاقے میں ایک رہائشی عمارت کے قریب میزائل کا ٹکڑا گرنے سے آگ بھڑک اٹھی، تاہم سکیورٹی اور فائر بریگیڈ حکام نے چند ہی منٹوں میں موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پا لیا۔ قریبی عمارت میں مقیم بھٹکل سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے مطابق دھماکے کے فوراً بعد پولیس، ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کا عملہ موقع پر پہنچ گیا۔ خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم احتیاطاً وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ سڑک کے راستے مسقط روانہ ہوئیں اور وہاں سے کالی کٹ کے ذریعے بحفاظت بھٹکل پہنچ گئیں۔

مسقط میں مقیم سماجی کارکن خواجہ فوزان بھٹکلی کے مطابق دبئی سے بڑی تعداد میں افراد زمینی راستے سے عمان پہنچ رہے ہیں اور وہاں سے اپنے اپنے ممالک کے لیے پروازیں حاصل کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق آنے والوں میں بھارتی شہریوں کی تعداد نمایاں ہے اور عمانی ویزا کے حصول کے لیے مسلسل درخواستیں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک ٹریول ایجنٹ نے صرف ایک دن میں تقریباً 900 ویزے جاری کیے، جو موجودہ حالات میں نقل و حرکت کے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

فوزان کے مطابق ہنگامی صورتِ حال کے باعث فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ عام دنوں میں 50 تا 60 ریال میں دستیاب ٹکٹ بعض روٹس پر 8 ہزار سے 9 ہزار ریال تک پہنچ گئے ہیں۔ مسقط سے مختلف بھارتی شہروں، خصوصاً کالی کٹ، گجرات، ممبئی، دہلی اور لکھنؤ کے لیے ٹکٹوں کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوا ہے کیونکہ لوگ احتیاطی طور پر وطن واپسی کو ترجیح دے رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق منگل اور بدھ کو بھی دبئی میں ڈرون سرگرمیوں کی خبریں سامنے آئیں۔ ایک موقع پر ایک ڈرون کو فضا میں مار گرایا گیا، تاہم اس کے کچھ پرزے بار دبئی کے علاقے میں ایک عمارت پر گرنے سے مقامی سطح پر تشویش پھیلی۔ اس کے بعد بار دبئی میں مقیم بھٹکل کی چند مزید فیملیز نے بھی مسقط منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، جہاں سے وہ مینگلور کے لیے روانہ ہو گئی ہیں۔

خواجہ فوزان کے مطابق مسقط میں صورتِ حال مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے اور کسی قسم کے خطرے کی بات نہیں۔ مارکیٹیں، اسکول اور کاروباری ادارے کھلے ہیں جبکہ ائیرپورٹ پر پروازوں کا سلسلہ جاری ہے۔ منگل سے مسقط–مینگلور کے لیے Air India Express کی فلائٹ سروس بھی دوبارہ بحال ہو گئی ہے، جو گزشتہ چند ماہ سے معطل تھی۔ تاہم خلیجی کشیدگی کے پیشِ نظر واپسی کی پروازوں میں مسافروں کی کم تعداد کے باعث ایئرلائن کو شیڈول برقرار رکھنے میں دشواری پیش آنے کی اطلاعات ہیں۔ مینگلور اور ساحلی علاقوں کے مسافر، مینگلور کی ٹکٹ دستیاب نہ ہونے کی صورت میں، Oman Air کے ذریعے کالی کٹ جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

دوسری جانب دبئی سے مسقط میں داخل ہونے والی گاڑیوں کی طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں۔ دبئی اور مسقط کے امیگریشن مراکز میں بھی غیر معمولی رش رپورٹ کیا گیا ہے، کیونکہ نہ صرف بھارتی بلکہ دیگر ایشیائی اور عرب ممالک کے شہری بھی مسقط ائیرپورٹ کے ذریعے وطن واپسی کے خواہاں ہیں۔
بھارت لوٹنے والے افراد کے مطابق دبئی اور ابوظبی سمیت عرب امارات میں کشیدہ ماحول کے باوجود

حکومت کی جانب سے غیر ملکی شہریوں کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جا رہا ہے۔ ویزا کی معیاد ختم ہونے والوں کے لیے نرمی برتی جا رہی ہے، قیام اور قانونی امور میں آسانیاں دی جا رہی ہیں، جبکہ سکیورٹی ادارے رہائشی علاقوں میں مسلسل گشت اور نگرانی کو یقینی بنا رہے ہیں۔ کمیونٹی ذرائع کے مطابق اماراتی حکام بھارتیوں سمیت تمام غیر ملکی شہریوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال میں فوری امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

دبئی میں موجود بعض بھٹکلی افراد کے مطابق اگرچہ خطے کی کشیدگی نے وقتی بے چینی پیدا کی ہے اور بازاروں میں معمول سے کم رش دیکھا جا رہا ہے، میٹرو اسٹیشن بھی نسبتاً خالی ہیں۔ بچوں کی حفاظت کے پیشِ نظر بعض اداروں میں آن لائن کلاسز جاری کی گئی ہیں جبکہ کئی بڑی کمپنیوں نے ملازمین کو ورک فرام ہوم کی سہولت دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دبئی کے مضافاتی علاقوں میں میزائل گرنے سے متعلق ویڈیوز وائرل ہوئی ہیں، تاہم ان کے رہائشی علاقوں میں کسی قسم کی گھبراہٹ یا غیر معمولی صورتِ حال نہیں ہے۔


Share: