نئی دہلی،29/اکتوبر(آئی این ایس انڈیا) مہاراشٹر میں 50-50 فارمولے کی مانگ کو لے اڑی شیوسینا اور اس کی طرف سے جاری بیان بازی سے بی جے پی اعلی کمان ناراض ہو گیا ہے۔ ذرائع کے حوالے سے خبر مل رہی ہے کہ قومی صدر امت شاہ 30 اکتوبر کو اب ممبئی نہیں جائیں گے۔ جہاں ان کی بی جے پی ممبران اسمبلی کے ساتھ ملاقات ہونی تھی۔ مانا جا رہا تھا کہ امت شاہ پارٹی ممبران اسمبلی سے ملاقات کے بعد شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے سے بھی ملتے اور پھر معاملے کو حل کر لیا جاتا۔ لیکن شیوسینا کی جانب سے کی جا رہی ہے بیان بازی کے بعد سے اب معاملہ اور خراب ہوگیا ہے اور مہاراشٹر میں بھی بی جے پی کے رہنماو?ں کا کہنا ہے کہ جب تک ایسی بیان بازی جاری ہے شیوسینا سے کوئی بات چیت نہیں کی جانی چاہئے۔ غور طلب ہے کہ پیر کو شیوسینا لیڈر سنجے راوت نے کہا تھا کہ بی جے پی کے ساتھ 50-50 کے فارمولے پر سمجھوتہ ہوا تھا۔ بی جے پی رام نام کرتی ہے، تو پھر وہ سچ بولے اور بتائے۔ 50-50 پر سمجھوتہ تو پہلے ہی ہو چکا تھا۔ ' وہیں آج جب ان سے پوچھا گیا کہ مہاراشٹر میں حکومت بنانے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے تو انہوں نے طنز میں کہاکہ 'یہاں کوئی دشینت نہیں ہیں، جن کے والد جیل میں ہوں۔ یہاں ہم ہیں، جو 'مذہب اور سچائی کی سیاست کرتے ہیں۔شرد جی جنہوں نے بی جے پی اور کانگریس کے خلاف ماحول بنایا ہے جو کبھی بی جے پی کے ساتھ نہیں جائیں گے۔ ' ساتھ ہی کہاکہ 'ادھو ٹھاکرے جی نے کہا ہے کہ ہمارے پاس دوسرے متبادل بھی ہیں لیکن ہم اس متبادل کو قبول کرنے کا گناہ نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ شیوسینا نے ہمیشہ سچائی کی سیاست کی ہے ہم اقتدار کے بھوکے نہیں ہیں۔ آپ کو بتا دیں کہ بی جے پی پر دباؤ بڑھانے کے لئے شیوسینا ہر طرف سے حملہ آور ہے۔ پیر کو شیوسینا نے مودی حکومت کو نشانے پر لیا تھا۔ سامنا میں لکھا گیاتھا کہ 'بینکوں کا دیوالیہ پن، عوام کی جیب کے ساتھ سرکاری تجوری بھی خالی ہے۔ غور طلب ہے کہ مہاراشٹر میں بی جے پی اور شیوسینا کا اتحاد ہونا ہے اور اسی درمیان سامنا میں آنے والا یہ تبصرہ اہم ہے۔