نئی دہلی،20اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)ایک لڑکے کے والدین نے اس کی لڑکی کو ’کال گرل‘ کہہ دیا تو لڑکی نے خود کشی کر لی۔لڑکے اور اس کے والدین پر لڑکی کو خود کشی کے لئے اکسانے کے الزام میں مقدمہ درج ہو گیا۔15 سال بعد جب سپریم کورٹ سے فیصلہ آیا تو خاندان کو راحت ملی۔سپریم کورٹ نے کہا کہ محض ’کال گرل‘کہن سے ملزمان کو خودکشی کا ذمہ دار ٹھہرا کر سزا نہیں دی جا سکتی ہے۔جسٹس اند ملہوترا اور جسٹس آر سبھاش ریڈی نے اپنے فیصلے میں کہا کہ خودکشی کا سبب اشتعال انگیز زبان کا استعمال تھا، یہ نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔ججوں نے کہا کہ ناراضگی میں کہے گئے ایک لفظ کو، جس کے نتائج کے بارے میں کچھ سوچا سمجھا نہیں گیا ہو، اکساوا نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔عدالت عظمی نے اسی طرح کے ایک پرانے فیصلے میں ایک شخص کو اپنی بیوی کو خودکشی کے لئے اکسانے کے الزام سے آزاد کر دیا تھا۔اس نے جھگڑے کے وقت بیوی سے ’جاکر مر جانے‘ کو کہا تھا۔سپریم کورٹ نے تازہ معاملے میں اسی پرانے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ اسی فیصلے کے مطابق ہمارا خیال ہے کہ اس طرح کا الزام تعزیرات ہند کی دفعہ 306/34 کے تحت الزام کاروائی عمل کو آگے بڑھانے کے لحاظ سے کافی نہیں ہے۔اس الزام سے یہ بھی واضح ہے کہ ملزمان میں سے کسی نے بھی متاثرہ کو خودکشی کے لئے نہ تو اکسایا، نہ بہلایاپھسلایا اور نہ اس پر دباؤ بنایا۔
معاملے میں کولکاتہ کی لڑکی ملزم سے انگریزی زبان ٹیوشن لیتی تھی۔اس دوران دونوں ایک دوسرے کے قریب آ گئے اور شادی کرنے کا فیصلہ کیا لیکن، لڑکی ہے جب لڑکے کے گھر گئی تو لڑکے کے مشتعل والدین نے اسے خوب کھری کھوٹی سنائی اور ’کال گرل‘ تک کہہ دیا۔لڑکی کے والد کی جانب سے درج شکایت کے مطابق لڑکی اس لئے دکھی تھی کیونکہ اس کے بوائے فرینڈ نے اپنے والدین کے رویے اور اس کے لفظ پر اعتراض نہیں جتایا۔اسی دباؤ میں لڑکی نے جان دے دی۔معاملہ سال 2004 کا ہے۔