یلاپور ضمنی انتخاب میں عوام کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہوگیا ہے کہ کس کا تعلق کس پارٹی سے ہے

Source: S.O. News Service | Published on 24th September 2019, 1:17 PM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

یلاپور24/ستمبر (ایس او نیوز) ریاستی اسمبلی انتخابات کو مکمل ہوئے ابھی دوسال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ بعض اراکین اسمبلی کی اپنی پارٹیوں سے بغاوت او ر استعفے کے بعد دوبارہ ضمنی انتخا بات کا موسم آگیا ہے۔ اس میں ضلع شمالی کینرا کا یلاپور اسمبلی حلقہ بھی ہے۔

یلاپور میں سیاسی پارٹیوں اور کارکنوں کی موجودہ صورت حال کچھ ایسی ہے کہ عوام کے لئے یہ سمجھنا مشکل ہوگیا ہے کونسا سیاسی لیڈر اور کارکن کس پارٹی سے تعلق رکھتا ہے، کیونکہ بعض سیاسی کارکنان او رلیڈر ہر پارٹی کے اجلاس میں دکھائی دے رہے ہیں یا پھر اندرونی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ سانٹھ گانٹھ بنائے ہوئے ہیں۔پیر کے دن جے ڈی ایس پارٹی کی میٹنگ منعقد کرنے کے لئے رکن اسمبلی کوناریڈی یلاپور پہنچے تھے۔اس موقع پر جب کوناریڈی ہوٹل سے باہر نکلے تومعروف سیاسی لیڈروی وی جوشی ان کے ساتھ گھل مل کر خوش مذاقی کرتے ہوئے نظر آئے۔ یہ وہی جوشی ہیں جو پہلے جنتادل ایس کے تعلقہ صدر تھے، وہاں سے دَل بدلی کرتے ہوئے انہوں نے کانگریس میں شمولیت اختیار کی اور بلاک کانگریس صدر بن گئے۔ پھر جب سٹنگ ایم ایل اے شیورام ہیبار نے پارٹی سے بغاوت کی اور نااہل قراردئے گئے تو یہی جوشی ان کی حمایت میں کھڑے ہوگئے۔

 اب جب جنتادل ایس کے رکن اسمبلی کے ساتھ کھڑے ہوکر انہوں نے کیمروں کو پوز دیا تو جنتادل کے پرانے ساتھی وی وی جوشی کو خوش آمدید کہتے ہوئے دکھائی دئے۔اس سے عوام کو گمان ہورہا ہے کہ شاید جوشی پھر ایک بار جنتادل ایس میں شامل ہونے جارہے ہیں۔لیکن خود جوشی نے اخبار نویسوں کے اس سوال نہ دیتے ہوئے مسکرانے پر ہی اکتفا کیا۔

ایک دوسرے واقعے میں یلاپور پٹن پنچایت میں جے ڈی ایس سے تعلق رکھنے والے تنہا رکن سید قیصر کانگریس پارٹی کی طرف سے ویدویاس ہال میں منعقدہ پارٹی میں بلاک کانگریس صدر اور دیگر لیڈران کے ساتھ گھلتے ملتے دکھائی دئے۔ وہاں پر انہوں نے بھی اخبارنویسوں کو بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ فوٹو اتارنے کے لئے پوز دئے۔تیسری طرف جہاں تک بی جے پی کا تعلق ہے وہاں سے بھی یہ سن گن مل رہی ہے کہ پارٹی کے سابق رکن اسمبلی وی ایس پاٹل اس مرتبہ کانگریس یا جنتادل ایس میں شامل ہوکر شاید انتخابی اکھاڑے میں اترنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

 اس غیر یقینی او ربدلتے سیاسی منظر نامے میں اپنی اپنی پارٹیوں سے وفاداری نبھانے والے چھوٹے کارکنان اس الجھن میں ہیں کہ وہ آخر کس پر بھروسہ کریں اور کیا لائحہ عمل اپنائیں۔اس وجہ سے ممکن ہے کہ اس بار جو ضمنی انتخاب ہونے جارہا ہے اس میں نچلی سطح کے سیاسی کارکنان شاید زیادہ دلچسپی نہ لیں اور کسی ایک پارٹی کے لئے ہی مخلص ہوکر انتخاب جیتنے کے لئے میدان میں نہ اتریں۔کیونکہ جب قائدین ہی اس شاخ سے اس شاخ پر پھدکنے لگیں تو بے چارے کارکنان کیا کرسکتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل میں تیز رفتار کاربے قابو ہوکر بجلی کے کھمبے سے ٹکراگئی، کار کو شدید نقصان، بڑا حادثہ ٹلا

  یہاں نوائط کالونی نیشنل ہائی وے پرایک کار بے قابو ہوکر تیز رفتاری کے ساتھ بجلی کے کھمبے سے ٹکرا گئی، حادثے میں کسی کو جانی نقصان نہیں پہنچا، البتہ کار کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ حادثہ جمعرات صبح قریب سات بجے پیش آیا۔

بھٹکل نیشنل ہائی وے پر تیزرفتار بس، لاری سے ٹکراگئی؛ 25 سے زائد زخمی

یہاں وینکٹاپور نیشنل ہائی وے 66 پر ایک تیز رفتار بس، پارک کی ہوئی لاری سے  ٹکراگئی جس کے نتیجے میں بس پر سوار 25 سے زائد مسافر زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کو کنداپور اور باقی کو بھٹکل سرکاری اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔

شہریت ترمیمی بل کے خلاف بنگلورو میں کرناٹکامسلم متحدہ محاذ کے زیر اہتمام ملّی و سماجی تنظیموں کا زبردست احتجاجی مظاہرہ

سماج کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے والے مرکزی حکومت کے شہریت ترمیمی بل (سی اے بی) کے خلاف بنگلورو میں کرناٹکا متحدہ محاذ کے زیر اہتمام دوپہر 12بجے ٹاؤن ہال کے پاس ایک زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

کاروار:شیورام ہیبار بن گئے سیاسی گرو دیشپانڈے کوجھٹکا دینے والے تیسرے شاگرد!

ضلع شمالی کینرا کی سیاست میں گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنا سکہ چلانے والے سیاسی گرو آر وی دیشپانڈے کو انہی کے جن شاگردوں نے جھٹکا دے کر وزارتی قلمدان حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، ان میں تیسرے شاگرد کے طورپر شیو ہیبار ابھر کر سامنے آئے ہیں، کیونکہ ضمنی انتخاب میں جیت کے ...

  مسلم متحدہ محاذ، جماعت اسلامی ہند اور کئی تنظیموں کے ایک نمائندہ وفدکا سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڈا سے ملاقات اور شہریت ترمیمی بل   کی مخالفت اور دستور کے تحفظ میں تعاون کرنے کی اپیل

مسلم متحدہ محاذ، جما عت اسلامی ہند، سدبھاؤ نا منچ بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن کرناٹک، ایف ڈی سی اے، ایس آئی او، اے پی سی آر  اور مومنٹ فار جسٹس جیسے ہم خیال تنظیموں کی قیادت میں مسلم نمائندوں کا ایک وفد 7 / دسمبر 2019  ء  بروز سنیچر، سابق وزیر اعظم شری ایچ ڈی دیوے گوڈا سے ملاقات کرتے ...

بی جے پی حکمرانی کا زوال: 29 سے گھٹ کر 10 ریاستوں تک محدود ... آز: م. افضل

بی جے پی کے جولوگ کل تک کانگریس مکت بھارت کا نعرہ چیخ چیخ کر لگارہے تھے اب خاموش ہیں شایداس لئے کہ اب بی جے پی کا ہی دائرہ سمٹنے لگاہے، این ڈی اے بکھررہا ہے ،مودی کے مصنوعی طلسم کی قلعی بھی کھلتی جارہی ہے اور ایک ایک کرکے ریاستیں اس کی حکمرانی کی قید سے آزادہوتی جارہی ہیں ، تازہ ...

ہوناورمیں پریش میستا کی مشتبہ موت کوگزرگئے2سال۔ سی بی آئی کی تحقیقات کے باوجود نہیں کھل رہا ہے راز۔ اشتعال انگیزی کرنے والے ہیگڈے اور کرندلاجے کے منھ پر کیوں پڑا ہے تالا؟

اب سے دو سال قبل 6دسمبر کو ہوناور میں دو فریقوں کے درمیان معمولی بات پر شرو ع ہونے والا جھگڑا باقاعدہ فرقہ وارانہ فساد کا روپ اختیار کرگیا تھا جس کے بعد پریش میستا نامی ایک نوجوان کی لاش شنی مندر کے قریب واقع تالاب سے برآمد ہوئی تھی۔     اس مشکوک موت کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر پورے ...

6 دسمبر، جس نے ملک کی سیاست کا نقشہ بدل دیا۔۔۔۔۔۔۔۔از: ظفر آغا

’دسمبر 6‘ ہندوستانی سیاست کا وہ سنگ میل ہے جس نے سیاست کا نقشہ ہی پلٹ دیا۔ اسی روز 1992 کو ایودھیا میں مغل شہنشاہ بابر کے دور کی ایک چھوٹی سی مسجد منہدم ہوئی اور بس سمجھیے کہ اس روز ہندوستانی آئین میں سیندھ لگ گئی۔

ایودھیا معاملہ سے منسلک وہ شخصیات، جن کےکام کی وفاداری مذہب پربھاری ثابت ہوئی

سپریم کورٹ کے فیصلےکے بعد ایودھیا معاملے(مندر- مسجد تنازعہ) کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ 135 سال پہلے1885 میں شروع ہوئےایودھیا تنازعہ کی قانونی لڑائی میں کچھ کردارایسے رہے ہیں، جنہیں ان کی ڈیوٹی کے فرائض کولےکرہمیشہ یاد رکھا جائےگا،