بھٹکل کی سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے والے جانور اور نام نہاد گو رکشھکوں کی خاموشی (وسنت دیواڑیگا کی خصوصی رپورٹ)

Source: S.O. News Service | By V. D. Bhatkal | Published on 25th October 2016, 11:34 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل  :25/اکتوبر(ایس او نیوز) گذشتہ چار پانچ سالوں سے شہرمیں جانوروں اور کتوں کی آوارہ گردی میں حددرجہ اضافہ ہواہے، مگران  پر قابو پانے کی طرف کسی کا دھیان نہیں جارہا ہے ، ایک طرف ان جانوروں کی کوئی حفاظت کرنےو الا نہیں ہے ۔مگر دوسری طرف جب ان جانوروں کوکوئی لے جاتا ہے تو نام نہاد محافظ پیدا ہوجاتے ہیں، دیکھا جائے تو آوارہ جانوروں کا معاملہ پولس کے لئے بھی سردرد بن گیا ہے۔

کسی اورجگہ سے لاکر شہر میں چھوڑے گئے لاوارث  ڈیل ڈول کے جانور سڑک اور سڑک کےکنارے خالی جگہوں پرہی ڈیرا ڈالے رہتی ہیں۔ ان جانوروں سے ٹکرا کرسواریاں حادثوں کی شکار ہو رہی ہیں، بس اسٹانڈ، ہوٹلوں کے سامنے اور دیگر جگہوں پر بڑے بڑے جانوروں سے راہ گیر بھی گذرنے میں خوف محسوس کرتے ہیں۔ مصیبت یہ ہے کہ جانور اپنے ٹھکانے کو لوٹے بغیر جہاں تہاں آرام کرنے اور گھومنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ لاوارث جانوروں کو پکڑ کر ان کے مالکان کا پتہ چلانا بھٹکل بلدیہ اور پولس کے لئے دقت بھرا کام ہے۔ سڑک کنارے کا کچرا کتوں اورجانوروں کے لئے غذا بن رہاہے۔ لیکن عوام سوال اُٹھارہے ہیں کہ اپنے آپ کو گئو رکھشک کہنے والے غنڈے ان جانوروں کی حفاظت کرنے میں آگے کیوں نہیں آرہے ہیں ؟ عوام پوچھ رہے ہیں کہ ان جانوروں کی حفاظٹ کے لئے کیا وہ لوگ  آواز بلند کررہے ہیں؟ لوگوں کا کہنا ہے کہ گئو رکھشک کے نام نہاد لیڈرس ان جانوروں کو لے کر خاموش ہیں۔

بھٹکل بلدیہ نے ایک دومرتبہ آوارہ جانوروں کو پکڑ کر باندھنا شروع کیا تھا لیکن ان کی پرورش کے لئے کوئی راہ نہیں سوجھی تو اس کی فکر سے آزاد ہوکر سال گذرگیا ۔ اب جب کہ دن رات آوارہ گھومنے والے جانوروں کا کوئی وارث ہی نہیں ہے تو پھر چوروں کی منہ مانگی برات پوری ہورہی ہے، ادھر کچھ مہینوں سے چور ان آوارہ جانوروں پر گہری نظر رکھے ہوئے نگرانی کررہے ہیں۔ حال ہی میں ایک الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ آوارہ جانوروں کو رات کے اوقات میں باقاعدہ پکڑ کر سواریوں پر لاد کرلے جایا جارہا ہے۔اور کچھ لوگ شہر ، گلی محلوں کے سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے جانورسپلائی کی وڈیوز کی تلاشی میں ہیں لیکن بے چاروں کو جانوروں کا کوئی وارث نہیں مل پارہاہے اور نہ کوئی اس کے متعلق شکایت درج کرنے والا ہے۔ شہری پولس تھانہ ایس آئی کوڈگونٹی نے جانوروں کی چوری کے متعلق بتایا کہ اگر کوئی جانوروں کی چوری کے متعلق کوئی شکایت لے کر آتاہے تو اس کو نہ صرف درج کیا جائے گا بلکہ تفتیش کے ذریعے چوروں تک بھی پہنچا جائے گا۔ عوام کا کہنا ہے کہ جانوروں کی آوارہ گردی سے عورتوں اور بچوں کو بھی کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑرہاہے ، اس تعلق سے متعلقہ محکمہ کا مناسب اقدام ضروری ہے۔

شہر کےلوگوں کا کہنا ہے کہ جانوروں کے متعلق ہنگامہ برپا کرنے والے نام نہاد گئو رکھشکوںاور اُن کے اداروں کو آگے آکر ضروری قدم اٹھانا چاہئے اور ان کے ٹھکانے وغیرہ کا انتظام کرتے ہوئے جانوروں کی حفاظت کا کرنا چاہئے۔ آوارہ جانوروں کی نگرانی کےمتعلق عوامی سطح پر یہ سنا گیا کہ بھٹکل بلدیہ کی انتظامیہ کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ آوارہ جانوروں پر قد غن لگانے کے لئے بہتر قانونی انتظامات کرے۔

اس سلسلے میں بی جے پی لیڈر گوندنائک سے پوچھے جانے پر انہوں  نے بتایا کہ دنیا میں تمام جانوروں اور پرندوں کو جینے کا حق ہے، دن نکلنے سے پہلے ہی کچھ لوگ پیسہ کمانے کے لئے راستوں پر پائی جانے والے جانوروں کو چوری کرکے لے جاتے ہیں جو ایک جرم ہے ، اس سلسلے میں پولس کو ضروری اقدامات کرنے چاہئے ، اور پالتو جانوروں کو سڑکوں پر چھوڑنے کے متعلق مالکان کو بھی چوکنا رہنا چاہئے۔

ایک نظر اس پر بھی

اُلال کے رکن اسمبلی یوٹی قادر سے ایس ڈی پی آئی کا مطالبہ

جنوبی کینرا بنٹوال تعلقہ کے سجی پانڈو دیہات میں ہر سال بارش کے موسم میں گزشتہ 30 برسوں سے لوگوں کو ہمیشہ  پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ علاقہ اُلال کے رکن اسمبلی یوٹی قادر کے حلقہ میں آتا ہے اور یہاں مسلمانوں کی کثیر آباد ی ہے۔

منگلورو۔کاسرگوڈ سرحد پر مسافروں کیلئے پریشانی

ریاست میں گزشتہ ماہ اپریل سے ہی کورونا وائرس پھیلنے کے نتیجہ میں کیرالہ ۔ کرناٹک کی سرحد پر واقع کاسرگوڈ اور منگلورو کے درمیان روازنہ ملازمت اور تعلیم کے سلسلہ میں آنے جانے والے لوگوں کیلئے ہر دن نت نئی پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔

کاروار اسپتال سے 12 مزید لوگ ڈسچارج

بھلے ہی  ضلع اُترکنڑا میں کورونا پوزیٹیو کے معاملے ہر روز سامنے آرہے ہوں، لیکن کاروار اسپتال میں ایڈمٹ کورونا کے متاثرین  روبہ صحت ہوکر ڈسچارج ہونے کا سلسلہ بھی برابر جاری ہے۔

اُترکنڑا میں پھر 36 کورونا پوزیٹیو؛ بھٹکل میں بھی کورونا کے بڑھنے کا سلسلہ جاری؛ آج ایک ہی دن 19 معاملات

اُترکنڑا میں کورونا کے معاملات میں روز بروز اضافہ کا سلسلہ جاری ہے اور آج منگل کو بھی ضلع کے مختلف تعلقہ جات سے 36 کورونا کے معاملات سامنے آئے ہیں جس میں صرف بھٹکل سے پھر ایک بار سب سے زیادہ  یعنی 19 معاملات سامنے آئے ہیں۔ کاروار میں 6،  ہلیال میں 3،  کمٹہ، ہوناور ...

دبئی سے بھٹکل و اطراف کے 181 لوگوں کو لے کر آج آرہی ہے دوسری چارٹرڈ فلائٹ؛ رات کو مینگلور ائرپورٹ میں ہوگی لینڈنگ

کورونا وباء اور اس کے بعد ہوئے لاک ڈاون سے  دبئی اور امارات میں پھنسے ہوئے 181 لوگوں کو لے کر آج دبئی سے دوسری چارٹرڈ فلائٹ مینگلور پہنچ رہی ہے۔ اس بات کا اطلاع بھٹکل کے معروف اورقومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم کے نائب صدر  جناب عتیق الرحمن مُنیری نے دی۔

منگلورو:گروپور میں منڈلارہا ہے مزید پہاڑی کھسکنے کا خطرہ۔ قریبی گھروں کو کروایا گیاخالی۔ مکینوں میں مایوسی اور دہشت کا عالم

گروپور میں اتوار کے دن بنگلے گُڈے میں پہاڑی کھسکنے سے جہاں  تین  مکان زمین بوس اور دو بچے، صفوان (16سال) اور سہلہ (10سال) جاں بحق ہوگئے تھے وہاں پر مزید پہاڑی کھسکنے کا خطرہ لوگوں کے سر پر منڈلا رہا ہے۔

ساری توجہ کورونا پر ہے تو کیا دیگر مریض مرجائیں۔۔۔ ؟؟ اسپتالوں میں علاج دستیاب نہ ہونے کے سبب غیر کورونا مریضوں کی اموات میں بے تحاشہ اضافہ

شہر بنگلورو میں کورونا وائرس جس تیزی سے پھیل رہا ہے اس کے ساتھ شہر میں صحت کا انفرسٹرکچر سرکاری سطح پر کس قدر ناقص ہے وہ سامنے آرہا ہے اس کے ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ بڑے بڑے اسپتال کھول کر انسانیت کی خدمت کرنے کا دعویٰ کرنے والے تجاری اداروں کے دعوے کورونا وائرس کے ...

بھٹکل میں ہیسکام کے بجلی بل کی ادائیگی کو لے کر تذبذب : حساب صحیح ہے، میٹر چک کرلیں؛افسران کی گاہکوں کو صلاح

تعلقہ میں لاک ڈاؤن کے بعد  ہیسکام محکمہ کی طرف سے جاری کردہ بجلی بلوں  کو لے کر عوام تذبذب کا شکار ہیں۔ ہاتھوں میں بل لئے ہیسکام دفتر کاچکر کاٹنے پر مجبور ہیں، کوئی مطمئن تو کوئی بے اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے پلٹ رہاہے۔ بجلی بل ایک  معمہ بن گیا ہے نہ سمجھ میں آر ہاہے نہ سلجھ ...

”مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے“ ۔۔۔۔۔ از:مولانا محمدحسن غانم اکرمیؔ ندوی ؔ

   اگر تمھارے پاس کوئی شخص اپنی امانت رکھوائے،اورایک متعینہ مدت کے لئے وہ تمھارے پاس رہے،کیا اس دوران اس چیز کا بغیر اجازت اور ناحق تم استعمال کروگے،کیا ا س میں اپنی من مانی کروگے؟یا چند دن آپ کے پاس رہنے سے وہ چیز تمھاری ہو جائے گی کہ جب وقت مقررہ آجائے اور مالک اس کی فرمائش ...