نئی دہلی 14 ستمبر (ایس او نیوز): الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس اتل شری دھرن گزشتہ چند ماہ کے دوران اپنے دو الگ الگ فیصلوں اور عدالتی مشاہدات کے باعث خبروں میں ہیں۔ انہوں نے ایک معاملے میں حکومت کی ’بلڈوزر کارروائی‘ پر سخت سوال اٹھاتے ہوئے اسے قانون کے بجائے انتقامی کارروائی قرار دینے کے رجحان پر تنقید کی، جبکہ دوسرے معاملے میں نوئیڈا میں مزدوروں کے احتجاج کے سلسلے میں گرفتار دہلی یونیورسٹی کی طالبہ اکرتی چودھری کی قومی سلامتی ایکٹ (NSA) کے تحت حراست کو منسوخ کرتے ہوئے ₹5 لاکھ معاوضہ دینے اور یہ رقم متعلقہ افسران کی تنخواہوں سے وصول کرنے کا حکم دیا۔
بلڈوزر کارروائی پر سخت تنقید: جولائی 2026 میں جسٹس شری دھرن نے ایک 51 صفحات پر مشتمل علیحدہ رائے میں اتر پردیش میں جرائم کے ملزمان کے مکانات یا املاک کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کرنے کے رجحان پر سخت اعتراض کیا۔ یہ معاملہ ایک تقسیم شدہ فیصلے سے متعلق تھا، جس میں ہمیرپور کے ایک خاندان نے الزام لگایا تھا کہ ایک رشتہ دار کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کے بعد ان کے مکان اور تجارتی املاک کو نشانہ بنایا گیا۔ جسٹس شری دھرن نے کہا کہ کسی جرم کے فوراً بعد مکان منہدم کرنا محض عوام کے ’انتقامی جذبے‘ کو مطمئن کرنے کے مترادف ہے اور سپریم کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ قانونی اصولوں کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔
جسٹس نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر کوئی غیر مجاز تعمیر برسوں تک موجود رہتی ہے تو متعلقہ بلدیاتی اور انتظامی افسران اس کے قیام کے وقت کارروائی کیوں نہیں کرتے۔ ان کے مطابق بعض معاملات میں سیاسی یا بیوروکریٹک پشت پناہی اور بدعنوانی کے باعث حکام جان بوجھ کر آنکھیں بند رکھتے ہیں اور بعد میں کسی فوجداری مقدمے کے بعد اسی عمارت کو کارروائی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
رام مندر عطیات کی مبینہ چوری پر بھی سخت ردعمل: اسی رائے میں جسٹس شری دھرن نے ایودھیا کے رام مندر کے عطیات کی مبینہ خرد برد کے تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر مندر جیسے مذہبی مقام پر عطیات کی چوری بھی معاشرے کو جھنجھوڑنے میں ناکام رہتی ہے تو یہ ہندوستانی معاشرے میں بدعنوانی اور اخلاقی گراوٹ کی انتہائی سنگین علامت ہے۔ انہوں نے اسے ہندوستانیوں کی دیانت داری کے ’نچلی ترین سطح‘ تک پہنچنے سے تعبیر کیا۔
جسٹس شری دھرن نے بدعنوانی کو معاشرے میں معمول بن جانے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ پارلیمنٹ کو بدعنوانی کے سنگین جرائم میں سزا مزید سخت کرنے اور انسدادِ بدعنوانی قانون میں سزائے موت کی گنجائش پر غور کرنا چاہیے۔ واضح رہے کہ یہ ان کی عدالتی رائے کا حصہ تھا، کوئی نافذ شدہ قانونی حکم یا موجودہ قانون میں تبدیلی نہیں۔
نوئیڈا طالبہ کی حراست اور ₹5 لاکھ معاوضہ: جسٹس شری دھرن اور جسٹس اچل سچدیو کی ڈویژن بنچ نے 2 ستمبر 2026 کو دہلی یونیورسٹی کی طالبہ اور کارکن اکرتی چودھری کی NSA کے تحت حراست کو منسوخ کردیا۔ اکرتی کو اپریل 2026 میں نوئیڈا میں مزدوروں کے احتجاج سے متعلق مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں اس پر NSA نافذ کیا گیا۔ عدالت کے مطابق حراست جاری رکھنے کے لیے پیش کیا گیا مواد اس سخت قانون کے استعمال کو جائز ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں تھا۔
عدالت نے گوتم بدھ نگر کی ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم کے حراست کے حکم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے طرز عمل کو ’قابلِ مذمت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آئینی حلف کی پاسداری میں ناکام رہیں۔ عدالت نے افسران کو یاد دلایا کہ ان کی وفاداری سیاسی انتظامیہ سے نہیں بلکہ آئین سے ہونی چاہیے۔
عدالت نے اکرتی چودھری کو ₹5 لاکھ معاوضہ دینے کا حکم دیا اور واضح کیا کہ یہ رقم ریاستی خزانے پر ڈالنے کے بجائے ان افسران کی تنخواہوں سے وصول کی جائے جو غیر قانونی حراست کے فیصلے کے ذمہ دار تھے، جس میں ضلع مجسٹریٹ اور متعلقہ پولیس افسران شامل ہیں۔ عدالت نے ان افسران کے سروس ریکارڈ میں بھی عدالت کی ناراضی درج کرنے کی ہدایت دی۔
عدالت نے متنبہ کیا کہ اگر بیوروکریسی اور پولیس اپنے آئینی فرائض سے تجاوز کرتی رہی تو اتر پردیش ایک ’اورویلین ڈسٹوپیا‘ کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
ریاستی حکومت کا سپریم کورٹ سے رجوع: اس فیصلے کے بعد اتر پردیش حکومت نے سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کرنے کا اعلان کیا۔ 9 ستمبر کو سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ کو بتایا کہ حکومت الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی۔ ضلع مجسٹریٹ میدھا روپم بھی ذاتی طور پر فیصلے میں ان پر عائد مالی ذمہ داری کے خلاف سپریم کورٹ پہنچ گئی ہیں۔
کیا حکومت کے خوف سے جسٹس شری دھرن کا تبادلہ ہوا تھا؟ جسٹس شری دھرن کے تبادلے کی تاریخ اس پورے معاملے کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ اگست 2025 میں سپریم کورٹ کالجیم نے انہیں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ سے چھتیس گڑھ ہائی کورٹ منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔ تاہم اکتوبر 2025 میں کالجیم نے حکومت کی جانب سے نظرثانی کی درخواست کے بعد اپنی سابقہ سفارش تبدیل کردی اور انہیں چھتیس گڑھ کے بجائے الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کرنے کی سفارش کی۔ صدر جمہوریہ نے 18 اکتوبر کو تبادلے کی منظوری دی اور جسٹس شری دھرن نے 11 نومبر 2025 کو الہ آباد ہائی کورٹ میں حلف لیا۔
یہ واقعہ اس لیے غیرمعمولی سمجھا گیا کہ سپریم کورٹ کالجیم نے خود اپنی قرارداد میں پہلی بار واضح طور پر درج کیا کہ فیصلہ مرکزی حکومت کی جانب سے نظرثانی کی درخواست کے بعد تبدیل کیا گیا۔ تاہم حکومت یا کالجیم نے یہ وجہ نہیں بتائی کہ شری دھرن کی تعیناتی چھتیس گڑھ کے بجائے الہ آباد کیوں کی گئی۔
کچھ قانونی حلقوں اور تجزیہ نگاروں نے اس تبادلے کو جسٹس شری دھرن کے سابقہ سخت عدالتی رویے سے جوڑا اور اسے عدالتی آزادی کے حوالے سے تشویش کا باعث قرار دیا۔
جسٹس شری دھرن اس وقت الہ آباد ہائی کورٹ کے جج ہیں اور عدالت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ان کی الہ آباد ہائی کورٹ میں شمولیت 11 نومبر 2025 کو ہوئی تھی، جبکہ ان کی ریٹائرمنٹ کی تاریخ 23 مئی 2028 درج ہے۔