نئی دہلی ، 14/ ستمبر (ایس او نیوز / ایجنسی) دِشا سالیان موت معاملہ میں مرکزی جانچ بیورو (سی بی آئی) نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ یہ قدم بامبے ہائی کورٹ کے 2 ستمبر کے حکم کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ عدالت نے اس معاملہ میں سی بی آئی کو ایف آئی آر درج کر جانچ کرنے کی ہدایت دی تھی۔ عدالتی حکم کے مطابق سی بی آئی کو اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر جانچ آگے بڑھانی ہے۔ اب مرکزی ایجنسی نے پیش رفت کر دی ہے اور اس کے ساتھ ہی دِشا سالیان کی موت سے جڑے واقعات کی جانچ سی بی آئی کی سطح پر آگے بڑھنے والی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آنجہانی اداکار سشانت سنگھ راجپوت کے ساتھ بطور منیجر کام کرنے والی دِشا سالیان کی 8 جون 2020 کو ممبئی کے ملاڈ واقع ایک عمارت سے گر کر مشتبہ حالات میں موت ہو گئی تھی۔ ابتدا میں ممبئی پولیس نے اپنی جانچ کے بعد کہا تھا کہ اس میں کوئی گڑبڑی یا سازش نہیں تھی۔ لیکن موت کو مشتبہ بتاتے ہوئے دِشا کے والد نے بامبے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا اور سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا تھا۔ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد اب سی بی آئی اس معاملے میں ایف آئی آر درج کر نئے سرے سے جانچ کر رہی ہے۔
عدالت نے یہ صاف کیا کہ جب تک جانچ کے دوران کسی کے خلاف موافق ثبوت نہیں مل جاتے، تب تک کسی کو بھی ملزم نہیں مانا جائے گا۔ عدالت نے 44 صفحات کے فیصلے میں کہا ہے کہ ’’پولیس کی جانچ میں بہت ساری اور واضح خامیاں ہیں۔ اس معاملے میں ہمارا ماننا ہے کہ پولیس کے پاس جرم کی جانچ کرنے کا کافی موقع تھا۔‘‘ ہائی کورٹ نے یہ بھی کہا کہ وہ ستیش سالیان کی طرف سے کچھ لوگوں پر عائد کیے گئے الزامات کا ذکر کرنے سے بچ رہا ہے۔ اس معاملے کی جانچ کرنا مرکزی ایجنسی کا کام ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس معاملے میں دِشا سالیان کی فیملی کی طرف سے مستقل سوال اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ فیملی کا الزام رہا ہے کہ دِشا کی موت محض حادثہ یا خودکشی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ اس میں قتل کا اندیشہ ہے۔ پہلے کی سماعت کے دوران بامبے ہائی کورٹ کی جسٹس بھارتی ڈانگرے اور جسٹس منجوشا دیشپانڈے کی ڈویژن بنچ نے بھی اس بات پر فکر ظاہر کی تھی کہ معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کی جگہ صرف حادثہ سے ہوئی موت کی رپورٹ (اے ڈی آر) درج کی گئی تھی۔ عدالت کے سامنے یہ بھی معاملہ اٹھا کہ فیملی نے قتل کے الزامات عائد کیے تھے، اس کے باوجود ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔
سماعت کے دوران ہائی کورٹ نے اس بات پر بھی سوال اٹھائے کہ دِشا سالیان کی موت کو تقریباً 5 سال گزر جانے کے بعد بھی ان کی فیملی کو پوسٹ مارٹم رپورٹ اور اے ڈی آر کی کاپی نہیں دی گئی تھی۔ ایڈووکیٹ نیلیش اوجھا نے پوسٹ مارٹم رپورٹ سے متعلق بھی سوال اٹھائے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ رپورٹ میں کئی ایسی باتیں ہیں جن سے شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دِشا 14ویں منزل سے چہرے کے بل گری تھی تو ان کے چہرے پر سنگین چوٹوں کا نہ ہونا سوال کھڑا کرتا ہے۔