ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں BPL، APL اور انتودیا راشن کارڈوں کی e-KYC لازمی، 30 ستمبر آخری تاریخ

کرناٹک میں BPL، APL اور انتودیا راشن کارڈوں کی e-KYC لازمی، 30 ستمبر آخری تاریخ

Tue, 08 Sep 2026 22:37:46    S O News
کرناٹک میں BPL، APL اور انتودیا راشن کارڈوں کی e-KYC لازمی، 30 ستمبر آخری تاریخ

بنگلورو، 8 ستمبر (ایس او نیوز): کرناٹک میں راشن کارڈ رکھنے والے صارفین کے لیے اہم اطلاع جاری کرتے ہوئے محکمۂ خوراک و شہری رسد نے 30 ستمبر 2026 تک e-KYC مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے۔ یہ ہدایت صرف BPL راشن کارڈ تک محدود نہیں بلکہ BPL، APL اور انتودیا انا یوجنا (AAY) راشن کارڈ میں درج مستفیدین پر لاگو ہوتی ہے۔ راشن کارڈ میں درج ہر فرد کو اپنے آدھار کے ذریعے شناخت کی تصدیق کرانی ہوگی۔

محکمۂ خوراک کی اس مہم کا مقصد راشن کارڈ کے ریکارڈ کو تازہ کرنا، حقیقی مستفیدین کی شناخت کی تصدیق کرنا اور فوت ہوچکے، مستقل طور پر منتقل ہوچکے یا کسی وجہ سے اب اہل نہ رہنے والے افراد کے ناموں کی نشاندہی کرنا ہے۔ کنڑا میڈیا کے مطابق جن مستفیدین کی گزشتہ e-KYC کو تقریباً پانچ سال مکمل ہوچکے ہیں، انہیں دوبارہ e-KYC کرانی ہوگی۔

BPL اور APL دونوں کے لیے: ریاستی وزیرِ خوراک و شہری رسد رضوان ارشد نے راشن کارڈ کے مستفیدین، جن میں BPL اور APL دونوں شامل ہیں، سے 30 ستمبر تک KYC مکمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

e-KYC کہاں کرائی جائے؟ راشن کارڈ میں نام درج ہر فرد اپنے قریبی Fair Price Shop (سرکاری مناسب دام کی دکان) پر جاکر بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے e-KYC مکمل کراسکتا ہے۔ کنڑا میڈیا کے مطابق یہ عمل مفت ہے اور اس کے لیے کسی قسم کی فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

کون سی دستاویزات درکار ہیں؟ e-KYC کے لیے راشن کارڈ اور متعلقہ افراد کے آدھار کارڈ کی تفصیلات ساتھ رکھنا مفید ہوگا۔ بایومیٹرک تصدیق کے ذریعے آدھار سے شناخت کی تصدیق کی جاتی ہے۔

e-KYC نہ کرانے سے کیا ہوگا؟ ذرائع نے متنبہ کیا ہے کہ مقررہ مدت میں e-KYC مکمل نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ فرد کا نام راشن کارڈ کے ریکارڈ سے ہٹایا جاسکتا ہے اور اس فرد سے متعلق راشن کی سہولت متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم اسے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ 30 ستمبر کے بعد ہر راشن کارڈ فوراً منسوخ کردیا جائے گا۔ کارروائی متعلقہ فرد کے e-KYC اسٹیٹس اور محکمۂ خوراک کے قواعد کے مطابق ہوگی۔

BPL کارڈوں کی منسوخی کا معاملہ الگ: کرناٹک میں حالیہ دنوں BPL راشن کارڈوں کی اہلیت پر بھی نظرثانی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے تقریباً 7.5 لاکھ ایسے راشن کارڈوں کی نشاندہی کی گئی تھی جنہیں مبینہ طور پر قواعد کی خلاف ورزی کے زمرے میں رکھا گیا تھا۔ ان میں سے تقریباً چار لاکھ کارڈوں پر کارروائی ہوچکی تھی، جبکہ باقی تقریباً 3.5 لاکھ کارڈوں کی منسوخی کا عمل وزیرِ خوراک کی ہدایت پر فی الحال روک دیا گیا ہے تاکہ تفصیلی جائزہ لیا جاسکے۔

اس لیے BPL کارڈ کی منسوخی کا معاملہ اور موجودہ e-KYC مہم دو الگ معاملات ہیں۔ e-KYC تمام متعلقہ راشن کارڈ زمروں کے مستفیدین کا ریکارڈ اپ ڈیٹ اور تصدیق کرنے کے لیے ہے، جبکہ BPL کارڈوں کی منسوخی سے متعلق کارروائی کو فی الحال الگ سے روک دیا گیا ہے۔

فنگر پرنٹ نہ آنے کی صورت میں: ذرائع کے مطابق اگر بایومیٹرک تصدیق کے دوران فنگر پرنٹ اسکین نہ ہو تو دوبارہ کوشش کی جاسکتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر آدھار بایومیٹرک کو اپ ڈیٹ کرانے کے بعد دوبارہ e-KYC کی جاسکتی ہے۔

فراڈ سے محتاط رہیں: راشن کارڈ e-KYC کے نام پر فون کرکے OTP یا دوسری حساس معلومات مانگنے والے افراد سے محتاط رہنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔ e-KYC کے لیے کسی نامعلوم شخص کو OTP یا آدھار سے متعلق خفیہ معلومات فراہم نہ کی جائیں۔

محکمۂ خوراک کے مطابق اس عمل کا بنیادی مقصد راشن کی سہولت کو حقیقی اور اہل مستفیدین تک پہنچانا اور راشن کارڈ کے ریکارڈ میں موجود غلط، پرانے یا غیر فعال اندراجات کو درست کرنا ہے۔ لہٰذا کرناٹک کے BPL، APL اور AAY راشن کارڈ میں نام رکھنے والے افراد کو 30 ستمبر 2026 سے پہلے اپنی e-KYC کی صورتحال چیک کرکے، جہاں ضرورت ہو، اسے مکمل کرالینا چاہیے۔


Share: