ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / یو سی سی کے بجائے ذات پات کے خاتمے پر توجہ دی جائے: ادت راج

یو سی سی کے بجائے ذات پات کے خاتمے پر توجہ دی جائے: ادت راج

Mon, 14 Sep 2026 18:38:20    S O News

نئی دہلی ، 14/ ستمبر (ایس او نیوز / ایجنسی) مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے اس اعلان پر کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والا این ڈی اے 2029 تک 21 ریاستوں میں یکساں سول کوڈ (یو سی سی) نافذ کرے گا، کانگریس رہنما ادت راج نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی حقیقی ترقی کے لیے سب سے پہلے ذات پات کے نظام کا خاتمہ ضروری ہے۔

ادت راج نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یکساں سول کوڈ نافذ کرنے سے کیا فائدہ ہوگا؟ اس کے بجائے ذات پات کے نظام کو ختم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ ذات پات کا نظام ختم ہوئے بغیر ملک کی حقیقی ترقی نہیں ہو سکتی۔‘‘

انہوں نے کہا کہ یو سی سی کے نفاذ سے ملک میں ذات کی بنیاد پر موجود تقسیم کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ ان کے بقول، ’’یو سی سی نافذ کرنے سے کیا ہوگا؟ کیا ذات پات ختم ہو رہی ہے؟ ذات پات ختم ہونی چاہیے۔ جب تک ہندوستان ذات کی بنیاد پر تقسیم رہے گا، تب تک سائنس اور ٹیکنالوجی میں کوئی ترقی نہیں ہوگی۔‘‘ کانگریس رہنما نے حکومت پر مذہبی تقسیم کو ہوا دینے والا بیانیہ اختیار کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے کہا، ’’وہ ہندو-مسلم کا بیانیہ بنانا چاہتے ہیں تاکہ ان کا ووٹ بینک برقرار رہے۔‘‘

واضح رہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے حال ہی میں کہا تھا کہ این ڈی اے کی حکومت والی ریاستوں میں یکساں سول کوڈ مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا اور 2029 تک 21 ریاستوں میں اس کے نفاذ کا ہدف ہے۔ اپوزیشن جماعتیں اس اعلان پر مسلسل سوال اٹھا رہی ہیں۔

دریں اثنا، ہندوستان اور افغانستان کے درمیان ٹی-20 بین الاقوامی میچ سے قبل قومی ترانے سے پہلے ’وندے ماترم‘ گائے جانے کے معاملے پر بھی ادت راج نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے اور اسے غیر ضروری طور پر موضوع بنانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ انہوں نے کہا، ’’اصل بات تو یہ ہے کہ انہوں نے اچھا کھیلا۔ وہ جیتے اور ہم انہیں ان کی جیت پر مبارک باد دیتے ہیں۔‘‘

ہندوستانی خواتین کرکٹ ٹیم کی جانب سے ایشیائی کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے چیئرمین محسن نقوی سے خواتین ایشیا کپ کی ٹرافی وصول نہ کرنے کے معاملے پر بھی ادت راج نے ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اس معاملے کو "پھر وہی ڈراما، بے کار کا ڈراما اور ایونٹ والا ڈراما" قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ جب پاکستان کی ٹیم ہندوستان آ چکی ہے، پاکستانی کھلاڑی یہاں موجود ہیں، یہیں رہ رہے ہیں اور میچ کھیل رہے ہیں تو ان کے ہاتھ سے ٹرافی نہ لینے کا فیصلہ بے معنی ہے۔ ادت راج نے کہا، "جب پاکستان کی ٹیم آ چکی ہے، پاکستانی کھلاڑی یہاں آئے ہیں، یہیں رہ رہے ہیں اور کھیل رہے ہیں، تو ان کے ہاتھوں سے ٹرافی نہ لینے کا یہ ڈراما بے تکا ہے۔"


Share: