نئی دہلی، یکم مارچ (ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )مرکزی وزیرمملکت برائے داخلہ کرین رجیجو نے آج ایک بار پھر کہا کہ انہوں نے دہلی یونیورسٹی کی طالبہ گرمہر کور کے بارے میں جو کہا تھا وہ آج بھی اپنی بات پر قائم ہیں ۔انہوں نے پھر کہا کہ 20سالہ طالبہ کا استعمال کٹھ پتلی کی طرح کیاگیاہے،وہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب انہوں نے ٹوئٹ کیا تھا، تب انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ گرمہر کور کو ریپ کی دھمکی دی گئی ہے۔منگل کو اپنے ٹوئٹ میں رجیجو نے کہا تھا کہ کون ہے جو اس نوجوان لڑکی کے دماغ کو آلودہ کر رہا ہے، ان کے اس بیان کی بہت سے لوگوں نے تنقید کی تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ مضبوط فوج سے جنگ روکی جا سکتی ہے، ہندوستان نے کبھی کسی پر حملہ نہیں کیا، لیکن کمزور ہندوستان پر ہمیشہ حملے ہوئے ہیں۔رجیجو نے گرمہر کور کی ایک پرانی ویڈیو پر اپنی رائے کا اظہار کیا تھا، جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ اس کے والد جنگ نے مارا ہے نہ کہ پاکستان نے۔واضح رہے کہ اس کے والد فوج میں افسر تھے جن کی1999میں ایک حملے میں موت ہو گئی تھی۔یہ پوسٹ اس وقت سامنے آیا ، جب گرمہر کور نے اے بی وی پی کے خلاف مہم میں آن لائن حصہ لیا اور کہا کہ وہ اے بی وی پی سے نہیں ڈرتی ہیں۔اتوار کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے گرمہر کور جذباتی ہوگئیں اور بتایا کہ انہیں ریپ اور قتل کی دھمکی دی جا رہی ہے۔مرکزی وزیر کا کہنا ہے کہ انہیں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں ، کیونکہ وہ منی پور میں انتخابی مہم میں مصروف تھے۔