بیجنگ / تہران 13/مارچ (ایس او نیوز/پی ٹی آئی/ایجنسی) چین نے ایران میں ایک اسکول پر ہونے والے مہلک بم حملے کے متاثرین کی مدد کے لیے دو لاکھ امریکی ڈالر کی ہنگامی مالی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چینی حکام کے مطابق یہ امداد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جا رہی ہے تاکہ حملے میں جاں بحق ہونے والوں کے خاندانوں اور زخمیوں کی مدد کی جا سکے۔
چین کی سرکاری امدادی تنظیم ریڈ کراس سوسائٹی آف چائنا نے کہا ہے کہ یہ رقم ایران کی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ذریعے متاثرہ خاندانوں تک پہنچائی جائے گی۔ امدادی رقم کا مقصد حملے میں متاثر ہونے والے افراد کو فوری ریلیف فراہم کرنا اور زخمیوں کے علاج معالجے میں معاونت کرنا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان کے شہر میناب میں ایک لڑکیوں کے اسکول کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں طالبات اور دیگر افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ حملے کے وقت اسکول میں کلاسیں جاری تھیں اور دھماکے کے باعث عمارت کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا، جس کے بعد امدادی ٹیموں نے ملبے سے لاشیں اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے کئی گھنٹوں تک کارروائی جاری رکھی۔
چین کی وزارت خارجہ نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہریوں، خصوصاً بچوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ معصوم شہریوں پر حملے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں اور ایسے واقعات بین الاقوامی انسانی قوانین کے خلاف ہیں۔
ادھر اس حملے کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔ ایرانی حکام نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ایک سنگین سانحہ قرار دیا ہے اور اس کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی سطح پر بھی اس واقعے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور متعدد ممالک و انسانی حقوق کی تنظیموں نے شہری ہلاکتوں پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔