نئی دہلی 13/مارچ (ایس او نیوز): مغربی ایشیا خصوصاً خلیج فارس میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری سلامتی سے متعلق خدشات کے درمیان ہندوستان کے لئے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق خام تیل سے بھرے دو آئل ٹینکر حساس سمجھی جانے والی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو کامیابی کے ساتھ عبور کرکے ہندوستانی بندرگاہوں تک پہنچ گئے ہیں، جس کے بعد ملک میں توانائی سپلائی کے حوالے سے پائی جانے والی تشویش میں کسی حد تک کمی آنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ان میں سے ایک بڑا سُویز میکس آئل ٹینکر “شین لونگ (Shenlong)” ہے جو لائبیریا کے پرچم کے تحت چلنے والا جہاز ہے۔ یہ ٹینکر سعودی عرب کے اہم تیل برآمدی بندرگاہ راس تنورہ سے خام تیل لے کر ہندوستان کے مغربی ساحل پر واقع ایک بندرگاہ تک پہنچا۔ بتایا جاتا ہے کہ خطے میں کشیدگی کے ماحول کے باوجود اس جہاز نے احتیاطی اقدامات کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک اور آئل ٹینکر بھی اسی عرصے کے دوران خلیج فارس سے نکل کر بحیرہ عرب کے راستے ہندوستانی ساحل تک پہنچا۔ دونوں جہازوں کی محفوظ آمد کو اس لحاظ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ حالیہ دنوں میں اس آبی گزرگاہ میں بحری حملوں اور کشیدگی کے باعث کئی جہازوں نے راستہ بدل لیا تھا یا اپنی رفتار کم کردی تھی۔
اطلاعات کے مطابق آبنائے ہرمز عبور کرتے وقت دونوں ٹینکروں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر اپنے آٹومیٹک آئیڈینٹیفیکیشن سسٹم (AIS) کو عارضی طور پر بند کردیا تھا۔ اس وجہ سے کچھ عرصے تک عالمی جہاز رانی کے ٹریکنگ سسٹمز پر ان کی نقل و حرکت ظاہر نہیں ہو رہی تھی، جس کے بعد یہ جہاز خلیج فارس سے نکل کر بحیرہ عرب کے راستے محفوظ طریقے سے ہندوستان پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ ہندوستان کی مجموعی خام تیل درآمدات کا بھی بڑا حصہ اسی راستے سے آتا ہے، اس لئے اس علاقے میں پیدا ہونے والی کسی بھی قسم کی کشیدگی براہ راست ہندوستان کی توانائی سلامتی پر اثر ڈال سکتی ہے۔
ادھر خلیج فارس میں حالیہ کشیدگی کے بعد ہندوستانی حکومت بھی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق نئی دہلی نے خطے کے کئی ممالک سے رابطے قائم کئے ہیں تاکہ ہندوستانی جہازوں اور توانائی سپلائی کے راستوں کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
توانائی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ دو ٹینکروں کی محفوظ آمد ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے پیش نظر عالمی توانائی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔ اگر آبنائے ہرمز میں نقل و حمل متاثر ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی تیل کی قیمتوں کے ساتھ ساتھ ہندوستانی توانائی مارکیٹ پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
اس کے باوجود ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید آئل ٹینکر اسی راستے سے ہندوستان پہنچنے کی توقع ہے، جس سے خام تیل کی سپلائی میں تسلسل برقرار رہ سکتا ہے اور ملک میں توانائی بحران کے خدشات کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔