نئی دہلی 13/مارچ (ایس او نیوز): ملک کی پارلیمنٹ میں ایک غیر معمولی سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں اپوزیشن جماعتوں کے 193 ارکانِ پارلیمنٹ (ایم پیز) نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے لئے باضابطہ نوٹس جمع کرا دیا ہے۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن کی قیادت نے اپنے منصب کے دوران جانبدارانہ اور امتیازی رویہ اختیار کیا، جس سے انتخابی نظام کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھے ہیں۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق یہ نوٹس پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، لوک سبھا اور راجیہ سبھا، میں جمع کرایا گیا ہے اور اس پر 130 لوک سبھا اور 63 راجیہ سبھا ارکان کے دستخط ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 193 ارکان نے اس اقدام کی حمایت کی ہے، جو آئینی طریقہ کار کے تحت درکار کم از کم تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔
اپوزیشن کے الزامات
اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر نے اپنے منصب کا استعمال کرتے ہوئے بعض معاملات میں سیاسی جانبداری دکھائی اور انتخابی عمل کے دوران ایسے فیصلے کئے جن سے حکمران جماعت کو فائدہ پہنچا۔ اس سلسلے میں ان کے خلاف متعدد الزامات عائد کئے گئے ہیں جن میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (Special Intensive Revision) کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں اور دیگر انتظامی فیصلوں پر اعتراضات شامل ہیں۔
اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام جمہوری اداروں کی شفافیت برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے۔ ان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر جیسے آئینی عہدے پر فائز شخص سے مکمل غیر جانبداری کی توقع کی جاتی ہے اور اگر اس پر سوال اٹھیں تو پارلیمنٹ کو کارروائی کا حق حاصل ہے۔
کن جماعتوں نے حمایت کی؟
ذرائع کے مطابق اس نوٹس پر انڈیا بلاک (I.N.D.I.A) کی بیشتر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے دستخط کئے ہیں۔ اس کے علاوہ عام آدمی پارٹی کے ارکان نے بھی اس اقدام کی حمایت کی ہے، حالانکہ وہ اب باضابطہ طور پر اس اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔ بعض آزاد ارکان پارلیمنٹ نے بھی اس پر دستخط کئے ہیں جبکہ مزید ارکان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش جاری ہے۔
آئینی طریقہ کار کیا ہے؟
بھارت میں چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کا طریقہ کار انتہائی سخت ہے اور اس کا طریقہ کار تقریباً سپریم کورٹ کے جج کی برطرفی جیسا ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ میں اس کے لئے نوٹس پیش کرنے کے لئے لوک سبھا میں کم از کم 100 اور راجیہ سبھا میں 50 ارکان کے دستخط ضروری ہوتے ہیں۔ اس کے بعد اسپیکر یا چیئرمین اس نوٹس کی جانچ کرتے ہیں اور اگر اسے قابلِ قبول قرار دیا جائے تو پارلیمنٹ میں باقاعدہ کارروائی شروع ہوتی ہے۔
سیاسی اثرات
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ اقدام پارلیمنٹ اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان ایک بڑے سیاسی ٹکراؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ اگرچہ صرف نوٹس جمع کرانے سے فوری برطرفی نہیں ہوتی، لیکن اس کے بعد پارلیمانی عمل شروع ہونے کی صورت میں یہ معاملہ قومی سیاست کا اہم موضوع بن سکتا ہے۔
گیانیش کمار کون ہیں؟
گیانیش کمار ایک سینئر سابق آئی اے ایس افسر ہیں اور 19 فروری 2025 کو بھارت کے چیف الیکشن کمشنر مقرر ہوئے تھے۔ وہ اس سے قبل الیکشن کمشنر اور مرکزی حکومت میں مختلف اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
سیاسی حلقوں میں اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ بھارت کی تاریخ میں کسی موجودہ چیف الیکشن کمشنر کو ہٹانے کے لئے اس نوعیت کا اقدام انتہائی کم دیکھنے میں آیا ہے، اور اب پارلیمنٹ میں اس معاملے پر ہونے والی آئندہ کارروائی پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔