ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پتور: عورت اور بچے کے قاتل کو سزائے موت

پتور: عورت اور بچے کے قاتل کو سزائے موت

Sun, 14 Aug 2016 12:21:38    S.O. News Service

پتورو13/اگست (ایس او نیوز) سن 2008میں ایک خاتون اور اس کے تین سالہ بچے کو قتل کرنے اور زیورات لوٹنے والے قاتل کو یہاں کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنس کورٹ نے سزائے موت سنائی ہے۔

 تفصیلات کے مطابق شیراڈی اڈّا ہولے کے رہنے والے جیش عرف جیش کانتا عرف شاکر عرف ساحر(۶۲سال)نے اپنے کزن لوہیت نامی شخص کی بیوی سومیا(۳۲سال) اوراس کے تین سالہ بیٹے جیشنو کو اگست 2008میں قتل کیا تھا۔اپن انگڈی پولیس اسٹیشن میں لوہیت کی جانب سے درج شکایت کے مطابق شام کے وقت جب وہ گھر لوٹ رہاتھا تو اس نے اپنے گھر سے جیش کو بڑی عجلت میں باہر نکلتے ہوئے دیکھا۔ پھر جب وہ گھر میں داخل ہواتو اس کی بیوی اور بچے کو خون میں لت پت پڑا ہوا پایا۔ ساتھ ہی مقتول سومیا کے گلے سے دس گرام سونے کی چین اور دیگر زیورات بھی غائب پائے گئے۔

ذرائع کے مطابقاس دوہرے قتل کے بعد قاتل جیش کیرالہ کی طرف فرار ہوگیااور اپنا نام بدل کر ساحر رکھ لیا۔پولیس کے بیان کے مطابق وہ راحیہ نامی ایک خاتون کے ساتھ مختلف مقامات پر کرایے کے مکانوں میں رہنے لگا۔اکتوبر 2012میں جیش اور اس کے دوست انس نے اس عورت کے ساتھ شراب کے نشے میں مار پیٹ کی جس کے بعد پولیس نے انس کو گرفتار کرلیا مگر جیش بھاگ کھڑا ہوا۔مقامی لوگوں نے اس کا پیچھا کیا تو دیکھا کہ وہ ایک ناریل کے درخت پر چڑھ کر چھپا بیٹھا ہے۔پھر فائر بریگیڈ کو طلب کرکے اسے ناریل کے درخت سے اتارنے کے بعد گرفتار کرلیا گیا۔

 جب کیرالہ پولیس نے تفتیش کی تو یہ بات سامنے آئی کہ یہ شخص پتور کے دوہرے قتل کا ملزم ہے۔اس وقت پتور کے سرکل انسپکٹر سریش کمار بی نے جو کہ اس وقت منگلوروایسٹ پولیس اسٹیشن میں خدمات انجام دئے رہیں، اس کیس کی مکمل تحقیقات کی اور ملزم سے چرائے گئے گہنے برآمد کرنے کے ساتھ کیس کے لئے ضروری شواہد جمع کرلئے۔اور اکتوبر 2012میں عدالت میں چارج شیٹ داخل کی ۔ عدالت میں تقریباً چالیس گواہوں کو پیش کیا گیا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ امسال اپریل کے مہینے میں عدالت میں پیشی کے وقت ملزم نے پھر ایک بار فرار ہونے کی کوشش کی تھی، جسے موقع پر موجود عوام نے دھر دبوچ لیا۔ پبلک پراسیکیوٹراشوک کمار نے  مقدمے کی پیروی کی اور ملزم کو کیفر کردار تک پہنچا کر دم لیا۔
 


Share: