بغداد،14؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)عراق کے صوبہ نینویٰ کے گورنر نوفل العاکوب کی جانب سے حال ہی میں جہاد بالنکاح سے متعلق ایک بیان پرجہاں ایک نئی بحث جاری ہے وہیں ان کے بھانجے کے قتل کے واقعے کو بھی ان کے اس بیان کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔گورنر نینویٰ نوفل العاکوب نے حال ہی میں داعش کے تسلط سے چھڑائے گئے علاقوں میں مجہول النسب بچوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت کو ان بچوں کے حقیقی والدین کی تلاش میں مشکل کا سامنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ موصل میں اندھا دھند گرفتاریوں اور تشدد کے واقعات کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ داعشی جنگجو لوگوں کی صفوں میں گھسے ہوئے ہیں۔ داعش کے قبضے سے چھڑائے گئے بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کے نسب کی نشاندہی میں بھی مشکلات درپیش آ رہی ہیں۔ ایسے لگ رہا ہے کہ بڑی تعداد میں بچے داعش کے جہاد بالنکاح کا نتیجہ ہیں۔ گورنر نینویٰ کے اس بیان پر موصل کی خواتین میں تشویش اور غم وغصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مقامی شہریوں کی طرف سے گورنر کے بیان کو خواتین کی توہین قرار دیا جا رہا ہے۔اگرچہ گورنر کے دفتر سے جاری ایک بیان میں عوامی رد عمل کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ گورنر نوفل العاکوب کے بیان مو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔
ادھر ایک دوسری پیش رفت میں جمعہ کے روز نینویٰ گورنر کے جواں سال بھانجے کو نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ 26سالہ صفوک وطبان السلطان کو عراق کے صوبہ کردستان کے صدر مقام اربیل میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔ وطبان سلطان کے قتل کو ان کے مامو نوفل العاکوب کے جہاد بالنکاح سے متعلق متنازع بیان کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گورنر کے بھانجے کو بہت قریب سے سر میں ایک گولی ماری گئی جو جان لیوا ثابت ہوئی ہے۔ ایک مقامی عہدیدار نے شناخت ظاہرنہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ گورن کے قریبی عزیز کو اس کے گھر کیباہر گولیاں ماری گئیں۔