ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / عورتوں اور بوڑھوں پر زیادتی کئے پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے

عورتوں اور بوڑھوں پر زیادتی کئے پولیس اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے

Thu, 04 Aug 2016 16:43:53    S.O. News Service

چنتامنی میں کرناٹک راجیہ رعیت سنگھا کا احتجاج کے موقع پر حکومت سے مطالبہ 

چنتامنی:4 /اگست(محمد اسلم؍ایس اونیوز )نرگندہ تعلقہ کے یمنور اور دیگر مقامات پر کرناٹک بند کے دوران پولیس جوانوں نے عورتوں ،بچوں،بوڑھوں پر جو زیادتیاں کی ہیں ان تمام پولیس اہلکاروں کیخلاف بلاتاخیر قانونی کاروائی کرکہ ان پولیس جوانوں کو فوراََ معطل کیاجائے ۔اس حرکت کے لئے ذمہ دار انسپکٹر کو معطل کرکہ برائے نام صرف ڈی۔وائی۔ایس۔پی۔کا تبادلہ کردینا کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے ذمہ دار اعلیٰ افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے اور معاملے کی عدالتی جانچ کے احکامات صادر کئے جائیں ان سارے واقعات کے لئے اعلیٰ پولیس افسران کمل پنت اور بھاسکر راؤ ذمہ دار ہیں پہلے ان لوگوں کو معطل کیاجائے اگر فورراََ ان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی گئی تو 15اگست یوم آزادی کے موقع پرریاست کے رعیت یوم سیاہ منائیں گے ان خیالات کااظہار آج کرناٹکا راجیہ رعیت سنگھا و ہسیرو سینے کے کارکنان چنتامنی تعلق آفس کے روبرو احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا۔

احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ اپنا خون پسینہ بہاکر عوام کو اناج مہیاکروانے والے کسانوں پر لاٹھی چارج کرانا سدرامیا حکومت کی کسان دشمنی پالیسی کی نہ صرف عکاسی کرتا ہے بلکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کانگریس حکومت کسانوں کی خوشحالی اور فلاح بہبودی کے لئے سنجیدہ نہیں ہے گزشتہ چند مہینے قبل کسان حکومت سے مستقل آبی سربراہی کا مطالبہ کرتے ہوئے بنگلور میں پر امن احتجاج کرنے کی کوشش کی تھی جس کا حکومت مستقل حل نکالنے کی بجائے کسانوں پر لاٹھی چارج کے زریعہ سے احتجاج کو دبانے کی کوشش کی ہے اگر حکومت کسانوں جائز حقوق کی یکسوئی کی بجائے ان پر لاٹھی چار ج کرکے یہ باور کروانے کی کوشش کی ہے کہ پانی مانگو تو گولی ملے گی ۔

احتجاجیوں نے کہا کہ یمنور اور الگواڈ ا دیہاتوں میں پولیس نے جس طرح خواتین ،بچوں اور معمر افراد کو چن چن کر نشانہ بنایا ہے اس حرکت کو انسانیت کے زمرہ سے باہر ہی دیکھا جانا چاہئے۔

مظاہرین نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دوسالوں میں ریاست میں کسانوں کی خود کشی عام ہوتی جارہی ہے خود کشی کے ان واقعات میں خشک سالی کے سبب پید ا ہونے والا بحران اور فصلوں کی تباہی اہم وجہ رہی ہے ۔کسانوں کی بڑھتی ہوئی خود کشی کے رجحان کی اہم وجہ ان کی محنت کا معقول نہ ملنا ہے جس کے باعث کسان اپنا وہ قرض بھی ادا کرنے سے قاصر ہیں ۔یہاں تک کے کیڑ مارا دویات کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی ہے ہیں جس سے کسان کو اپنی فصل کی آدھی قیمتی ملتی ہے جبکہ حکومت بھی اس حوالے سے کسانوں کو مدد کے لئے بڑے منصوبے شروع کرنے کے دعوے کی ہے حکومت ناقص زرعی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بینکوں میں کسانوں کے لئے قرضے کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔

احتجاجیوں نے پولیس افسران پر مزید الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مہادائی فیصلہ کے مخالفت میں پانی کیلئے احتجاج کررہے رعیتوں اور حاملہ خواتین،ضعیف عورتوں پر پولیس والوں نے غنڈہ گری کرتے ہوئے ان پر زبردستی لاٹھی چارج کرکے انہیں زخمی کیا ہے کے ذمہ دار وزیر داخلہ ڈاکٹر پرمیشور ہے ان کو فوراََ رعیتوں سے معافی مانگنے کے علاوہ لاٹھی چارج کئے گئے کسانوں کو معاوض دینے ہوگا ۔

اس احتجاج کے بعد تحصیلدار جے۔اے۔نارائن سوامی کو یادداشت پیش کیا گیا اس احتجاج میں کرناٹکا راجیہ رعیت سنگھا کے چکبالاپور ضلع کنوینرحسین صاحب،سی۔ناگیش،بائر اپا،جے۔ایس۔نارائن سوامی،کرشناریڈی،جے۔آر۔روی،منجوناتھ،وینکٹیش،نارائن ،منی سوامی،راجو،ستیش،سمیت کئی سنگھا کے کارکن وغیرہ موجود رہے۔


Share: