ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / پیٹرول اور ڈیزل کی کوئی قلت نہیں ہوگی، حکومت کا دعویٰ: 8 ہفتوں کے لیے ذخیرہ موجود

پیٹرول اور ڈیزل کی کوئی قلت نہیں ہوگی، حکومت کا دعویٰ: 8 ہفتوں کے لیے ذخیرہ موجود

Mon, 09 Mar 2026 13:45:13    S O News
پیٹرول اور ڈیزل کی کوئی قلت نہیں ہوگی، حکومت کا دعویٰ: 8 ہفتوں کے لیے ذخیرہ موجود

نئی دہلی ، 9/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باوجود ملک میں خام تیل کی قلت پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ حکومت کے مطابق ہندوستان کے پاس اس وقت تقریباً 250 ملین بیرل، یعنی لگ بھگ 4 ہزار کروڑ لیٹر خام تیل اور ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات کا ذخیرہ موجود ہے۔ سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر تیل کی عالمی سپلائی مکمل طور پر متاثر بھی ہو جائے تو بھی یہ ذخیرہ ملک کی پوری سپلائی چین کو تقریباً 7 سے 8 ہفتوں تک بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھنے کے لیے کافی ہوگا، اس لیے فی الحال پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی کمی کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔

یہ رپورٹ اس دعوے کی تردید کرتی ہے کہ ہندوستان کے پاس صرف25دن کا ذخیرہ بچا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان کی توانائی کی حفاظت اب کسی ایک راستے یا ملک پر منحصر نہیں ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی توانائی کی خریداری مکمل طور پر ’قومی مفاد‘ پر مبنی ہے۔ گزشتہ 10برس میں ہندوستان نے تیل سپلائی میں نمایاں طور پر توسیع کی ہے۔ ایک دہائی قبل ہندوستان صرف27ممالک سے تیل خریدتا تھا جو اب بڑھ کر40ہو گیا ہے۔ عالمی کشیدگی کے باوجود ہندوستان نے اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے نئی راہیں تلاش کی ہیں۔

آبنائے ہرمز کے بارے میں اکثر خدشات کا اظہار کیا جاتا ہےجو دنیا کے حساس ترین سمندری راستوں میں سے ایک ہے۔ تاہم ہندوستان نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے۔ اب ہندوستان کا صرف 40 فیصد خام تیل اسی راستے سے آتا ہے۔ بقیہ 60فیصد متبادل راستوں جیسے روس، مغربی افریقہ، امریکہ اور وسطی ایشیا سے آتا ہے۔ ’دینک بھاسکر‘ کی خبر کے مطابق رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وہ دن گزر گئے جب ہندوستان کی توانائی کی سلامتی ایک بحری راستے پر منحصر تھی۔

امریکی محکمہ خزانہ نے ہندوستانی ریفائنریز کو30دن کا خصوصی لائسنس دیا ہے۔ یہ لائسنس۳؍ اپریل تک کارآمد رہے گا۔ اس سے ہندوستان میں خام تیل کی قلت کا امکان ختم ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بحران فی الحال حل ہو گیا ہے۔

پاکستان میں قیمتوں میں 55فیصد اور جرمنی میں 22 فیصداضافہ ہوا ہے۔ پیٹرولیم پلاننگ اینڈ اینالیسس سیل (پی پی اے سی) کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اطلاع دی گئی کہ ہندوستان میں گزشتہ 4برس سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مستحکم ہیں۔ فروری2022 اور فروری2026 کے درمیان دہلی میں پیٹرول کی قیمتوں میں 67 فیصد کی معمولی کمی واقع ہوئی۔ اس کے برعکس اسی عرصے کے دوران پاکستان میں پیٹرول 55 فیصد اور جرمنی میں22 فیصد مہنگا ہوا۔

عوام کو مہنگائی سے بچانے کیلئے سرکاری تیل کمپنیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پبلک سیکٹر کی کمپنیوں کو پیٹرول اور ڈیزل پر24ہزار 5500 کروڑ روپے اور ایل پی جی پر لگ بھگ 40ہزار کروڑ کا نقصان ہوا ہے تاکہ ریٹیل قیمتوں میں اضافہ نہ ہو۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ 12برس میں ملک میں ایک بھی پیٹرول پمپ خشک نہیں ہوا۔

ہندوستان کیلئے اچھی بات یہ ہے کہ دنیا کے کئی دوسرے ممالک بھی تیل اور ایل این جی کی فراہمی میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں اس وقت ایل این جی کا اضافی ذخیرہ موجود ہے۔ 


Share: