ریاض،11؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)سعودی وزیر دفاع کے مشیر بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری نے زور دیا ہے کہ عرب فوجی اتحاد باغیوں کے مقابلے میں یمن کی آئینی حکومت کی سپورٹ جاری رکھے گا۔ انہوں نے باور کرایا کہ باغیوں کی جانب سے پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد کرنے کی دعوت ان ملیشیاؤں کی ناامیدی اور پریشانی کی عکاسی کرتی ہے۔عربی روزنامے ’’الشرق الاوسط‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے عسیری کا کہنا تھا کہ یمن میں باغی ملیشیاؤں کو زمینی طور پر بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا جہاں ملک کی 80فی صد اراضی پر آئینی حکومت کا کنٹرول ہے جب کہ مارچ 2015میں زمینی طور پر اس کا کہیں کنٹرول نہیں تھا۔بریگیڈیئر جنرل عسیری کے مطابق باغیوں کی جانب سے آئندہ ہفتے کے روز پارلیمنٹ کا اجلاس منعقد کرنے کی دعوت ان کے دیوالیے پن کی دلیل ہے ، وہ یہ سب کچھ کر کے عالمی برادری کو اشارہ دینا چاہتے ہیں کہ وہ یمن میں سیاسی خلا پُر کرنے کے خواہش مند ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب کی اراضی کے اندر سرحدی کارروائیوں کے علاقوں میں میزائل اور راکٹوں کا گرنا، یہ درحقیقت باغی ملیشیاؤں کی جانب سے ان کاری ضربوں کا ردعمل ہے جو یمنی فوج عرب اتحاد کی معاونت سے ان پر لگا رہی ہے۔
اس سے قبل یمنی وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے باور کرایا تھا کہ باغیوں کی جانب سے اعلان کردہ سیاسی کونسل آئینی طور پر کالعدم ہے۔المخلافی نے بدھ کے روز سعودی دارالحکومت ریاض میں ایک پریس کانفرنس میں یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی اور وزیراعظم کی جانب سے جاری بیان پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ ملیشیاؤں کی جانب سے پارلیمنٹ کا اجلاس بلانے کی دعوت یمن میں نئے اعلان جنگ کے مترادف ہے۔
ادھر آئینی حکومت کی حامی جنرل پیپلز کانگریس کی قیادت نے باغیوں کی جانب سے پارلیمنٹ کے استعمال کی کوشش کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ قیادت نے اپنے ایک بیان میں زور دیا ہے کہ خلیجی منصوبے میں تمام فریقوں کے درمیان سیاسی موافقت کو باور کرایا گیا ہے۔ آئینی حکومت کی تائید کرنے والی جنرل پیلز کانگریس کی قیادت کا کہنا ہے کہ معزول صدر صالح اور حوثیوں کے درمیان معاہدہ اور نام نہاد سیاسی کونسل کالعدم ہو چکے ہیں اس لیے کہ یہ آئین کے کسی فارمولے پر پورا نہیں اترتے ہیں۔