ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / جامعہ معاملے میں اپوزیشن لیڈر ساتھ آئے،مسئلہ ہندو،مسلمان کانہیں   کہا، مودی حکومت غیر آئینی بل نہ لائی ہوتی تو ایسے حالات نہ ہوتے

جامعہ معاملے میں اپوزیشن لیڈر ساتھ آئے،مسئلہ ہندو،مسلمان کانہیں   کہا، مودی حکومت غیر آئینی بل نہ لائی ہوتی تو ایسے حالات نہ ہوتے

Mon, 16 Dec 2019 20:28:26    S.O. News Service

نئی دہلی،16/دسمبر(آئی این ایس انڈیا) جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں ہوئے واقعہ پر اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں نے پیر کو مشترکہ پریس کانفرنس کی۔اپوزیشن پارٹیوں کی پریس کانفرنس میں کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد، کپل سبل، مارکسی کمیونسٹ پارٹی لیڈر سیتا رام یچوری، راشٹریہ جنتا دل لیڈر منوج جھا، بھارتی کمیونسٹ پارٹی ڈی راجہ اور آر ایل ڈی لیڈر شرد یادو موجود تھے۔

غلام نبی آزاد نے کہاکہ جامعہ یونیورسٹی میں طالب علموں کو باتھ روم میں گھس کر پولیس نے مارا۔طالبات کو بھی نہیں بخشا۔ہمارے وقت بھی طالب علموں کی تحریک ہوتی تھی لیکن اس وقت بغیر کسی وائس چانسلر اور پرنسپل کی اجازت سے پولیس کمپلیکس کے اندر نہیں جا سکتی تھی۔جب وائس چانسلر اور پراکٹر نے اجازت نہیں دی تو دہلی پولیس جو مرکزی حکومت کے ماتحت آتی ہے جامعہ یونیورسٹی کیمپس میں کیسے گھس گئی۔اس پر مرکزی حکومت جواب دے۔غلام نبی آزاد نے مزید کہاکہ میرے پاس جو ویڈیوز آیا اس میں طالبات بچاؤ بچاؤ چلا رہی تھیں۔ایسے واقعہ کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ملک کے کئی علاقوں میں طالب علموں کے احتجاج چل رہے ہیں۔کیرل، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، کولکا تہ، اعظم گڑھ، سورت، وارانسی، بہار، سیمانچل، اورنگ آباد، کانپور، ممبئی اور نارتھ ایسٹ میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔کئی مقامات پر انٹرنیٹ بند کر دیا گیا ہے۔پی ایم مودی کہتے ہیں کہ یہ سب کانگریس کروا رہی ہے تو میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ کانگریس میں اتنی طاقت ہوتی تو آپ اقتدار میں نہیں ہوتے۔ان احتجاجی مظاہروں کی ذمہ دار حکمران پارٹی ہے۔

پریس کانفرنس میں سی پی ایم لیڈر سیتا رام یچوری نے کہاکہ یہ مسئلہ ہندو مسلمان کا نہیں ہے۔یہ واقعہ (جامعہ معاملہ) جمہوریت پر حملہ ہے، آئین پر حملہ ہے۔پولیس کو یونیورسٹی کیمپس میں داخلے کی اجازت کس نے دی، اس کی عدالتی جانچ ہونی چاہئے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے یہ بھی کہاکہ اگر حکومت ایسا غیر آئینی بل نہ لائی ہوتی، تو ایسے حالات پیدا نہیں ہوتے۔بی جے پی اسے فرقہ وارانہ بنارہی ہے ہم اس کی مذمت کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ اتوار کی شام دہلی کے جامعہ نگر سے متصل سرائے جلینا کے پاس تین ڈی ٹی سی کی بسوں میں آگ لگائے جانے کے بعد سے ہنگامہ بڑھ گیا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علموں پر الزام ہے کہ انہوں نے بسوں میں آگ لگائی۔ان کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے۔طلبا نے بسوں کو آگ لگانے کے الزامات سے انکار کیا ہے۔جس وقت بسوں کو آگ کے حوالے کیا گیا، اس وقت اندر سواریاں موجود تھیں۔بسوں میں خواتین اور بچوں کی چیخ پکارو کو بھی نظر انداز کیا گیا۔دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے بی جے پی کے اشارے پر پولیس پر بسوں کو آگ لگانے کا الزام لگایا ہے۔نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے کچھ تصاویر ٹویٹ کی ہیں۔ایک تصویر میں کچھ پولیس اہلکار بسوں کے قریب ہاتھوں میں گیلن لئے نظر آ رہے ہیں۔ سسودیا کا کہنا ہے کہ اس تصویر میں پولیس اہلکار آگ لگاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ دہلی پولیس کے پی آر او نے صفائی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان گیلن میں پانی تھا اور پولیس اہلکار بسوں میں لگی آگ بجھا رہے تھے۔جامعہ کا معاملہ سپریم کورٹ بھی پہنچ چکا ہے۔منگل کو اس کیس میں سماعت ہوگی۔


Share: