نئی دہلی ، 11/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)ملک کی 10 ریاستوں کی 37 نشستوں کیلئے ہونے والے راجیہ سبھا انتخابات میں 26 امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔ ان منتخب ہونے والوں میں این سی پی (ایس پی) کے صدر شرد پوار، کانگریس کے رہنما ابھیشیک منو سنگھوی اور مرکزی وزیر رام داس اٹھاولے جیسے سرکردہ لیڈران شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی مہاراشٹر، مغربی بنگال، تمل ناڈو، چھتیس گڑھ، آسام، ہماچل پردیش اور تلنگانہ کی نشستوں پر اب ووٹنگ کی ضرورت نہیں رہے گی۔ نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ گزرنے کے بعد اب راجیہ سبھا کی باقی 11 نشستوں کیلئے 16 مارچ کو انتخابات ہوں گے، جن میں بہار کی 5، اڈیشہ کی 4 اور ہریانہ کی 2 نشستیں شامل ہیں۔
مہاراشٹر میں 7، مغربی بنگال میں 5، تمل ناڈو میں 6، چھتیس گڑھ میں 2، آسام میں 3، ہماچل پردیش میں ایک اور تلنگانہ میں 2 راجیہ سبھا اراکین بلا مقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔ ان ریاستوں میں راجیہ سبھا کی جتنی نشستیں ہیں، اتنے ہی امیدوار میدان میں تھے۔ مہاراشٹر سے رام داس اٹھاولے، ونود تاوڑے، مایا چنتامن اور رام داس وڈکُٹ بی جے پی کے ٹکٹ پر بلامقابلہ منتخب ہوئے، این سی پی سے پارتھ پوار، شیوسینا سے جیوتی واگھمارے اور این سی پی (ایس پی) سے شرد پوار بھی بلا مقابلہ راجیہ سبھا رکن منتخب ہو گئے۔
تمل ناڈو سے ڈی ایم کے کے ٹی شیوا اور سی رویندرا، کانگریس کے ایم کرسٹوفر تلک، پی ایم کے کے انبومنی رام داس، ڈی ایم ڈی کے کے ایل کے سدھیش اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے ایم تھمبی دورئی راجیہ سبھا کے لیے بلامقابلہ منتخب ہو گئے ہیں۔ مغربی بنگال سے ٹی ایم سی کی مینکا گروسوامی، بابل سپریو، کوئل ملک، راجیو کمار اور بی جے پی کے راہل سنہا بلا مقابلہ راجیہ سبھا رکن منتخب ہوئے ہیں۔ آسام سے بی جے پی کے تیراش گوالا، جوگین موہن اور یو پی پی ایل کے پرمود بورو بلا مقابلہ راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہو گئے ہیں۔ چھتیس گڑھ سے بی جے پی کی لکشمی ورما اور کانگریس کی پھولو دیوی نیتام بلامقابلہ راجیہ سبھا کی رکن منتخب ہوئیں تو ہماچل کی ایک نشست پر کانگریس کے انوراگ شرما بلا مقابلہ جیتے ہیں۔ تلنگانہ سے کانگریس کے ابھیشیک منو سنگھوی اور ویم نریندر ریڈی بلامقابلہ راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے ہیں۔
دوسری جانب بہار، اڈیشہ اور ہریانہ کی 11 نشستوں کے لیے انتخاب ہوں گے۔ بہار کے طویل عرصے تک وزیر اعلیٰ رہنے والے نتیش کمار اور بی جے پی کے قومی صدر نتن نوین کے راجیہ سبھا کے لیے منتخب کیے جانے کا امکان ہے۔ جبکہ بہار میں ایک نشست کے لیے سخت مقابلہ دیکھنے کو ملے گا کیونکہ تاجر سے لیڈر بنے آر جے ڈی کے راجیہ سبھا رکن امریندر دھاری سنگھ کو پھر سے امیدوار بنایا گیا ہے۔ بہار سے دیگر این ڈی اے امیدواروں میں مرکزی وزیر رام ناتھ ٹھاکر اور اپیندر کشواہا اور شویش کمار شامل ہیں۔ واضح رہے کہ آر جے ڈی کے پاس 25 اراکین اسمبلی ہیں اور اسے اے آئی ایم آئی ایم اور بی ایس پی سے 6 ووٹ کی امید ہے۔ بہار اسمبلی کے سکریٹری کھیاتی سنگھ کے مطابق 6 امیدواروں میں سے کسی نے بھی اپنی نامزدگی واپس نہیں لی اور ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد ریاست میں پہلی بار ووٹنگ کی ضرورت پیش آئی ہے۔
اڈیشہ میں بھی ایک نشست کے لیے مقابلہ ہوگا۔ حکمراں جماعت بی جے پی کے 2 امیدوار ریاستی اکائی کے صدر منموہن سامل اور موجودہ راجیہ سبھا رکن سجیت کمار اور اپوزیشن بی جے ڈی کے سنتروپ مشرا اور ڈاکٹر دتیشور ہوتا میدان میں ہیں۔ جبکہ دلیپ رے نے بی جے پی کی حمایت سے آزاد امیدوار کے طور پر نامزدگی داخل کی ہے، جس سے ’کراس ووٹنگ‘ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ ہریانہ میں بھی ایک نشست کے لیے دلچسپ مقابلے کا انتظار ہے، جہاں پہلے بھی کراس ووٹنگ دیکھی گئی ہے۔ کانگریس کے پاس 37 اراکین اسمبلی ہیں اور ایک نشست جیتنے کے لیے اپوزیشن پارٹی کو پہلی ترجیح کے صرف 31 ووٹوں کی ضرورت ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 10 ریاستوں میں 37 نشستوں کے لیے 40 امیدواروں نے اپنی نامزدگی داخل کی تھی۔ 26 امیدواروں کے بلا مقابلہ منتخب کیے جانے کے بعد اب 11 نشستوں کے لیے 14 امیدوار میدان میں ہیں۔