نئی دہلی ، 11/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی)سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ موجودہ اسلامی قانونِ وراثت میں مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک پایا جاتا ہے، اس لیے اسے بھی تین طلاق کی طرح ختم کیا جانا چاہیے۔ یہ عرضی پولومی پوانی شکلا اور ’’نیا ناری فاؤنڈیشن‘‘ نامی تنظیم کی جانب سے داخل کی گئی ہے۔ منگل کو اس معاملے پر عدالت میں مختصر سماعت ہوئی جس کے دوران معروف وکیل پرشانت بھوشن عرضی گزاروں کی جانب سے پیش ہوئے ۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیہ باگچی اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران پرشانت بھوشن سے پوچھا کہ کیا عدالت پرسنل لاء کی آئینی حیثیت کا فیصلہ کر سکتی ہے؟ جسٹس باگچی نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پرسنل لاز کو آئینی جانچ کے دائرے میں نہیں لایا جاسکتا۔بنچ نے یہ بھی پوچھا کہ اگر عدالت نے شرعی وراثت کے قانون کو ختم کر دیا تو کیا اس سے قانونی خلا پیدا نہیں ہو گا، کیونکہ مسلم وراثت کو کنٹرول کرنے والا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ بھوشن نے جواب دیا کہ ملک میں موجود وراثت کا ایکٹ اس کی جگہ لے سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت یہ اعلان کر سکتی ہے کہ مسلم خواتین مردوں کے برابر وراثت کی حقدار ہیں۔
عدالت نے بھوشن کو روکتے ہوئے کہا کہ آیا عدالت پرسنل لاء میں مداخلت کر سکتی ہے؟ اس پر پرشانت بھوشن نے شاعرہ بانو مقدمہ میں تین طلاق کا ختم کرنے کا حوالہ دیا۔بھوشن نے کہا کہ وراثت سے متعلق پرسنل لاء کو آئین کے آرٹیکل ۲۵؍کے تحت تحفظ نہیں دیا گیا، جو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ وراثت شہری حق کا معاملہ ہے اور اسے ایک لازمی مذہبی عمل کے طور پر دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔اس کے باوجود چیف جسٹس نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ آیا ایسے کرنے سے مسلم خواتین کو کسی قانون کے تحفظ کے بغیر تونہیں چھوڑ دیا جائے گا؟انہوں نے کہا کہ اصلاحات کی کوشش میں ہم ان کو محروم کر سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے کم حاصل کریں جو وہ پہلے سے حاصل کر رہی ہیں۔ سی جے آئی کانت نے کہا ’’اس کاجواب یکساں سول کوڈ ہے۔
سی جے آئی کے تبصرے کے بعد جسٹس باگچی نےکہا کہ ایک مرد کیلئے ایک بیوی کے اصول کو تمام برادریوں پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جا رہا ہےلیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت تمام شادیوں کو غیر آئینی قرار دے سکتی ہے؟ سپریم کورٹ نے پہلے ہی ملک میں یکساں سول کوڈ کی سفارش کی ہے۔بنچ نے یہ بھی کہا کہ خود مسلم خواتین اگر ا سکےخلاف آتی ہیں تو عدالت اس میں مداخلت کرسکتی ہے۔ بھوشن نےاس پر کہا کہ درخواست گزاروں میں سے کچھ مسلم خواتین ہیں۔اس کے بعد بنچ نے بھوشن کو مشورہ دیا کہ وہ عرضی میں ترمیم کریں تاکہ یہ تجاویز شامل کی جائیں کہ شرعی وراثت کی دفعات کو ختم کرنے کی صورت میں حل کیا ہونا چاہئے۔