ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بنگلورو: ریگنگ کو روکنے کیلئے یو جی سی کے سخت اقدامات

بنگلورو: ریگنگ کو روکنے کیلئے یو جی سی کے سخت اقدامات

Fri, 05 Aug 2016 02:12:49    S.O. News Service

بنگلورو۔4اگست(عبدالحلیم منصور؍ایس او نیوز) ملک کی مختلف کالجوں میں طلبا اور طالبات کی چھیڑ خوانی اور ریگنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کو دیکھتے ہوئے کالجوں کو منظوری دینے والی نیشنل اکاڈمک اکریڈیشن کونسل نے متنبہ کیا ہے کہ جو طلبا ریگنگ کے مرتکب پائے جائیں گے، انہیں فوری طور پر کالج سے بے دخل کردینا ہوگا۔ بصورت دیگر کالج کے انتظامیہ کے خلاف کارروائی ناگزیر ہوگی۔ پی یو سی اور ڈگری کالجوں کے ساتھ یونیورسٹیوں میں ریگنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کو دیکھتے ہوئے این اے اے سی نے طے کیا ہے کہ جن کالجوں میں ریگنگ کے واقعات کی کثرت ہوگی ان کالجوں کو یو جی سی سے سرکاری گرانٹس کی منظور روک دینے کی سفارش بھی کی جاچکی ہے۔ ریاست کی تمام کالجوں کے پرنسپلس اور یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں کو این اے اے سی نے اس سلسلے میں مکتوب روانہ کردئے ہیں۔اس مکتوب کے مطابق اگر کالجوں میں طلبا وطالبات کی جنسی ہراسانی ، نفسیاتی ہراسانی یا دیگر طریقوں سے انہیں شکار بنانے کی کوشش کی گئی تو فوری طور پر خاطی طلبا کی نشاندہی کرکے انہیں کالج سے بے دخل کردیا جائے۔ اب تک ریگنگ کے مرتکب طلبا کو صرف معطل کیاجاتا۔ تاہم یوجی سی کے نئے ضوابط کے مطابق این اے اے سی نے کارروائی کرتے ہوئے ریگنگ کے مرتکب طلبا کو بے دخل کردینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ ےہ بھی طے کیاگیا ہے جو طالب علم ریگنگ کا مرتکب پایا جائے گااسے کالج سے نکالے جانے کی اطلاع کالج کے نوٹس بورڈ پر جلی حروف میں چسپاں کیا جانا چاہئے۔ کسی بھی سفارش یا دبا¶ میں آکر اس طالب علم کو کسی بھی کالج میں دوبارہ داخلہ دیا نہیں جانا چاہئے۔کالج کیمپس ، لائبریری ، آڈیٹوریم ٹرانسپورٹ سمیت کسی بھی طرح کی سہولت سے اسے محروم کردیاجائے ۔اس طالب علم کودی گئی اسکالر شپ رد کی جائے اور کالج کا شناختی کارڈ چھین لیاجائے۔ ریگنگ کے مرتکب طالب علم کی کونسلنگ کے بھی احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ کالجوں کے پرنسپلس اور پروفیسرس کے علاوہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں پر یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ ریگنگ کے مرتکب تمام طلبا کی مکمل تفصیل اور ان کی سرگرمیوں کے بارے میں جانکاری یوجی سی و این اے اے سی کو مہیا کرائی جائے۔ کالج کے ڈسپلن کو اگر طلبا نے توڑنے کی کوشش کی تو ان کا داخلہ منسوخ کردیا جائے۔ یو جی سی نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ ہر کالج میں داخلی شکایات کمیٹی تشکیل دی جائے۔ تاکہ ہر ماہ میں ایک بار ریگنگ اور دیگر مظالم سے جڑی شکایات کا جائزہ لیا جاسکے۔ اس کے مرتکب طلبا کی فوری باز پرس اور ان پر تادیبی کارروائی بھی یقینی بنائی جاسکے۔ اگر کالجوں نے ہدایت کے مطابق ان کمیٹیوں کا قیام نہیں کیا تو کالجوں کے خلاف بھی کارروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ یو جی سی کی طرف سے کالجوں کے یونیورسٹیوں سے الحاق کو منسوخ کرنے کے ساتھ یوجی سی کی طرف سے انہیں دئے جانے والے گرانٹس کی منسوخی کی وارننگ بھی دی گئی ہے۔
 


Share: