واشنگٹن،24/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے طالبان کے ساتھ افغانستان میں امن مذاکرات پھر سے شروع ہونے کا عندیہ دیا ہے، اور ساتھ ہی ایک بار پھر ملک سے امریکی فوج واپس بلانے کے عہد کا اظہار کیا ہے۔ٹرمپ کے بیان پر رد عمل معلوم کیے جانے پر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اس کے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ٹرمپ کے اس بیان سے قبل پیر کو کامیابی کے ساتھ ایک امریکی اور ایک آسٹریلیائی پروفیسر کے بدلے امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت کی قید سے چوٹی کے باغی قیدیوں کی رہائی عمل میں آئی۔ خیرسگالی کے طور پر طالبان نے 10 افغان فوجیوں کو بھی رہا کیا۔عام تاثر یہی ہے کہ امریکی شہری کیون کنگ اور آسٹریلیائی ٹموتھی ویکز کی رہائی، جو اگست 2016میں یرغمال بنائے گئے تھے، امریکہ طالبان مذاکرات کی بحالی کا موجب بنے گی۔مغوی مغربی پروفیسروں کی رہائی کو سراہتے ہوئے، منگل کے روز ٹرمپ نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ توقع کرتے ہیں کہ اس کے بعد امن کے محاذ پر جنگ بندی جیسی مزید اچھی باتیں سامنے آئیں گی، جن کی مدد سے طویل عرصے کی یہ لڑائی ختم کی جائے گی۔امریکہ کے ساتھ معطل بات چیت بحال ہو گئی ہے، اس پر طالبان کی جانب سے کوئی فوری رد عمل سامنے نہیں آیا۔کابل میں طالبان کے حملوں کے نتیجے میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے، ستمبر کے اوائل میں ٹرمپ نے اس سال سے جاری مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ نے جمعے کو اپنے اْس فیصلے کا دفاع کیا۔ٹرمپ نے اس بات کی وضاحت کی کہ پچھلی بار جب مجھے توقع تھی کہ سمجھوتہ ہونے والا ہے، پھر انھوں (طالبان) نے سوچا کہ شاید یہ بہتر ہو گا کہ ہم لوگوں کو ہلاک کریں، تاکہ ہم مضبوط موقف سے ساتھ بات چیت کر سکیں گے۔