ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں /  سنگین غداری کیس: خصوصی عدالت ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کی پابند نہیں 

 سنگین غداری کیس: خصوصی عدالت ہائی کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کی پابند نہیں 

Thu, 28 Nov 2019 16:53:55    S.O. News Service

اسلام آباد/28نومبر(آئی این ایس انڈیا) پاکستان کے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے جج جسٹس شاہد کریم کا کہنا ہے کہ ہم ہائی کورٹ کے نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔خصوصی عدالت کو سنگین غداری کیس کا فیصلہ آج (جمعرات) سنانا تھا۔ تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے گزشتہ روز وزارتِ داخلہ اور پرویز مشرف کے وکیل کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے خصوصی عدالت کو فیصلہ سنانے سے روک دیا تھا۔جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں جمعرات کو خصوصی عدالت نے سنگین غداری کیس کی سماعت کی تو اس موقع پر وزارتِ داخلہ کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے جنہیں جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ ہائی کورٹ نے آپ کو پانچ دسمبر تک پراسیکیوشن تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ ہم اس کے بعد آپ کو مزید وقت نہیں دیں گے۔جسٹس وقار نے کہا کہ ہم پانچ دسمبر کے بعد مزید وقت نہیں دیں گے اور روزانہ کی بنیاد پر مقدمے کی سماعت کریں گے۔ پرویز مشرف اگلی سماعت سے قبل جب چاہیں آ کر بیان ریکارڈ کرا سکتے ہیں۔بینچ کے سربراہ نے مزید کہا کہ اگلی سماعت تک بیان ریکارڈ کرانے کا موقع دے رہے ہیں جس کے بعد کوئی درخواست قبول نہیں کی جائے گی۔پرویز مشرف کے سرکاری وکیل عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ ہم نے بریت کی درخواست دائر کر رکھی ہے جس پر جسٹس وقار احمد نے کہا کہ آپ نے ہمارے احکامات نہیں پڑھے۔ ہم ہائی کورٹ کے فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔عدالت نے سنگین غداری کیس کی سماعت پانچ دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ پانچ دسمبر کو پراسیکیوشن ٹیم پوری تیاری کے ساتھ پیش ہو اور سرکاری وکیل اسی روز دلائل مکمل کریں۔پرویز مشرف کا غداری کیس میں فیصلہ رکوانے کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں بھی سماعت ہوئی۔ جس کے دوران جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے پرویز مشرف کے وکیل اظہر صدیق کو کہا کہ آپ کو تو ریلیف مل چکا ہے جس پر اْن کا کہنا تھا کہ وہ ریلیف تو وفاقی حکومت کو ملا ہے۔پرویز مشرف کے وکیل نے مو?قف اختیار کیا کہ ان کے مو?کل کا ٹرائل کرنے والی خصوصی عدالت کے قیام کا نوٹی فکیشن ہی قانون کے مطابق نہیں ہے۔ عدالت بنانے کا اختیار حکومت کو ہے جو کابینہ کی منظوری کے بعد ہوتا ہے جب کہ پرویز مشرف کے معاملے میں اس اصول کو بھی نہیں اپنایا گیا۔جسٹس مظاہر نے استفسار کیا کہ آرٹیکل چھ کے تحت یہ غداری کا کیس کیسے بنتا ہے؟ عدالت نے وفاقی حکومت کے وکیل کو جواب داخل کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت تین دسمبر تک کے لیے ملتوی کر دیا


Share: