نئی دہلی، 19/ اکتوبر (ایس او نیوز) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ملک بھر کے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اوقاف کی تفصیلات فوراً اُمید (UMEED) پورٹل پر درج کرائیں، کیونکہ ترمیم شدہ وقف ایکٹ 2025 کے مطابق یہ عمل 5 دسمبر 2025 سے پہلے مکمل کرنا لازمی ہے۔
بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا محمد فضل الرحیم مجددی نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں موجود مساجد، مدارس، خانقاہیں، قبرستان، درگاہیں، امام باڑے اور دیگر موقوفہ املاک کو اس وقت سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ’’وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025‘‘ کی دفعہ 3B کے تحت تمام ’’رجسٹرڈ اوقاف‘‘ کے تازہ کوائف اُمید پورٹل پر اپ لوڈ کرنا قانونی طور پر لازم قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اگرچہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اس قانون کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے اور عدالتِ عظمیٰ نے بعض دفعات پر عارضی ریلیف (temporary relief) دیا ہے، تاہم دفعہ 3B کے تحت تفصیلات اپ لوڈ کرنے کے عمل پر کوئی روک نہیں لگائی گئی ہے۔ ’’لہٰذا تمام متولیان اور متعلقہ ادارے فوری طور پر اندراج کا عمل مکمل کریں، ورنہ ان کے اوقاف کا رجسٹرڈ درجہ خطرے میں پڑ سکتا ہے،‘‘ ۔
انہوں نے بتایا کہ بورڈ نے عدالت سے مقررہ مدت میں توسیع کی درخواست بھی کی ہے، لیکن چونکہ فیصلہ ابھی زیر غور ہے، اس لیے وقت بہت محدود ہے۔ ’’ملک بھر کے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنی ریاستوں میں اوقاف کے ریکارڈ چیک کریں اور ان کی تفصیلات اُمید پورٹل پر اپ لوڈ کر کے قانونی ذمہ داری پوری کریں،‘‘
مولانا مجددی نے تجویز دی کہ مختلف علاقوں میں مددگار مراکز (Help Desks) قائم کیے جائیں تاکہ رجسٹرڈ اوقاف کی معلومات اپ لوڈ کرنے میں سہولت ہو۔ ان مراکز کی نگرانی ایسے افراد کے سپرد کی جائے جو تکنیکی مہارت رکھتے ہوں۔ انہوں نے متولیان کو متنبہ کیا کہ اگر وقت پر اندراج مکمل نہ ہوا تو انہیں وقف ٹریبونل سے مہلت کی درخواست دینی پڑ سکتی ہے اور تاخیر کی صورت میں جرمانے یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ اپ لوڈنگ کے بعد ہر وقف کا ریکارڈ محفوظ رکھا جائے، کیونکہ نئے قانون کے مطابق وہی ریکارڈ ’’رجسٹرڈ وقف‘‘ کی حیثیت رکھے گا۔ اگر کسی کو اپ لوڈنگ کے دوران تکنیکی دشواری پیش آئے تو متعلقہ وقف بورڈ کو تحریری طور پر مطلع کرنا چاہیے تاکہ قانونی اقدام کیا جا سکے۔
مولانا مجددی نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے ریاستی سطح پر اوقاف کے تحفظ کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی ہیں جو رہنمائی، تربیت اور عملی معاونت فراہم کر رہی ہیں۔ ’’ہم قوم کی رہنمائی کے لیے ویڈیوز، ورکشاپس اور تکنیکی مدد کے ذریعے اس عمل کو آسان بنائیں گے،‘‘
انہوں نے آخر میں کہا کہ تمام دینی و سماجی کارکنان، ائمہ، متولیان اور تنظیمیں اس عمل کو دینی و ملی فریضہ سمجھ کر انجام دیں تاکہ اوقاف کے تحفظ و بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔
اُمید پورٹل کا لنک: umeed.minorityaffairs.gov.in