بھٹکل کے ڈاکٹروں اور سماجی خدمت گاروں کے تعاون سے کنداپور کا  فالج زدہ مریض سعودی عربیہ سے پہنچا اپنے وطن 

Source: S.O. News Service | Published on 25th March 2021, 1:07 PM | ساحلی خبریں | خلیجی خبریں |

بھٹکل25؍مارچ (ایس او نیوز) ساحلی کرناٹکا کے  کنداپور سے تعلق رکھنے والا چندرا شیکھر پانڈو رنگا سارنگ نامی ایک شخص فالج کا حملہ ہونے کے بعد ریاض سعودی عربیہ کے اسپتال میں گزشتہ ساڑھے تین مہینےسے داخل تھا۔ فالج کی وجہ سے چندرا شیکھر اپنے ہاتھ پاوں یا جسم کو حرکت دینے سے قاصر ہے۔ صرف اس کی آنکھیں حرکت کرتی ہیں۔ اس کی اس حالت کا پتہ لگنے پر سعودی عربیہ میں مقیم بھٹکل اور مرڈیشورکے ڈاکٹروں اور سماجی خدمت گاروں نے اس معاملے میں دلچسپی لی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اس مریض کو اس کے اپنے وطن پہنچانے اور یہاں پر اسپتال میں داخل کروانے کا پورا انتظام کر دیا۔

خیال رہے کہ چار سال قبل بھٹکل کے اسی قسم کے ابوبکر نامی مریض کو بھی دمام  سے  بھٹکل لانے کے ڈاکٹر ظہیر کولا (ڈینٹسٹ) نے بڑی دلچسپی لی تھی اور سعودی میں مقیم بھٹکل اور مرڈیشور کے ڈاکٹروں اور سماجی خدمت گاروں کے تعاون سے اس مریض کو بھٹکل لانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ 

اب کنداپور کے چندرا شیکھر نامی مریض کو وطن واپس لانے میں بھی بھٹکل سے ڈاکٹر ظہیر کولا نے دلچسپی لی اور سعودی میں مقیم ڈاکٹر وسیم مانی، وقاص رکن الدین، فوزان بیدکول، اشتیاق ارمار، ڈاکٹر بیکل کےعلاوہ دیگر سماجی خدمت گاروں نے بھرپوراور کامیاب جد و جہد کی۔ 

خیال رہے کہ ایسے مریضوں کو واپس لانے کے سلسلے میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھٹکل اور مرڈیشور کے افراد نے زیادہ سے زیادہ سرگرمی دکھائی ہے جبکہ ہندوستانی سفارت خانہ کی طرف سے اس ضمن میں کوئی خاص اقدام نہیں کیا گیا ہے۔ یہاں تک کہ وزارت خارجہ سے رابطہ قائم کرنے پر بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔

پڈوبیدری کے ڈاکٹر بیکل اس مریض چندرا شیکھر کو اپنے ساتھ لے کر جب منگلورو  ایئر پورٹ پہنچے تو اس وقت استقبال کرنے کے لئے ڈاکٹر ظہیرکولا، ویلفئیر اسپتال کے ایک ذمہ دار سید ابوالاعلیٰ اور دیگر افرادایئر پورٹ پر موجود تھے۔ پھر چندرا شیکھر کو سیدھے منگلورو کے  اے جے ہاسپٹل لے جاکر وہاں نگہداشت اور علاج  کے لئے داخل کیا گیا۔     

ہندوستانی شہری ہونے کی وجہ سے بیرون ملک مصیبت میں پھنسنے کے بعد اس مریض کا حق تھا کہ ہندوستانی سفارت خانہ آگے بڑھ کر اسے ہندوستان واپس بھیجنے کا پورا انتظام کرتا۔ مگر معلوم ہوا ہے کہ ہندوستانی سفارت خانہ سے اس معاملے میں کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ جس کے بعد یہ ذمہ داری سماجی خدمات کا شعور رکھنے والے نجی افراد نے اُٹھائی۔ کسی بھی مذہبی اور سماجی تفریق کے بغیر صرف انسانی بنیادوں پر کی گئی یہ خدمت یقیناً لائق ستائش ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

مینگلور کے قریب کڈبا میں دو نوجوان ندی میں ڈوب کر جاں بحق

مینگلور سے قریب  85 کلو میٹر دور کڈبا تعلقہ کے اِچیلم پانڈے کی ایک ندی میں غرق ہوکر دو نوجوان جاں بحق ہوگئے جن کی نعشیں ندی سے برآمد کرلی گئی ہیں۔ حادثہ پیر کی شام کو پیش آیا جب یہ دونوں ندی میں نہانے کےلئے اُترے تھے۔

بھٹکل: ریاست میں کورونا کے بڑھتے معاملات سےپریشان طلبہ نے پیر سے شروع ہونے والے امتحانات منسوخ کرنے ٹوئیٹر پر چلائی مہم

کورونا کی دوسری لہر میں  بڑھتے کیسس کے دوران ایک طرف  میٹرک اور سکینڈ پی یوسی کے امتحانات ملتوی اور منسوخ کئے جارہےہیں تو وہیں دوسری طرف ویشویشوریا ٹیکنالوجیکل یونیورسٹی (وی ٹی یو) کے تحت آنے والی کالجس میں کل  پیر سے فرسٹ سیمسٹر کے امتحانات شروع ہورہےہیں۔

بھٹکل میں ماسک نہ پہننے والوں پر کاروائی؛ صبح سے دوپہر تک 68 لوگوں پر عائد کیا گیا جرمانہ؛ باہر سے بھٹکل آنے والوں پر رکھی جارہی ہے نگاہ

بھٹکل ٹاون میونسپالٹی اور جالی پٹن پنچایت کے آفسران نے  ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف آج اتوار کو مشترکہ مہم چلاتے ہوئے  68 لوگوں سے 6800 روپیہ جرمانہ وصول کیا ہے۔

سرسی میں آتی کرم ہوراٹا سمیتی کی جانب سے منظوری حق قانون کے متعلق ورکشاپ

فاریسٹ حقوق قانون کی منظوری کی  متعینہ مدت کے اندر منظوری کارروائی کو انجام دیا جائے۔ آج عوامی نمائندوں میں حوصلہ کی کمی کی وجہ سے فاریسٹ حقوق قانون نافذ نہیں ہورہاہے۔ عوامی نمائندے صرف انتخابات کے دوران فاریسٹ کے اتی کرم داروں کے مسائل پر بات کرتے ہیں انتخابات ختم ہوتے ہی ...

 کیا شمالی کینرا میں کانگریس پارٹی کی اندرونی گروہ بندی ختم ہوگئی ؟

ضلع شمالی کینرا کو ایک زمانہ میں پورری ریاست کے اندر کانگریس کا سب سے بڑا گڑھ مانا جاتا تھا، لیکن آج ضلع میں کانگریس پارٹی کا وجود ہی ختم ہوتا نظر آرہا ہے، کیونکہ ضلع کی چھ اسمبلی سیٹوں میں سے صرف ہلیال ڈانڈیلی حلقہ چھوڑیں تو بقیہ پانچوں سیٹوں کے علاوہ پارلیمان کی ایک سیٹ پر بی ...

رمضان کے دوران حرم میں نمازیوں کی گنجائش ایک لاکھ اور معتمرین کی 50 ہزار کرنے کا فیصلہ

حرمین شریفین کے انتظامی امور کے ذمہ دار ادارے 'حرمین پریذیڈینسی' کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا ہے کہ مملکت کی قیادت کی ہدایت پر ماہ صیام کے دوران مسجد حرام میں نمازیوں‌کی یومیہ تعداد ایک لاکھ اور معتمرین کی 50 ہزار تک کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔