مرڈیشور میں سیاحوں کی بھیڑ : ساحل سمندر پر عوامی چہل پہل میں بے تحاشہ اضافہ : ٹرافک نظام متاثر

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 22nd October 2021, 9:40 AM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل:21؍ اکتوبر(ایس اؤ نیوز) ہفتہ بھر میں مسلسل تین چار چھٹیاں ملنے سے سیاحتی مرکز مرڈیشور میں سیاحوں کی بھیڑ جمع ہوگئی ہے، دور سے نظارہ کرنے پر سمندر کنارے پر عوام  چیونٹیوں کی طرح نظر آتے ہیں۔

سرکاری سطح پر مختلف چھٹیوں کی وجہ سے مرڈیشور میں سیاحوں کی آمد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہے۔ مندر میں بھی ہزاروں بھگت پوجا کے لئے کھڑے نظر آرہے ہیں تو کنارے پر ہزاروں لوگوں کی چہل پہل سے مرڈیشور تہوار کے جشن میں ڈوبا ہواہے۔ سبھی لاڈج فل ہونے سے کمروں کے کرایہ میں تین چار گنا اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بارش میں بیوپار سے کنگال ہوٹلوں اور دکانوں پر زبردست خرید فروخت ہونے لگی ہے اور باکڑا دکانوں کی تو عید ہوگئی ہے۔ سمندر میں بوٹنگ کو فرصت نہیں ہے ، اسی دوران سمندر میں تیرنےوالے سیاحوں کی نگرانی اورحفاظت بھی ایک مسئلہ ہےالبتہ لائف گارڈ کڑی نظر رکھے ہوئےہیں۔

ٹرافک نظام متاثر :مرڈیشور کو سیاحوں کی آمد میں کثرت ہونےکی وجہ سے ٹرافک نظام متاثر ہواہے اور سواریوں کی پارکنگ ایک بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ پارکنگ کا نظام نہ ہونے کار، ٹمپو وغیرہ سمندری کناروں پر ہی ٹھکانہ ڈالے ہوئےہیں۔ راہ گیروں اور بائک سواریوں کو سڑک سے گزرنے میں بھی کافی دقتیں دیکھی گئیں۔ سواریوں سے سڑکیں اتنی گنجان ہوگئی ہے  کہ 200-300 میٹر کا راستہ طئے کرنے کے لئے آدھے گھنٹے سے بھی زیادہ کا وقت لگ رہاہے۔ بستی سے مرڈیشور جانےو الی سڑک پر جہاں تہاں اندرونی نالیوں کے لئے کھودے گئے گڑھے یوں ہی کھلے چھوڑدئیےجانے سے مسافروں اور سواریوں کو آگے بڑھنے میں کافی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ پولس اہلکاروں کی اکثریت  ٹرافک نظام کی دیکھ ریکھ اور پارکنگ کی نگرانی میں ہی حیران پریشا ن ہورہے ہیں۔ اولگا منٹپ سے مرڈیشور مندر تک سواریوں کو آہستہ آہستہ آگے جانے کےلئے راستہ بنانا ہی پولس کا روز کا کام ہوگیا ہے۔

ترقیاتی کاموں میں دیری :ہرسال مرڈیشور آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا جارہاہے۔ مرڈیشور کی ترقی کےلئے جاری کئے گئےکاموں کی تکمیل میں دیری ہونےسے مزید مسائل جنم لے رہےہیں۔ سڑک، اندرونی نالیاں ، پارکنگ جیسے مسائل سیاحتی مرکز مرڈیشور کی شہرت کو گہن لگا رہے ہیں۔ عوامی سطح پر کہا جارہاہےکہ مقامی انتظامیہ ایک حتمی اور مستحکم فیصلہ لینےمیں ناکام ہے، اسی لئے مرڈیشور میں نت نئے مسائل پیدا ہونےکا الزام لگایا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل بدریہ کالونی میں نوجوان پر حملہ کا معاملہ؛ دکشن کنڑا اور اُڈپی سے آئے تھے حملہ آور، پڑوسی اضلاع میں پہلے سے چل رہے ہیں مقدمات

پیر کی شب  بدریہ کالونی میں ہوئے ایک نوجوان صدام حُسین پر  حملہ کے تعلق سے پولس  نے بتایا کہ  اس پر جانوروں کو چرانے والے ایک گینگ نے حملہ کیا تھا۔

اُردو اور نائطی شاعر عبداللہ رفیق کے انتقال پرمختلف اداروں کی جانب سے خراج تحسین

بھٹکل کے اُردو اور نوائطی شاعر جناب عبداللہ رفیق صاحب دو روز قبل سنیچر کو انتقال کرگئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کے انتقال پر مختلف اداروں کی جانب سے انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے اور کئی اداروں میں تعزیتی اجلاس بھی منعقد کرتے ہوئے ان کے حق میں دعائے مغفرت کی گئی ہے۔

بھٹکل میں نامعلوم لوگوں کا ایک نوجوان پرحملہ؛ نوجوان شدید زخمی۔ کنداپور شفٹ

یہآں بدریہ کالونی میں ایک نوجوان پرنامعلوم لوگوں نے دھاردار ہتھیاروں سے حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں نوجوان کو شدید زخمی حالت میں کنداپور اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ نوجوان کی شناخت صدام حُسین (29) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

بنٹوال : ایک ایسا اسکول جہاں بڑی تعداد میں زیر تعلیم ہیں  جڑواں بچے !

کیرالہ کرناٹکا سرحدی علاقہ بنٹوال تعلقہ کے کائیرانگلا گاوں کا شاردا گنپتی ودیا کیندرا ایک ایسا اسکول ہے جہاں اس وقت بڑی تعداد میں جڑواں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے اس اسکول نے ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے ۔

مرد حق، بے باک صحافی ونود دوا کو آخری سلام۔۔۔۔۔ از: ظفر آغا

وہ سچ بولتا تھا اور سچ کے لئے کبھی کسی کے آگے جھکا نہیں۔ تبھی تو وہ بے باک صحافی تھا۔ اس مرد حق کا نام ونود دوا تھا۔ جی ہاں، وہی ونود دوا جو ہر روز رات میں ٹیلی ویژن پر ملک میں ہونے والے دن بھر کے واقعات کا کچا چھٹا سچ سچ آپ کے سامنے کھول دیتا تھا۔

بھٹکل میں قومی شاہراہ فورلین ؛سرویس روڈسمیت دیگر سہولیات ندارد؛ کام مکمل ہونے سے پہلے ہی ٹول فیس وصولنے کا کام جاری!

بھٹکل میں قومی شاہراہ فورلین کا تعمیری کام شروع ہوکر 8برس بیت چکے ہیں، قومی شاہراہ کی تعمیر تکمیل کو پہنچنے سےقبل مرکزی وزیر نتین گڈکری نے نئی شاہراہ فورلین کا افتتاح کئے ہوئےایک سال ہوگیاہے۔ لیکن بھٹکل میں قومی شاہراہ فورلین بربادی کاکام ہوگیا ہے اور روزانہ شہریوں کےلئے درد ...

کورونا وائرس کا نیا روپ 'اومیکرون': پھر سے بجنے لگیں خطرے کی گھنٹیاں ! ......(خصوصی رپورٹ : ڈاکٹر محمد حنیف شباب)

   جو لوگ یہ سمجھ رہے تھے کورونا وائرس کی وباء سے دنیا آزاد ہوچکی ہے اور عام زندگی معمول پر آگئی ہے تو ان کا خیال غلط ثابت کرنے والی خبریں اب  آنا شروع ہوگئی ہیں ۔ کیونکہ کورونا وائرس کے بدلتے روپ (variant)  'ڈیلٹا'  کے بعد اب مزید خطرناک تبدیل شدہ شکل سامنےآئی ہے جسے'اومیکرون' کا نام ...

گرودواروں کے دروازے جمعہ کی نماز کے لیے کھول دینے سے انتظامیہ اور بی جے پی والوں کے منہ لٹک گئے، اللہ کی طرف سے غیبی انتظام ۔۔۔۔ از: ظفر آغا

اس ملک پر بھلے ہی ہندوتوا سیاست کا کتنا ہی رنگ چڑھ گیا ہو۔ ہندوستان بھلے ہی ہندو راشٹر کی دہلیز پر کیوں نہ کھڑا ہو۔ لیکن آج بھی عوامی سطح پر اس ملک کی گنگا جمنی روح زندہ ہے۔ اگر آپ کو یہ حقیقت دیکھنی ہے تو آئیے آپ کو لے چلتے ہیں دہلی کے نزدیک (بلکہ اب وہ کم و بیش دہلی کا ہی حصہ ...

مولانا ابوالکلام آزادؒ ۔ مجاہدِآزادی، جدید ہندوستان کے معمار ۔۔۔۔۔۔۔ از: قادر میراں پٹیل، بھٹکل

11نومبر1888ء میں جس   بطلِ جلیل نے  مکہ مکرمہ کی مقدس سرزمین پر اپنی آنکھیں کھولی تھیں، دنیا اسےمولانا ابواکلام آزاد کے نام سے جانتی ہے۔ باشندگانِ ہند کو یہ حق پہنچتاہے کہ ان کی  یوم ِ پیدائش ’’یومِ تعلیم ‘‘ کے نام سے معنون ہو، کیونکہ وہ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم رہ چکے ...