کیا مسلمان بھی ہندوستانی شہری حقوق کے حق دار ہیں؟           از :سیدمنظوم عاقب لکھنو

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 28th February 2020, 9:29 PM | اسپیشل رپورٹس | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے | آپ کی آواز |

پچھلے٩دسمبرسےحکوت ہنداورہندوستانی شہریوں کےبیچ ایک تنازعہ چل رہاہےجسکاسردست کوئی حل نظرنہیں آرہاہے،کیونکہ ارباب اقتدارسی اےاےکیخلاف احتجاج اوراعتراض کرنےوالوں کویہ باورقراردیناچاہتی ہیں کہ آپکااعتراض اوراحتجاج ہمارےلئے اہمیت کاحامل نہیں ہےاوراحتجاج اورمخالفت کرنےوالےارباب اقتدار کویہ باور قرار دینا چاہتےہیں کہ ہم بھی ہندوستانی شہری ہیں اورہمکوبھی وہ سارےحقوق حاصل ہیں جوکسی بھی عام ہندوستانی شہری کو آئین ہند کی طرف سےضمانت دی گئی ہے.

ایسانہیں ہیکہ صرف سیاسی شخصیات کی طرف سےبطورسیاست ایساعمل اورردعمل کیا جارہا ہے جس سےایک مخصوص طبقےکوانکےآئینی اورشہری حقوق سےمحروم کرنےکی سیاست کھیلی جارہی ہےاورمسئلہ صرف حصول اقتدار کاہےبلکہ ایک مکمل حکمت عملی اورشازش کےتحت ملک میں ایسےعمل اورردعمل سامنےآرہےہیں جس سےیہ سجھناکچھ مشکل نہیں رہ گیاہےکہ مسلمانوں کاوجوداس ملک میں اب کچھ لوگوں کے لئے ناقابل برداشت ہوگیاہےیہ لوگ آئین ہند کے سیکولر کردارکواب برداشت نہیں کرپارہےہیں ملک میں سیکولرہوناکبھی باعث افتخارتھالیکن آج کےوقت میں سیکولر اور سیکولرزم گالی کےمترادف ہوگیاہےملک میں رہائش پذیرایسےشہری جوخودکوہندوکہنانہیں چاہتی، چاہےوہ کوئی بھی ہواسکاوجود ان لوگوں کوناگوارلگتاہےہےجوایک خاص کردارکوہندومذہب کانام دیکرہندوستان کےمالک حقیقی بنناچاہتےہیں چونکہ انکے اس  منصوبےکوپایہ تکمیل تک پہنچنے میں سب سےبڑی روکاوٹ مسلمان نظرآتاہےلہٰذامسلمانو ں کوسب سےپہلےانکےشہری و آئینی  حقوق سےمحروم کیاجارہاہےاسکےبعددوسرےلوگوں کابھی نمبر آئیگا۔

آپ غورکریں ارباب اقتدار۔عدلیہ۔انتطا میہ کتنی ڈھٹائی سےیہ تاثردیتےہیں کہ صرف مسلمان ہی سی اےاےکی مخالفت کر رہا ہے۔گویااگرمسلمان اس ملک میں کچھ مانگ رہاہےیااعتراض کررہاہےتواسکویہ حق قطعی طورپرحاصل نہیں ہے کہ وہ حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاےیااپنےحقوق کامطالبہ کرے۔۔حیرت کی بات تویہ ہیکہ اس ملک کاوہ طبقہ جوخود کو سیکولرکہلواتاہے یاکمیونسٹ کہلاتاہےاسکےبھی خیالات یہی ہوگئے ہیں کہ مسلمان اپنےحقوق کےمطالبےمیں آواز نہ اٹھاے اس  سے بھی زیادہ حیرت اس پرہوتی ہیکہ خودمسلم قائدین اس قدراحساس کمتری کاشکارہوچکےہیں کہ انکابھی مدلل اعلان یہی ہوتاہے کہ مسلمان اپنےساتھ دگرہم وطن کولیکرہی احتجاج کریں تنہااحتجاج نہ کریں ۔

گویامسلم قائدین نےبھی یہ امراپنےلئے لاز م قراردےدیاہیکہ ملک میں حکومتوں عدالتوں اوردگرذیلی انتظامیہ سےمسلمانوں کو  اپنےکسی قسم کےحق نہیں مانگناہے۔پچھلے٣٠سالوں سےمسلم قائدین اوررہنماوں نےمسلمانوں کی یہ ذہن سازی کردی ہیکہ مسلمان خودسےاپنےلئے تعلیمی ادارے،طبی ادارے،رفاہی ادارے،تحفظاتی ادارےاوردیگرجملہ اجتماعی ضروریات کو حاصل  کرنےکاانتظام اپنےروپیہ سےکرتاہےاوراپنی گاڑھی کمائی کابڑاسرمایہ ان چیزوں پرکرتاہےجسکی ذمہ داری حکومتوں کی ہواکرتی تھی۔ دھیرے،دھیرےنوبت یہاں تک پہونچ گئی ہے کہ آئین ہندنےہندوستانی شہریوں کوجوبنیادی حقوق دئیےہیں اس کوبھی تلف کیاجارہاہےاورمسلم عوام کویہ سمجھانے کی کوشش کی جارہی ہیکہ اپنےبنیادی حقوق طلب کرنے کے لئے بھی مسلمان غیرمسلموں کامحتاج ہےاوروقتی طورپرکچھ غیرمسلم حضرات ہماری تحریکوں میں دولھےکی طرح شریک ہوتےہیں اور اسکے لئے میں ہم انکےسیاسی غلام بلادام بن جاتےہیں ۔

فکراورتدبرکانقطہ یہ ہیکہ مسلمانوں کواب یہ احساس دلایاجاےکہ ہرشخص کواپنی جنگ خودلڑنی پڑتی ہےہم ہندوستانی ہیں تو ہم کو بھی  وہ سارےآئینی حقوق حاصل ہیں جوکسی بھی دیگرہندوستانی کواگرماسٹر،ڈاکٹر،آگن بانی والے،اےان ایم فارماسسٹ ،ایم آر،کسان،تاجروغیرہ وغیرہ اپنےحقوق کےحصول کے لئے سرکار کےخلاف تحریک چلاسکتے ہیں توہمکوبھی اپنےحقوق کے حصول  کے لئے تنہاتحریک چلاناچاہئے۔

عدالت عالیہ کواگریہ فکرہے کہ پانچ ہزارہندوستانیوں کوراستہ بند ہونےکی وجہ سےدشواری ہورہی ہےانکی دشواری دورہونی چائیےتوعدالت کویہ بھی دیکھناچائیے کہ ٢٥کروڑ لوگوں کوسی اےاے،این آرسی سےدشواری ہوگی انکوبھی راحت ملنی چائیے۔کیونکہ مسلمان بھی اسی ملک کاشہری ہےاوراسکوبھی شہری حقوق حاصل ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

مندر-مسجد کرنے والے نفرت پھیلانے کے لیے تاریخ کا غلط استعمال کر رہے۔۔۔۔۔۔۔ از: بھرت ڈوگرا

ہندوستان میں مندر-مسجد تنازعہ بھڑکانے والوں اور فرقہ واریت کی تشہیر کرنے والوں سے یہ پوچھنا ضروری ہے کہ آپ تاریخ کی ان کئی سچائیوں کے بارے میں کیوں خاموش ہو جاتے ہیں، جن سے بھائی چارے اور صبر کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ کیا یہ لوگ تاریخ کا مطالعہ صرف نفرت پھیلانے کی مثالیں تلاش ...

گیان واپی مسجد، شاہی عیدگاہ اور میڈیا کی فرقہ واریت۔۔۔۔۔۔۔از: سہیل انجم

فرقہ واریت کا زہر اب رفتہ رفتہ پورے ملک میں سرائت کرتا جا رہا ہے۔ اب تو تعلیم یافتہ افراد بھی واٹس ایپ یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرنے لگے ہیں۔ صورت حال اتنی خطرناک ہو چکی ہے کہ ذہنی طور پر معذور ایک شخص کو محض اس لیے پیٹ پیٹ کر ہلاک کر دیا جاتا ہے کہ اس پر مسلمان ہونے کا شبہ ہے ...

بس اللہ ہی بچائے کاشی اور متھرا مساجد۔۔۔۔ از: ظفر آغا

پھر وہی مندر مسجد قضیہ، پھر وہی ہندو مسلم تکرار، کیونکہ راقم الحروف نے سن 1986 میں بابری مسجد کا تالا کھولنے کے بعد سے سن 1992 میں بابری مسجد کے ڈھائے جانے تک پورے معاملات بطور ایک صحافی اتنے قریب سے دیکھے اور رپورٹ کئے کہ اب گیان واپی مسجد وارانسی اور متھرا عید گاہ کے سلسلہ میں جو ...

اُدے پور سے کانگریس کے نئے سفر کا آغاز ۔۔۔۔۔ از:ظفر آغا

آخر کانگریس پارٹی نے اُدے پور کے سفر کے لئے کمر باندھ لی۔ دیر آئے درست آئے۔ یہ سفر بہت پہلے ہی ہو جانا چاہئے تھا کیونکہ کانگریس کو خود اپنے مسائل حل کرنے کے لئے اس قسم کے کیمپ کی بہت سخت ضرورت ہے۔ جب جب کانگریس مشکل حالات میں پھنسی ہے تب تب کانگریس نے ایسے کیمپ منعقد کر کے پارٹی ...

بھٹکل : شرالی پروگرام میں سوامی برہمانند کی تقریر کا خلاصہ - ریاستی سیاست کا شدھی کرن کرنے کے لئے سادھو سنت اتریں گے میدان میں ۔ رام راجیہ لانے کے لئے لڑیں گے انتخابات 

"مذہبی عقیدت و احترام کے مراکز لوگوں کے اندر تحریک و ترغیب پیدا کرنے کا سبب بننے چاہئیں ۔آج راجاوں کا دور نہیں رہا ہے ۔ اب ہم کاگیری (اسمبلی کے اسپیکر) یا کسی رکن اسمبلی کو راجا مانتے ہیں ۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ اپنی پرجا کی دیکھ بھال اپنی اولاد کی طرح کریں ۔

پتور: سڑک کے پاس گڈھے میں پھنس گئے دو کنٹینر ٹرکس - 3 گھنٹے تک لگا ٹریفک جام 

نیشنل ہائی وے کی فورلین توسیع کے دوران غیر معیاری کام کی وجہ سے دو بھاری کنٹینر ٹرکس روڈ سائڈ گڈھے میں پھنس گئے جس کے بعد اپن انگڈی میں کارویل کے پاس نیشنل ہائی وے پر 3 گھنٹے تک ٹریفک جام لگا رہا ۔ اس ٹریفک جام کی وجہ سے بچوں کو اسکول لے جانے والی گاڑیوں  اور دیگر سواریوں کو بڑی ...

بلند شہر: کیدارناتھ کے درشن کے لیے جا رہی کار حادثہ کی شکار، 5 افراد جاں بحق

  اتر پردیش کے بلند شہر ضلع میں بدری ناتھ اور کیدارناتھ یاتریوں کو لے جانے والی ایک اسکارپیو کار منگل کی علی الصبح ہائی وے پر کھڑے ٹرک سے ٹکرا گئی، جس میں پانچ افراد کی موت ہو گئی اور چھ دیگر زخمی ہو گئے۔

بہار کے پورنیہ ضلع میں سڑک حادثے میں آٹھ افراد کی موت

بہار میں پورنیا ضلع کے جلال گڑھ تھانہ علاقے میں قومی شاہراہ نمبر 57 پر پائپ سے لدے ایک ٹرک کے پلٹنے سے دب کر آٹھ لوگوں کی موت ہوگئی۔ پولیس ذرائع نے یہاں بتایا کہ پیر کی صبح این ایچ 57 پر جلال گڑھ میں کالی مندر کے نزدیک ٹرک پلٹنے سے اس پر لدے لوہے کے پائپ کے نیچے دبنے سے آٹھ مزدوروں ...

بھٹکل تعلقہ میں بارش سے پیش آنے والے حادثات کے موقع پر فوری کارروائی کے لئے نوڈل افسران نامزد

سال 2022کےمانسون  بارش کے دوران بھٹکل تعلقہ میں پیش آنے والے سماوی حادثات کے موقع پر فوری توجہ دیتے ہوئے امداد پہنچانے اور تعلقہ کی مکمل نگرانی کی سخت ضرورت  رہتی ہے۔تعلقہ میں موسلادھار یا تیز بارش کی وجہ سے عوام کو ہونے والی مشکلات و پریشانی ، جانی ، مالی ،جانوراور فصل کے ...

بھٹکل: تعلیمی ادارہ انجمن کا کیسے ہوا آغاز ۔سوسال میں کیا رہیں ادارے کی حصولیابیاں ؟ وفات سے پہلےانجمن کے سابق نائب صدر نے کھولے کئی تاریخی راز۔ یہاں پڑھئے تفصیلات

بھٹکل کے قائد قوم  جناب  حسن شبر دامدا  جن کا گذشتہ روز انتقال ہوا تھا،   قومی تعلیمی ادارہ انجمن حامئی مسلمین ، قومی سماجی ادارہ مجلس اصلاح و تنظیم سمیت بھٹکل کے مختلف اداروں سے منسلک  تھے اور  اپنی پوری زندگی  قوم وملت کی خدمت میں صرف کی تھی۔بتاتے چلیں کہ  جنوری 2019 میں ...

تفریح طبع سامانی،ذہنی کوفت سے ماورائیت کا ایک سبب ہوا کرتی ہے ؛ استراحہ میں محمد طاہر رکن الدین کی شال پوشی.... آز: نقاش نائطی

تقریبا 3 دہائی سال قبل، سابک میں کام کرنے والے ایک سعودی وطنی سے، کچھ کام کے سلسلے میں جمعرات اور جمعہ کے ایام تعطیل میں   اس سے رابطہ قائم کرنے کی تمام تر کوشش رائیگاں گئی تو، سنیچر کو اگلی ملاقات پر ہم نے اس سے شکوہ کیا تو اس وقت اسکا دیا ہوا جواب   آج بھی ہمارے کانوں میں ...

ترکی کے صدر طیب اردوغان کی طرف سے خوش خبری..! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  سمیع اللّٰہ خان

دو دن پہلے ترکی صدر نے تُرکوں کو خوش خبری سنانے کا اعلان کیا تھا چنانچہ (جمعہ کو  ترکی میں) نئے سال کی شروعات میں یکم محرم الحرام کو ‏رجب طیب اردوغان نے  ترک قوم کو خوشخبری دیتے ہوئے بتلایا کہ: بحرہ اسود میں ترکی کو 320 ارب کیوبک میٹر گیس کے وسیع ذخائر ملے ہیں، فصیح سونداج ڈرلنگ ...

بے باک، نڈراورقائدانہ صلاحیت کا، کما حقہ استعمال،مختلف الزاویاتی فوائد کے حصول میں ممد و مددگار ہوا کرتی ہے ۔۔۔ نقاش نائطی

مجھے شہر بھٹکل میں اُس وقت پھوٹ پڑنے والے فساد کے تناظر میں غالبا بنگلور سےبھٹکل تشریف لائے آئی جی پولیس کی موجودگی میں،اس وقت کی مجلس اصلاح و تنظیم کے وفد کی نیابت کرتے ہوئے سابق صدر تنظیم المحترم سید محی الدین برماور کی قیادت کا منظر یاد آرہا ہے۔ انہوں نے پریس کی موجودگی ...