بک ریویو - قانونی رہنمائی سیریز (مکمل) ...... مصنف: سید عبیدالرحمن، پی-ڈی- میتھیو تبصرہ :سید تنویر

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 22nd September 2020, 4:51 PM | ملکی خبریں | آپ کی آواز |

ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے اور اس کا قانون ملک کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق فراہم کرتا ہے۔ مذہب کے نام پر کسی طرح کی تفریق کی آئین ہند میں کوئی گنجائش نہیں۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ لوگوں کے لئے انصاف کا حصول یقینی بنایا جاتا، ایسا ماحول بنایا جاتا جس میں عام لوگوں کا استحصال نہ صرف جرائم پیشہ افراد بلکہ حکومتی اہلکاروں تک کے لئے ناممکن ہوتا اور اگر اتفاق سے کبھی ایسا ہو بھی جاتا تو انصاف کے حصول کو یقینی بنایا جاتا۔

لیکن درحقیقت ایسا نہی ہے۔ ملک میں ایسا ماحول پیدا کردیا گیا ہے جہاں انصاف کا حصول اگر ناممکن نہیں لیکن مشکل ترین ضرور بن گیا ہے۔ 

جہاں دوسرے مملک میں بتدریج انصاف کو لوگوں کے دروا زے  تک لانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ملک عزیز میں انصاف عام لوگوں کے حصول سے دور بہت دور ہوتا جارہا ہے۔

 انصاف کا حصول مہنگا ہونا اپنے آپ میں ایک بڑا مسئلہ ہے، لیکن دیکھا یہ بھی گیا ہے کہ سماج کا ایک بڑا طبقہ، بطور خاص وہ لوگ جو کمزور طبقات  سے تعلق رکھتے ہیں, ان حقوق کا محض اپنی کم علمی کی وجہ سے استعمال نہیں کرپاتے۔

ہندوستانی مسلمان جو کہ ملک کی سب سے پچھڑی مذہبی اقلیت ہیں وہ بطور خاص اپنے حقوق سے ناآشنا ہیں۔بڑی حیرت کی بات ہے کہ ایک ایسی کمیونٹی جس کے افراد عموما پولس کے مظالم کا شکار بنتے رہتے ہیں، وہ اپنے حقوق سے اس حد تک نآشنا یے۔ اپنے قانونی حقوق سے ناآشنا ہونے کی وجہ سے ان پر مظالم اور تشدد کے واقعات میں پچھلے چند سالوں میں مزید اضافہ ہی ہوا ہے۔

مشہور مصنف اور تجزیہ نگار سید عبیدالرحمن نے اپنی تصنیف 'قانونی رہنمائی سیریز' سے اس کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب میں شہریوں کے سول اور قانونی حقوق پر تفصیل سے روشن ڈالی گئی ہے۔

عبیدالرحمن انگریزی کے معروف صحافی اور مصنف ہیں، جنہوں نے ہندوستانی مسلمان اور آذادئ ہند میں ان کے کردار پر پورا ایک لٹریچر تیار کردیا ہے۔ جب میں نے سید عبیدالرحمن سے اس بابت دریافت کیا کہ انہوں نے اس کتاب کو اردو میں کیوں لکھا تو ان کا کہنا تھا کہ "پورے ملک میں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اردو بولتا ہے۔ پورے ملک میں چلنے والے مدارس کا میڈیم آف ایجوکیشن اردو ہے۔ اگر یہ کتاب انگریزی میں ہوتی تو ایک بڑی تعداد اس سے استفادہ کرنے سے محروم رہ جاتی۔ دوسری ذبانوں میں تو ان موضوعات پر کافی لٹریچر دستیاب ہے، لیکن اردو میں ان موضوعات پر نہ کے برابر مواد مہیا ہے۔ اسی لئے یہ بہت ضروری تھا کہ اس کمی کو پورا کیا جائے"۔

پولس کا عام لوگوں کے ساتھ ناروا سلوک ہمارے ملک میں بالکل عام بات ہے۔ آزادی کے ۷۴ سال بعد بھی ملک میں پولس کے ظلم و ستم کا یہ حال ہے کہ سن کر دل دہل جائے۔ ماب لنچنگ اور اس طرح کے دوسرے مظالم بھی تقریبا روز ہی سامنے آتے ہیں۔ محض چند دنوں قبل، راجستھان کے سیکر ضلع میں ایک ۵۲ سالہ مسلم رکشہ ڈرائیور کی ماب لنچنگ کا کیس ہوا۔ جمعہ کے دن اس کو لوگوں نے گھیر لیا اور 'جے شری رام' کا نعرہ لگانے پر مجبور کرنے لگے۔ جب اس نے ایسا کرنے سے انکار کیا تو اس کو بے رحمی سے مارا گیا۔ انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق پولس نے بڑی مشکل سے اس کیس کی ایف آئی آر فائل کی ۔ محض ڈیڑھ ماہ قبل یوپی کے سہارنپور ضلع میں ۳۵ سالہ مسلم شخص کو پیٹ پیٹ کرہلاک کردیا گیا۔ پولس ماننے سے انکار کررہی ہے کہ یہ ماب لنچنگ کا کیس ہے۔ پولس افسران اسے جھڑپ کا نام دے رہے ہیں۔ یہ صریح جھوٹ ہے اور اسرار کے خاندان کے لوگ اس کی مخالفت کررہے ہیں۔ وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کس بے رحمی سےاسرار کو پیٹا جارہا ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلمان اپنے حقوق سے واقف ہوتے، اس کے لئے مہم چلاتے اور عمومی بیداری پیدا کرتے۔ لیکن معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔ ماب لنچنگ اور دوسرے مظالم کے باوجود، مسلمانوں کی اکثریت کو اپنے حقوق اور قانونی تحفضات کا بنیادی علم تک نہیں ۔ سید عبیدالرحمن نے ایک بڑی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ یہ کتاب اردو میں ہے جو ہمارے مقامی اور مذہبی لیڈران کی زبان ہے جو عموما مدارس کی پیداوار ہوتے ہیں۔

کتاب کو سات ابواب میں بانٹا گیا ہے۔ ابواب کے عناوین ہیں 'مسلم اداروں کے لئے قانونی رہنمائی'، 'ایف آئی آر اور متعلقہ قوانین'، 'پولیس، اختیارات اور حدود'، گرفتار کئے جانے پر آپ کے حقوق'، 'پی آئی ایل'، 'مفاد عامہ کا مقدمہ'، اور 'آپ کے حقوق'۔ کتاب آسان اردو میں ہے اور قانونی اصطلاحات کا آسان ذبان میں ترجمہ دیا گیا ہے۔

کتاب کا نام: قانونی رہنمائی سیریز (مکمل)

مصنف: سید عبیدالرحمن، پی ڈی میتھیو

پبلشر: گلوبل میڈیا پبلکیشنز

صفحات 400،    قیمت: 400

ملنے کا پتہ: 

D-204, 4th Floor, Abul Fazl Enclave, Jamia Nagar, Okhla, New Delhi-110025 

Tel: 9818327757

نوٹ: اس کالم میں شائع مضامین کا  ادارہ ساحل آن لائن سے  متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

 

ایک نظر اس پر بھی

بی جے پی کے ترقی کے دعوے کھوکھلے: مایاوتی

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے جمعرات کے روز بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے ترقی کے وعدے کھوکھلے ہیں اور اس کا پردہ فاش ہو چکا ہے۔

مولانا کلیم صدیقی پر زبردستی مذہب تبدیل کروانے کا الزام بے بنیاد: مولانا ارشد مدنی

مولانا محترم کی گرفتاری پر صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی نے سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ مولانا کلیم صدیقی کی اتر پردیش اے ٹی ایس کی جانب سے گرفتاری کی خبر ملک کے تمام انصاف پسند شہریوں کے لئے باعث تسویش ہے۔

ترکی کے صدر طیب اردوغان کی طرف سے خوش خبری..! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  سمیع اللّٰہ خان

دو دن پہلے ترکی صدر نے تُرکوں کو خوش خبری سنانے کا اعلان کیا تھا چنانچہ (جمعہ کو  ترکی میں) نئے سال کی شروعات میں یکم محرم الحرام کو ‏رجب طیب اردوغان نے  ترک قوم کو خوشخبری دیتے ہوئے بتلایا کہ: بحرہ اسود میں ترکی کو 320 ارب کیوبک میٹر گیس کے وسیع ذخائر ملے ہیں، فصیح سونداج ڈرلنگ ...

بے باک، نڈراورقائدانہ صلاحیت کا، کما حقہ استعمال،مختلف الزاویاتی فوائد کے حصول میں ممد و مددگار ہوا کرتی ہے ۔۔۔ نقاش نائطی

مجھے شہر بھٹکل میں اُس وقت پھوٹ پڑنے والے فساد کے تناظر میں غالبا بنگلور سےبھٹکل تشریف لائے آئی جی پولیس کی موجودگی میں،اس وقت کی مجلس اصلاح و تنظیم کے وفد کی نیابت کرتے ہوئے سابق صدر تنظیم المحترم سید محی الدین برماور کی قیادت کا منظر یاد آرہا ہے۔ انہوں نے پریس کی موجودگی ...

کیا مسلمان بھی ہندوستانی شہری حقوق کے حق دار ہیں؟           از :سیدمنظوم عاقب لکھنو

پچھلے٩دسمبرسےحکوت ہنداورہندوستانی شہریوں کےبیچ ایک تنازعہ چل رہاہےجسکاسردست کوئی حل نظرنہیں آرہاہے،کیونکہ ارباب اقتدارسی اےاےکیخلاف احتجاج اوراعتراض کرنےوالوں کویہ باورقراردیناچاہتی ہیں کہ آپکااعتراض اوراحتجاج ہمارےلئے اہمیت کاحامل نہیں ہےاوراحتجاج اورمخالفت ...

ائے ارسلہ ! آہ! ظلم پھر ظلم ہے۔۔۔۔ خداتجھے سرسبز،شاداب ،آباد رکھے (بھٹکل کی ایک دینی بہن کا ملک سے جانے پر مجبور کی گئی بھٹکلی بہو کے نام ایک تاثراتی خط )

بھٹکل کی بہو پر گذشتہ روز جس طرح کے حالات پیش آئے، اُس پر بھٹکل کی ایک بہن نے میڈیا کے ذریعے ایک تاثراتی پیغام دیا ہے۔ جسے یہاں شائع کیا جارہا ہے۔

بھٹکل میں طبی سہولیات کا ایک جائزہ؛ تنظیم میڈیا ورکشاپ میں طلبا کی طرف سے پیش کردہ ایک رپورٹ

مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سے منعقدہ پانچ روزہ میڈیا ورکشاپ میں جو طلبا شریک ہوئے تھے، اُس میں تین تین اور چار چار طلبا پر مشتمل الگ الگ ٹیموں کو شہر بھٹکل کے مختلف مسائل کا جائزہ لینے اور اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، اس میں سے ایک  ٹیم جس میں  حبیب اللہ محتشم ...