بھٹکل میں ختم نہیں ہورہا ہے آدھار کارڈ کا مسئلہ۔ عوام کی دشواریوں کی کسی کو بھی فکر نہیں 

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 30th July 2019, 2:40 PM | ساحلی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

بھٹکل30جولائی (ایس او نیوز) نیا آدھار کارڈ بنانے یا پہلے سے موجود کارڈ میں کوئی ترمیم یا اپڈیٹ کرنے کے لئے بھٹکل کے عوام کو جس قسم کی پریشانی لاحق ہے اس کو کئی مرتبہ میڈیا میں پیش کیاگیا۔ منتخب عوامی نمائندوں اور سرکاری افسران کے علم میں بات لائی گئی، مگر تاحال اس کا کوئی بھی حل نہیں نکلا ہے۔ اور عوام مسلسل بارش کی پرواہ کیے بغیرصبح میں اپنی باری اور ٹوکن کے انتظار میں آدھی رات سے آدھار کارڈ بنانے کے مرکز پرلمبی لمبی قطار لگانے کے لئے مجبور ہیں۔

 سب سے دشوار کن بات یہ ہے کہ چھوٹے بچوں کے آدھار کارڈ بنوانے ہوں تو والدین کو انہیں ساتھ لے کر کئی گھنٹوں تک قطار میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔ نیمّدی کیندرا میں جب لوگ قطار میں لگے رہتے ہیں تو انہیں وہاں سے پوسٹ آفس میں چلے جانے کے لئے کہا جاتا ہے۔ وہاں پر پہلے سے ایک مقررہ تعداد میں ہی ٹوکن دئے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بیشتر افراد کو بار بار ایک مرکز سے دوسرے مرکز تک چکر لگاناپڑتا ہے۔29جولائی پیر کے دن آدھار کارڈ بنوانے کے لئے یہاں کے ’جناشری کیندرا‘ کے سامنے جو قطار لگی تھی اس میں سیکڑوں لوگ موجود تھے اور یہ قطار پرانے بس اسٹانڈ تک پہنچ گئی تھی۔

عوام کی مشکل یہ ہے کہ آج کے دور میں تقریباً ہر سرکاری اور غیر سرکاری کام کے لئے آدھار کارڈکی ضرورت پیش آرہی ہے۔لیکن سرکار نے گرام پنچایت، جناشری کیندرا، ناڈ کچیری اور دیگر مراکز پر نئے کارڈ بنوانے یا ترمیم و اضافہ کرنے کی جو سہولت دستیاب تھی اسے پوسٹ آفس اور جنا شری کیندرا تک ہی محدود کردیا ہے اس سے ہزاروں افراد متاثر ہورہے ہیں۔کیونکہ جنا شری کیندرا میں آدھار کارڈ کے علاوہ رہائشی سرٹیفکیٹ، ذات پات سرٹی فیکٹ، انکم سرٹیفکیٹ جیسے دیگر دستاویزات تیار کرنے کا کام بھی کیا جاتاہے۔اس وجہ سے روزانہ صرف 40 لوگوں کو ہی آدھارکارڈ بنوانے کا موقع دیاجاتا ہے۔ اسی طرح پوسٹ آفس میں بھی آدھار کارڈ بنوانے کی روزانہ تعداد بہت محدود ہے۔پورے بھٹکل تعلقہ میں ان دومراکز کو چھوڑکر کسی بھی دوسری جگہ آدھار کارڈ کی سہولت فراہم نہیں کی جارہی ہے۔ لہٰذاآدھار کارڈ بنوانے کے مراکز پر بار بار قطار لگانے اور اپنی باری نہ آنے پر واپس گھر لوٹنے سے عوام تنگ آگئے ہیں۔

عوام کی ایک شکایت یہ بھی ہے کہ آدھار کارڈ بنوانے کے لئے وہ لوگ رات بارہ بجے اور صبح چار بجے پہنچ کر قطار میں لگ جاتے ہیں، لیکن جب صبح میں دفتر کھلتا ہے تو ٹوکن دیتے وقت دوچار ایجنٹ اور دلال دفتر کے اندر پہنچ جاتے ہیں اور اپنے اثر و رسوخ سے قطار میں لگے بغیر ہی اپنا کام کروالیتے ہیں۔ اس سے قبل دلالوں کی اس کارستانی کے بارے میں میڈیا میں خبر عام ہوئی تھی تو اس وقت اسسٹنٹ کمشنر نے خود آدھار کارڈ کے مرکز پر پہنچ کر معائنہ کیا تھا اور حالات کو درست کرنے کے اقدامات کیے تھے۔ لیکن چند دنوں بعد پھر پرانی روش اور رفتار چل پڑی ہے۔ 

پیر کے دن  جب ڈپٹی کمشنر ہریش کمار بھٹکل کے دورے پر آے تھے تو عوام کو درپیش مشکلات ان کے سامنے رکھی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ آدھار کارڈ بنوانے کے لئے پوری ریاست میں ایسی دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ پھر بھی وہ کوشش کریں گے کہ ہر گرام پنچایت کی سطح پر آدھار کارڈ بنوانے یا اس میں ترمیم و اضافہ کی سہولت فراہم کی جائے۔ اس ضمن میں وہ حکومت کو اپنی سفارش روانہ کریں گے۔    

ایک نظر اس پر بھی

بھٹکل: مرڈیشور میں راہ چلتی خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش ہوگئی ناکام؛ علاقہ میں تشویش کی لہر

تعلقہ کے مرڈیشور میں ایک خاتون کو اغوا کرنے کی کوشش اُس وقت  ناکام ہوگئی جب اُس نے ہاتھ پکڑ کھینچتے وقت چلانا اور مدد کے لئے پکارنا شروع کردیا،  وارات  منگل کی شب قریب نو بجے مرڈیشور کے نیشنل کالونی میں پیش آئی۔واقعے کے بعد بعد نہ صرف مرڈیشور بلکہ بھٹکل میں بھی تشویش کی لہر ...

کیا شمالی کینرا سے شیورام ہیبار کے لئے وزارت کا قلمدان محفوظ رکھا گیا ہے؟

کرناٹکاکے وزیراعلیٰ  ایڈی یورپا نے دو دن پہلے اپنی کابینہ کی جو تشکیل کی ہے اس میں ریاست کے 13اضلاع کو اہمیت دیتے ہوئے وہاں کے نمائندوں کو وزارتی قلمدان سے نوازا گیا ہے۔اور بقیہ 17اضلاع کو ابھی کابینہ میں نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔

ساگر مالا منصوبہ: انکولہ سے بیلے کیری تک ریلوے لائن بچھانے کے لئے خاموشی کے ساتھ کیاجارہا ہے سروے۔ سیکڑوں لوگوں کی زمینیں منصوبے کی زد میں آنے کا خدشہ 

انکولہ کونکن ریلوے اسٹیشن سے بیلے کیری بندرگاہ تک ’ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت ریلوے رابطے کے لئے لائن بچھانے کا پلان بنایا گیا اور خاموشی کے ساتھ اس علاقے کا سروے کیا جارہا ہے۔

ماڈرن زندگی کا المیہ: انسانوں میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان۔ ضلع شمالی کینرا میں درج ہوئے ڈھائی سال میں 641معاملات!

جدید تہذیب اور مادی ترقی نے جہاں انسانوں کو بہت ساری سہولتیں اور آسانیاں فراہم کی ہیں، وہیں پر زندگی جینا بھی اتنا ہی مشکل کردیا ہے۔ جس کے نتیجے میں عام لوگوں اور خاص کرکے نوجوانوں میں خودکشی کا رجحان بڑھتا جارہا ہے۔

منگلورو پولیس نے ایک اور مشکوک کار کو پکڑا؛ پنجاب نمبر پلیٹ والی کار کے تعلق سے پولس کو شکوک و شبہات

دو دن دن پہلے لٹیروں اور جعلسازوں کی ایک ٹولی کے قبضے سے منگلورو پولیس نے ایسی کار ضبط کی تھی جس پر نیشنل کرائم انویسٹی گیشن بیوریو، گورنمنٹ آف انڈیا لکھا ہوا تھا۔اب مزید ایک مشکوک کار کو پولیس نے اپنے قبضے میں لیا ہے۔ جس پر بھی گورنمینٹ آف انڈیا لکھا ہوا ہے۔

بھٹکل میں بارش کی وجہ سے 50ایکڑ سے زائد زرعی زمین برباد : دھان کی فصل پانی میں بہہ گئی

تعلقہ میں  سیلاب کے کم ہونے کے بعد بارش سےہونے والے نقصانات ظاہر ہونےلگے ہیں۔ موسلا دھار بارش اور طوفانی ہواؤں سے گرنے والے گھروں کی مرمت و درستی ایک طرف تو  کیچڑ میں تبدیل ہوئی زرعی زمین اور فصل کی بربادی دوسری دکھ بھری کہانی سنارہی ہیں۔

بھٹکل چوتنی ندی کنارے بسنے والوں کی زندگی پرمنڈلاتا سیلاب کا خطرہ۔ پانچ دہائیوں کے بعد بھی نہیں ملا چھٹکارا

امسال برسنے والی تیز بارش نے  پورے ساحلی کنارے اور شمالی کرناٹکا کے مختلف علاقوں میں سیلاب سے جس طرح  تباہی مچائی ہے، ویسی طغیانی تو بھٹکل کی مشہور شرابی ندی میں دیکھنے کو نہیں ملی، مگر موڈ بھٹکل سے شروع ہونے والی اس ندی کے راستے میں چوتنی تک کنارے کنارے بسنے والوں کی زندگی پر ...

این آر سی کے تعلق سے غلط بیانی اور عوام کو خوف زدہ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے! ..... محمد برہان الدین قاسمی

 سوشل میڈیا پر کچھ لوگ این آر سی کے حوالے سے تبصرہ کررہے ہیں۔ اسی طرح کی ایک دس منٹ چوتیس سیکنڈ کا صوتی کلپ وہاٹس ایپ پر گردش کررہاہے جو السلام علیکم کے بعد "کیسے ہیں آپ لوگ..." سے شروع ہوتا ہے اور "مجھے لگا کہ اپنی بات شیئر کر دوں" پر ختم ہوتا ہے۔ اس میں کہاگیاہے کہ این آر سی کے ...

ضلع شمالی کینرا میں کس کو ملے گی وزارت؟ اسپیکر نے رد کردی ہے ہیبار کی رکنیت۔کیا ایڈی یورپاکے دل میں نہیں ہے کاگیری کی اہمیت ؟

ایڈی یورپا کی قیادت میں بی جے پی نے ریاستی اسمبلی نے اعتماد کا ووٹ جیت لیاہے اوراب اگلا مرحلہ وزارتی قلمدانوں کی تقسیم کا ہے۔ جس کے بارے میں خود بی جے پی خیمے ہلچل اور جوڑ توڑکی کوششیں یقینی ہیں۔