ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / اسپیشل رپورٹس / سپریم کورٹ کی ہائی وے ہدایات سے بھٹکل کے زمین مالکان میں تشویش، بائی پاس کا مطالبہ پھر زندہ

سپریم کورٹ کی ہائی وے ہدایات سے بھٹکل کے زمین مالکان میں تشویش، بائی پاس کا مطالبہ پھر زندہ

Mon, 14 Sep 2026 00:04:37    By Satish Kumar Naik
سپریم کورٹ کی ہائی وے ہدایات سے بھٹکل کے زمین مالکان میں تشویش، بائی پاس کا مطالبہ پھر زندہ

بھٹکل، 13 ستمبر (ایس او نیوز): قومی شاہراہوں کے اطراف زمین کے استعمال سے متعلق سپریم کورٹ کی حالیہ ہدایات نے بھٹکل کے رہائشیوں اور زمین مالکان میں ایک بار پھر تشویش پیدا کردی ہے۔ قومی شاہراہ 66 بھٹکل شہر کے گنجان آباد مرکزی علاقے سے گزرتی ہے، جس کے باعث شاہراہ کے اطراف موجود زمینوں کے مستقبل کے استعمال کو لے کر مقامی لوگوں میں بے چینی پائی جارہی ہے۔

سپریم کورٹ نے ریاستی حکومتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ متعلقہ ضوابط کے مطابق قومی شاہراہ کے وسطی نقطے سے 40 میٹر کے اندر رہائشی مقاصد کے لیے اور 75 میٹر کے اندر تجارتی مقاصد کے لیے زمین کے استعمال میں تبدیلی پر پابندی سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کریں۔ اس ہدایت کے بعد خاص طور پر ان لوگوں میں تشویش بڑھ گئی ہے جن کے پاس نصف گنٹہ، ایک یا دو گنٹہ یا چند گنٹہ زمین ہے اور جو مستقبل میں اپنی جائیداد پر تعمیر یا دیگر استعمال کے حوالے سے پابندیوں کا خدشہ ظاہر کررہے ہیں۔

بھٹکل میں یہ تشویش اس لیے بھی اہم ہے کہ شہر ایک جانب بحیرۂ عرب اور دوسری جانب مغربی گھاٹ کے درمیان واقع ہے، جبکہ موجودہ قومی شاہراہ شہر کے قلب سے گزرتی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ موجودہ شاہراہ کے اطراف زمین کے استعمال پر پابندیاں شہر کی مستقبل کی توسیع کو محدود کرسکتی ہیں اور ان خاندانوں کے مفادات کو متاثر کرسکتی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی زمین میں لگائی ہے۔

موجودہ صورتحال نے بھٹکل کے لیے ایک متبادل بائی پاس کی برسوں پرانی تجویز کو بھی دوبارہ بحث میں لا دیا ہے۔ 2012-13 میں قومی شاہراہ کے سروے کے دوران مقامی حلقوں نے گنجان شہری علاقے سے شاہراہ کو منتقل کرنے اور سرپن کٹے، مُٹّلی، تلااند اور کڈوین کٹے سے ہوتے ہوئے چتراپور کی جانب متبادل راستہ فراہم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

bhatkal-nh-66-2.jpg

بائی پاس کے حامیوں کا کہنا تھا کہ اس سے موجودہ شہر پر ٹریفک کا دباؤ کم ہونے کے ساتھ بھٹکل کو نئے کوریڈور کی جانب توسیع کا موقع ملے گا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ مجوزہ راستے کا تقریباً 70 فیصد حصہ محکمۂ جنگلات کی بنجر زمین سے گزر سکتا ہے، جبکہ تقریباً 30 فیصد حصہ آباد علاقوں سے گزرنے کی صورت میں زمین کے حصول اور معاوضے کی ضرورت پیش آئے گی۔

تاہم اس تجویز کو شہر کے بعض حلقوں کی مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ بائی پاس سے بھٹکل کی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں اور شہر معاشی اعتبار سے الگ تھلگ پڑ سکتا ہے۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ مجوزہ شاہراہ شہر سے 10 سے 15 کلومیٹر دور ہوگی اور اس کے لیے راستے میں آنے والے دیہی علاقوں کے غریب باشندے متاثر ہوسکتے ہیں۔

بائی پاس کے حامیوں نے ان خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ راستہ شہر سے اتنا دور نہیں ہے جتنا بتایا جارہا ہے۔ انہوں نے اڈپی اور منگلورو کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان شہروں نے بائی پاس کے باوجود ترقی کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

مسلم رہنماؤں، جن میں مرحوم ایس ایم سید خلیل اور جوکاکو عبدالرحیم بھی شامل تھے، نے بھی بائی پاس کی تجویز کو سراہتے ہوئے اسے بھٹکل کی مستقبل کی ترقی میں معاون قرار دیا تھا۔ تاہم سروے کا کام شروع ہونے کے بعد شہر کے ایک حلقے نے اس تجویز کی سخت مخالفت شروع کردی اور منصوبے کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس حلقے کی جانب سے یہ موقف پیش کیا گیا کہ بائی پاس بننے سے بھٹکل گنگولی جیسی صورتحال سے دوچار ہوسکتا ہے اور شہر کی ترقی متاثر ہوگی، جبکہ یہ دعوے بھی کیے گئے کہ بائی پاس شہر سے 10 سے 15 کلومیٹر باہر ہوگا۔

اس دوران بھٹکل میں قومی شاہراہ کے منصوبے سے متعلق مسائل کئی برسوں سے جاری ہیں۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ شاہراہ کے کام نے گزشتہ کئی برسوں کے دوران شہر میں ٹریفک اور آمدورفت کے مسائل پیدا کیے ہیں اور تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث عوام کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔

شہر کے قلب سے گزرنے والی شاہراہ پر تعمیراتی کام اب بھی جاری ہے اور منصوبے کی تکمیل کی واضح مدت سامنے نہیں آئی ہے۔ ٹریفک کے بڑھتے دباؤ اور بھیڑ کے درمیان شاہراہ پر گاڑیوں کی رفتار کو لے کر بھی مقامی باشندے تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔ مقامی آبادی کے لیے سروس روڈ کا کام بھی ابھی شروع نہیں ہوا ہے۔ عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ فور لین منصوبہ کب مکمل ہوگا، سروس روڈ کی تعمیر کب شروع ہوگی اور شاہراہ کے کنارے ڈرینیج کا کام کب مکمل کرکے عوام کو راحت فراہم کی جائے گی۔

سپریم کورٹ کی تازہ ہدایات نے موجودہ شاہراہ کے اطراف زمین مالکان کو درپیش غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ کردیا ہے اور بھٹکل کے بائی پاس کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس پس منظر میں مقامی باشندوں اور مختلف حلقوں کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ بھٹکل کے لیے متبادل بائی پاس کے امکان کا ازسرنو جائزہ لیا جائے، تاکہ شاہراہ کی حفاظت، شہر کی مستقبل کی توسیع اور موجودہ زمین مالکان و رہائشیوں کے مفادات کے درمیان توازن قائم کیا جاسکے۔

Click here for report in English

(مضمون نگار ستیش کمار نائک بھٹکل کے سینئر رپورٹر اور عرصۂ دراز سے کنڑا صحافت سے وابستہ ہیں)۔


Share: