نئی دہلی ،11/اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی)افغان وزیر اور طالبان نمائندے کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو شرکت سے روکنے کے واقعے پر ملک بھر میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ مختلف صحافیوں نے سوشل میڈیا پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ تمام خواتین رپورٹرز نے مقررہ لباس سے متعلق ضابطے کا احترام کیا تھا، اس کے باوجود انہیں اندر جانے نہیں دیا گیا۔
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اس معاملے پر وزیرِ اعظم نریندر مودی کو براہِ راست مخاطب کیا۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے بیان میں انہوں نے لکھا، ’’وزیرِ اعظم نریندر مودی جی، برائے کرم وضاحت کریں کہ طالبان نمائندے کی پریس کانفرنس سے خواتین صحافیوں کو کیوں ہٹایا گیا؟ اگر آپ کا خواتین کے حقوق پر یقین صرف انتخابی دکھاوا نہیں تو ملک کی بہترین خواتین رپورٹرز کی یہ توہین کیسے برداشت کی گئی؟ ہمارا ملک اپنی خواتین پر فخر کرتا ہے، ان کی بے عزتی ناقابلِ قبول ہے۔‘‘
’دی انڈین ایکسپریس‘ کے مطابق، نمایاں نیوز چینلز کی سینئر رپورٹرز سمیت ’دی انڈیپنڈنٹ‘ کی نمائندہ کو بھی پریس کانفرنس سے روک دیا گیا۔ یہ پریس کانفرنس اس وقت منعقد کی گئی جب طالبان وزیر نے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقات کی تھی۔
صحافیوں نے اس اقدام کو طالبان کے عورت دشمن رویے کی عکاسی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق طالبان حکومت نے افغانستان میں پہلے ہی خواتین کو ثانوی تعلیم، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور بیشتر دفاتر سے خارج کر رکھا ہے، اور اب اسی نظریے کی جھلک ہندوستان میں بھی دکھائی دی ہے۔
متعدد صحافیوں نے ہندوستانی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک خودمختار جمہوری ملک میں طالبان کے امتیازی رویے کے لیے جگہ بنانا قابلِ افسوس ہے۔ ان کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف صحافت کی آزادی بلکہ خواتین کی مساوی نمائندگی پر بھی کاری ضرب ہے۔ اس واقعے پر وزارتِ خارجہ کی جانب سے اب تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
دوسری جانب، جمعہ کو ہندوستان نے افغانستان میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا۔ یہ قدم نئی دہلی کی طالبان حکومت کے تئیں پالیسی میں ایک محتاط تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نئی دہلی میں طالبان وزیر کے ساتھ مشترکہ پریس بریفنگ کے دوران وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا، “ہندوستان افغانستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ہمارا قریبی تعاون نہ صرف افغانستان کی قومی ترقی بلکہ علاقائی استحکام اور لچک میں بھی معاون ثابت ہوگا۔”
صحافتی حلقے اب یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا طالبان کے نمائندے کو ہندوستان میں اس قدر آزادی دی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے عورت دشمن ضابطوں کو یہاں بھی نافذ کرے۔ اس واقعے نے حکومتِ ہند کے طرزِ عمل، سفارتی توازن اور خواتین کی نمائندگی کے معاملے پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔