نئی دہلی، 20/اکتوبر (ایس او نیوز /ایجنسی) کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے ایک پرانی خبر شیئر کرتے ہوئے حکومت پر اقتصادی پالیسی کے حوالے سے سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج غیر ملکی کمپنیاں ہندوستانی بینکوں پر قبضہ کر رہی ہیں، جبکہ 1969 میں جن سنگھ (بی جے پی کا پرانا نام) نے انہی غیر ملکی اداروں کے قومیانے کا مطالبہ کیا تھا۔
جے رام رمیش نے ایکس پر لکھا کہ ’’غیر ملکی فرمز کو ہندوستانی بینکوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی اجازت دینا غیر دانشمندانہ قدم ہے۔ اس سے ہماری مالیاتی خودمختاری پر سنگین خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔‘‘
انہوں نے اس سلسلے میں پانچ اہم مثالیں پیش کیں — لکشمی ولاس بینک کو سنگاپور کے ڈی بی ایس گروپ نے خرید لیا، کیتھولک سیریئن بینک کو کینیڈا کی فیرفیکس نے اور یس بینک پر جاپان کی سومیتومو متسوی بینکنگ کارپوریشن نے کنٹرول حاصل کیا۔ ان کے مطابق، اب دبئی کی ایمریٹس این بی ڈی آر بی ایل بینک کو خریدنے جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’’یہ سب کچھ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حکومت خود پہلی بار کسی سرکاری بینک یعنی آئی ڈی بی آئی بینک کی مکمل نجی کاری کرنے جا رہی ہے۔‘‘
جے رام رمیش نے اپنی پوسٹ کے ساتھ 28 دسمبر 1969 کی ایک تاریخی خبر بھی شیئر کی، جو اُس وقت کے پٹنہ اجلاس سے متعلق ہے، جہاں جن سنگھ نے بڑی غیر ملکی کمپنیوں اور بینکوں کے قومیانے کی قرارداد منظور کی تھی۔ اس خبر کے مطابق پارٹی کے اُس وقت کے رہنما بلراج مڈھوک نے مطالبہ کیا تھا کہ حکومت تمام بڑی غیر ملکی فرموں کو اپنے کنٹرول میں لے تاکہ ملک کی معیشت میں خود کفالت پیدا ہو اور بیرونی اثرات ختم ہوں۔
جے رام رمیش نے لکھا کہ ’’یہ تاریخ کا دلچسپ مگر سبق آموز لمحہ ہے۔ جن سنگھ نے اس وقت اندرا گاندھی پر غیر ملکی بینکوں کے قومیانے میں ناکامی کا الزام لگایا تھا لیکن آج انہی نظریاتی وارثوں کی حکومت غیر ملکی کمپنیوں کو ہندوستانی بینکوں پر قبضہ کرنے دے رہی ہے۔‘‘
انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ کیا مالیاتی خود مختاری کو قربان کر کے ترقی حاصل کی جا سکتی ہے؟ ان کے مطابق، ’’یہ پالیسیاں نہ صرف خطرناک ہیں بلکہ اس سے مستقبل میں ہندوستانی معیشت کی سمت غیر ملکی مفادات کے تابع ہو سکتی ہے۔‘‘