ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / کرناٹک میں ایس آئی آر پر کانگریس کو تشویش، کے سی وینوگوپال کا انتخابی فہرستوں میں شفافیت کا مطالبہ

کرناٹک میں ایس آئی آر پر کانگریس کو تشویش، کے سی وینوگوپال کا انتخابی فہرستوں میں شفافیت کا مطالبہ

Thu, 17 Sep 2026 12:39:09    S O News
کرناٹک میں ایس آئی آر پر کانگریس کو تشویش، کے سی وینوگوپال کا انتخابی فہرستوں میں شفافیت کا مطالبہ

بنگلورو ، 17/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کرناٹک میں جاری خصوصی انتخابی نظرثانی کے عمل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا عمل منصفانہ اور شفاف انداز میں انجام دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے حذف کیے گئے ہیں اور لاکھوں ووٹروں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جس کے باعث کانگریس نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

کے سی وینوگوپال نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے آج دو اہم اجلاس منعقد کیے۔ پہلے اجلاس میں تنظیم سازی مہم کے تحت نئے مقرر کیے گئے ضلعی صدور سے ملاقات کی گئی اور انہیں آئندہ کی ذمہ داریوں کے بارے میں رہنمائی فراہم کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ تنظیم سازی مہم کانگریس کی تنظیمی ساخت کو مضبوط بنانے کا ایک اہم عمل ہے، جس کا فیصلہ بیلگاوی میں منعقدہ توسیعی کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران ملک بھر میں نچلی سطح سے لے کر ریاستی کانگریس صدور تک 15,56,054 عہدیدار مقرر کیے گئے ہیں اور پارٹی تنظیم ایک نئے راستے پر آگے بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی میں کسی بھی شخص کو عہدہ ملنے کے ساتھ اس پر قیادت اور تنظیم کے تئیں ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ کرناٹک کے ضلعی صدور کے ساتھ اجلاس میں ان کے مستقبل کے کام کاج اور تنظیم کو نچلی سطح تک مضبوط بنانے کے طریقۂ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

کے سی وینوگوپال نے کہا کہ ضلعی صدور کی کارکردگی کا چھ ماہ بعد جائزہ لیا جائے گا۔ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں کو ذمہ داری جاری رکھنے کا موقع دیا جائے گا، جبکہ ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہنے والوں کی جگہ دوسرے افراد کو موقع دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی انچارج جنرل سکریٹری، کے پی سی سی صدر اور وزیر اعلیٰ تنظیم کے اہم قائدین ہیں اور پارٹی کا مقصد ریاست بھر میں نچلی سطح سے مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ دوسرے اجلاس میں کرناٹک میں جاری خصوصی انتخابی نظرثانی کے عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کے مطابق کانگریس اس معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف سیاسی جدوجہد کے ساتھ ساتھ انتخابی عمل میں شفافیت اور اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ پر بھی توجہ دے رہی ہے۔

کے سی وینوگوپال نے الزام عائد کیا کہ کرناٹک میں 5.54 کروڑ ووٹروں میں سے 1,07,96,415 نام حذف کیے گئے ہیں، جبکہ تقریباً 43 لاکھ ووٹروں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حذف کیے گئے نام حقیقی طور پر ایسے ووٹروں کے ہوں جو منتقل ہوچکے ہیں یا کسی اور وجہ سے فہرست میں شامل ہونے کے اہل نہیں ہیں تو کسی کو اعتراض نہیں ہوگا، لیکن موجودہ حالات میں انتخابی کمیشن کی جانب سے اپوزیشن کے سوالات کا مناسب جواب نہ دیے جانے کے سبب شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے مغربی بنگال اور اتراکھنڈ میں انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے بھی اپنے خدشات ظاہر کیے اور کہا کہ کانگریس ملک کی مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر کے عمل پر نظر رکھ رہی ہے۔

کے سی وینوگوپال نے کہا کہ کانگریس کو انتخابی کمیشن سے کسی خصوصی مدد کی توقع نہیں ہے، تاہم ایس آئی آر کا عمل منصفانہ اور شفاف ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک حکومت سے توقع ہے کہ اگر کوئی شخص اس عمل کے ذریعے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات عوام کے مینڈیٹ سے جیتے جاتے ہیں، ووٹوں میں مبینہ چھیڑ چھاڑ کے ذریعے نہیں۔ انگریس اس معاملے پر چوکس ہے اور ریاستی و قومی سطح پر انتخابی عمل میں کسی بھی مبینہ بے ضابطگی کو نظرانداز نہیں کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ضلعی سطح پر ایس آئی آر کا عمل کس طرح آگے بڑھ رہا ہے، اس سلسلے میں سینئر قائدین اور وزراء کے ساتھ مزید بات چیت کی جائے گی۔ ضلعی انچارج وزراء اور ارکان اسمبلی کو بھی اس عمل میں فعال طور پر حصہ لینے کی ہدایت دی جائے گی۔

اہل ووٹروں کے ووٹ کے حق سے محرومی سے متعلق سوال پر کے سی وینوگوپال نے کہا کہ اتراکھنڈ میں ایس آئی آر کے دوران بھی ووٹروں کے نام غیر معمولی انداز میں حذف کیے جانے کی شکایات سامنے آئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت شمالی کرناٹک کے قائدین نے بھی شکایات پیش کرنے کا موقع فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن بعض مواقع پر انتخابی کمیشن کے عہدیداروں نے اپوزیشن کی درخواستیں قبول نہیں کیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کرناٹک میں کانگریس نے اس معاملے پر 18 مرتبہ مختلف درخواستیں پیش کیں، لیکن کمیشن کی جانب سے مناسب ردعمل نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق اگر کسی سیاسی جماعت کے صدر یا ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ کی جانب سے شکایت پیش کی جاتی ہے تو انتخابی کمیشن کو اسے سننا چاہیے۔

مرکزی حکومت کی پالیسیوں اور یو پی آئی ادائیگیوں سے متعلق سوال پر انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام پر مسلسل مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے اور یو پی آئی ادائیگیوں پر فیس عائد کرنے کی سمت میں بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے اس فیصلے کو امریکی مفادات کے سامنے مرکزی حکومت کے جھکاؤ سے تعبیر کیا۔ یہ تمام باتیں انہوں نے سیاسی تنقید کے طور پر کہیں۔

کانگریس صرف کرناٹک تک محدود نہیں ہے، اس سوال پر کے سی وینوگوپال نے کہا کہ پارٹی قومی سطح پر بھی ایس آئی آر کے عمل کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف ریاستوں کی پردیش کانگریس کمیٹیوں کے ساتھ مسلسل رابطہ قائم ہے اور راجستھان سمیت دیگر ریاستوں میں بھی انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کے عمل کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کو دنیا کا سب سے جمہوری شخص قرار دینے سے متعلق بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کے سی وینوگوپال نے اسے مسترد کیا اور شدید تنقید کی۔ انہوں نے وزیر اعظم پر مختلف پالیسی معاملات میں مرکزی حکومت کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہوئے سخت سیاسی تبصرے کیے۔

وندے ماترم کو دو بندوں تک محدود رکھنے سے متعلق سوال پر کے سی وینوگوپال نے کہا کہ کانگریس ورکنگ کمیٹی کے اجلاس میں جو فیصلہ کیا گیا ہے، پارٹی کے تمام ارکان اس کے پابند ہیں۔


Share: