بنگلورو، 15 ستمبر (ایس او نیوز): کرناٹک پردیش کانگریس کے صدر بی کے ہری پرساد نے جیل میں بند سابق جے این یو طالب علم رہنما عمر خالد کو ’قوم پرست‘ قرار دیتے ہوئے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (ABVP) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا یہ بیان بنگلورو کی نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی (NLSIU) میں عمر خالد پر بنائی گئی ایک دستاویزی فلم کی مجوزہ نمائش کے تنازع کے درمیان سامنے آیا ہے۔ ہری پرساد نے کہا کہ عمر خالد کے بارے میں اے بی وی پی کو تبصرہ کرنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے، کیونکہ ان کے مطابق طلبہ کی یہ تنظیم ناتھورام گوڈسے کو پسند کرتی ہے۔
ہری پرساد نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’عمر خالد ایک قوم پرست ہیں۔‘‘ ہری پرساد نے گوڈسے کو ملک کا پہلا دہشت گرد اور ملک دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ گوڈسے کو پسند کرتے ہیں، انہیں عمر خالد کے بارے میں بات کرنے کا نہ اخلاقی حق ہے اور نہ اخلاقی حیثیت۔ ان کا یہ بیان اس وقت آیا جب اے بی وی پی نے NLSIU میں عمر خالد پر بنائی گئی دستاویزی فلم کی نمائش مستقل طور پر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
تنازع کی اصل وجہ کیا ہے؟:
بنگلورو کی NLSIU میں فلم ساز للت واچانی کی 2024 کی دستاویزی فلم “Prisoner No. 626710 Is Present” کی نمائش 14 ستمبر کو ہونے والی تھی۔ فلم عمر خالد کی گرفتاری، ان کی زیرِ سماعت قید اور اس معاملے سے جڑے قانونی و جمہوری سوالات پر مرکوز ہے۔ یہ پروگرام یونیورسٹی کی طلبہ تنظیم Law and Society Committee (Law Soc) کی جانب سے منعقد کیا جارہا تھا اور اسے Political Prisoners’ Day کے موقع پر ’solidarity screening‘ کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔
اے بی وی پی نے نمائش کی مخالفت کرتے ہوئے اسے سیاسی پروپیگنڈے کا ذریعہ قرار دیا اور یونیورسٹی انتظامیہ سے پروگرام منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے بعد میں مرکزی حکومت سے بھی مداخلت کی اپیل کی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی اور وزیر مملکت برائے قانون ارجن رام میگھوال کو خط لکھ کر نمائش مستقل طور پر منسوخ کرنے اور NLSIU انتظامیہ کے خلاف اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
NLSIU نے نمائش کیوں ملتوی کی؟:
NLSIU نے مجوزہ نمائش جو 14 ستمبر کو ہونی تھی گنیش تہوار کو دیکھتے ہوئے ملتوی کردیا۔ یونیورسٹی کے مطابق پروگرام کو حفاظتی اور انتظامی/لاجسٹک وجوہات کے پیش نظر دوبارہ مقرر کیا جائے گا اور اسی تعلیمی سہ ماہی میں اسے منعقد کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ یونیورسٹی نے یہ بھی واضح کیا کہ پروگرام کو کسی فرد یا تنظیم کے دباؤ میں منسوخ نہیں کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کی جانب سے بھی درخواست کی گئی تھی کیونکہ گنیش تہوار کی ڈیوٹی کے باعث پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد دستیاب نہیں تھی اور نمائش کی مخالفت کے تناظر میں ممکنہ امن و امان کی صورتحال سنبھالنا مشکل ہوسکتا تھا۔
اے بی وی پی کا ہری پرساد کو جواب:
ہری پرساد کے بیان پر اے بی وی پی نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ تنظیم کے بنگلورو سٹی صدر ابھینندن مرجی نے سوال اٹھایا کہ کانگریس کسی ایسے شخص کو ’قوم پرست‘ کیسے قرار دے سکتی ہے جس کے بارے میں تنظیم کا دعویٰ ہے کہ اس نے پارلیمنٹ حملے کے مجرم افضل گرو کی حمایت اور اس کی یاد میں پروگرام کی حمایت کی تھی۔
اے بی وی پی نے یہ بھی سوال کیا کہ اگر عمر خالد کو قوم پرست قرار دیا جارہا ہے تو کیا کانگریس افضل گرو کی مدح یا حمایت کرنے والوں کی بھی حمایت کرتی ہے؟ اے بی وی پی کے مطابق، سنگین UAPA الزامات کا سامنا کرنے والے شخص کو ’محب وطن‘ قرار دینا قومی سلامتی کے معاملے پر کانگریس کے موقف کو ظاہر کرتا ہے۔
بی جے پی کا بھی سخت حملہ:
کرناٹک بی جے پی صدر بی وائی وجیندر نے بھی ہری پرساد کے بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے X پر کہا کہ عمر خالد کو ’قوم پرست‘ قرار دینا ہر محب وطن ہندوستانی کی توہین ہے اور ان فوجیوں اور شہیدوں کی بھی توہین ہے جنہوں نے ملک کے لیے جانیں قربان کیں۔ وجیندر نے ہری پرساد سے اپنے بیان پر فوری طور پر عوام سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔