ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بریلی: ’آئی لو محمد‘ مظاہروں کے بعد مسلمانوں پر سختی کرنے اور اجتماعی سزا دینے کا پولس پر الزام؛ اے پی سی آر نے جاری کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ

بریلی: ’آئی لو محمد‘ مظاہروں کے بعد مسلمانوں پر سختی کرنے اور اجتماعی سزا دینے کا پولس پر الزام؛ اے پی سی آر نے جاری کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ

Sun, 12 Oct 2025 20:22:02    S O News
بریلی: ’آئی لو محمد‘ مظاہروں کے بعد مسلمانوں پر سختی کرنے اور اجتماعی سزا دینے کا پولس پر الزام؛ اے پی سی آر نے جاری کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ

نئی دہلی، 12 اکتوبر (ایس او نیوز): انسانی حقوق کے تحفظ اور ضرورت مندوں کو قانونی امداد فراہم کرنے والے ادارے ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سیول رائٹس (APCR) نے اترپردیش کے شہر بریلی میں منعقدہ “آئی لو محمد” مظاہروں کے بعد پولیس اور انتظامیہ پر مسلمانوں کے خلاف سخت کارروائی اور اجتماعی سزا دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کی ہے۔

رپورٹ میں اے پی سی آر نے کہا ہے کہ “آئی لو محمد” مظاہروں کے بعد پولیس اور انتظامیہ نے مسلمانوں کے خلاف اجتماعی سزا کی پالیسی اپناتے ہوئے ان پر بے جا مقدمات درج کیے۔

یہ مظاہرے 26 ستمبر 2025 کو بریلی میں معروف بریلوی رہنما اور اتحادِ ملت کونسل کے صدر مولانا توقیر رضا خان کی قیادت میں ہوئے تھے۔ یہ احتجاج دراصل کانپور میں درج اُس ایف آئی آر کے خلاف تھا جو عید میلاد النبیؐ کے موقع پر “I Love Muhammad” کا بینر لگانے پر قائم کی گئی تھی۔

مقامی شہریوں نے فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کو بتایا کہ بینر انتظامیہ کی اجازت سے نصب کیا گیا تھا، تاہم بعض انتہا پسند ہندو تنظیموں نے اس کی مخالفت کی۔ جب منتظمین نے اس شرانگیزی کی شکایت پولیس سے کی تو الٹا انہی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب بریلی میں جمعہ کی نماز کے بعد ہزاروں افراد پُرامن انداز میں مظاہرے کے لیے جمع ہوئے تو پولیس نے اچانک لاٹھی چارج کردیا، حالانکہ کسی قسم کی وارننگ نہیں دی گئی تھی۔ اے پی سی آر کا کہنا ہے کہ بیشتر مظاہرین پُرامن تھے لیکن پولیس نے “غیر متناسب اور جارحانہ طاقت” کا استعمال کیا۔

واقعے کے صرف 48 گھنٹوں کے اندر دس ایف آئی آرز درج کی گئیں، جن میں دو ہزار سے زائد افراد کو نامزد کیا گیا، جبکہ مولانا توقیر رضا خان کو کئی مقدمات میں مرکزی ملزم قرار دیا گیا۔ 

اے پی سی آر کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ صرف 30 دنوں کے دوران مختلف 23 شہروں میں مجموعی طور پر 45 ایف آئی آرز درج کی گئیں،  اور حیرت انگیز طور پر صرف مسلمانوں کو ہی نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ کے مطابق 4,505 مسلمانوں کے خلاف مقدمات درج  کیے گئے، جن میں 544 افراد کے نام شامل ہیں جبکہ 3,961 افراد کو “نامعلوم” قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق  7 اکتوبر تک 265 مسلمانوں کو گرفتار کیا جا چکا تھا۔

اے پی سی آر کی ٹیم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بعد ازاں انتظامیہ نے مسلمانوں کی ملکیت والی متعدد عمارتوں اور دکانوں پر کارروائی کی۔ پہلوان مرکز مارکیٹ میں واقع 32 دکانوں کو بغیر کسی نوٹس کے سیل کردیا گیا، جبکہ مولانا توقیر رضا کے قریبی ساتھی ڈاکٹر نفیس کی ملکیت والا رضا پیلس بینکوئٹ ہال بھاری پولیس بندوبست کے درمیان منہدم کردیا گیا۔

ایک کرایہ دار نے ٹیم کو بتایا کہ “ہمیں صرف چند منٹ کا وقت دیا گیا، پولیس کی بڑی تعداد موقع پر موجود تھی، اور ڈاکٹر نفیس اس وقت جیل میں تھے۔”

رپورٹ میں پولیس کی ایف آئی آرز کو مبہم، غیر واضح اور مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ “ایک آئینی حق یعنی مذہبی اظہار کو مجرمانہ فعل بنا دیا گیا۔” رپورٹ کے مطابق کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں تھی، اس کے باوجود پولیس نے ریاست کے خلاف بغاوت اور قتل جیسے دفعات شامل کر دیں۔

اے پی سی آر نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا کہ پولیس اور انتظامیہ کا رویہ مسلمانوں کے خلاف “انتہائی جارحانہ اور غیر شفاف”  رہا،  جبکہ ہندو اکثریتی علاقوں میں کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

اے پی سی آر نے سفارش کی ہے کہ حکومت فوری طور پر مسلم رہنماؤں اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کا آغاز کرے اور رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے تمام مسلمانوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کو یقینی بنائے۔ تنظیم نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ جن اہلکاروں نے بغیر نوٹس اور مناسب قانونی عمل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جائیدادوں کو سیل کیا یا عمارتوں کو منہدم کیا، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ اے پی سی آر نے غیر قانونی گرفتاریوں اور انہدامات کی مکمل تحقیقات کرانے اور اختیارات کے غلط استعمال میں ملوث افسران کو سزا دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

بتاتے چلیں کہ  بریلی میں بے گناہ شہریوں پر ظلم و ناانصافی کے معاملات سامنے آنے کے بعد اے پی سی آر کی جانب سے سینئر وکلاء، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنان پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تھا۔ وفد نے متاثرین، مقامی وکلاء، سماجی کارکنان اور عینی شاہدین سے ملاقات کرتے ہوئے پولیس کے ظالمانہ طرزِ عمل اور غیر قانونی گرفتاریوں کی تفصیلات جمع کیں اور تمام مشاہدات کے بعد اپنی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ جاری کی۔

متاثرین سے گفتگو کے بعد اے پی سی آر کی جانب سے متاثرین کو مکمل قانونی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا گیا ہے، اور  کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر یہ مقدمات ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کیے جائیں گے۔ اے پی سی آر کے وفد نے زور دیا کہ ریاست کو شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔


Share: