سری نگر ، 17؍جولائی (ایس او نیوز/آ ئی این ایس انڈیا )کشمیر میں جاری حالیہ بحران پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ نے وادی میں اخبارات کی اشاعت پر پابندی لگا دی ہے ۔انتظامیہ نے ایک مقامی اخبار کے آفس پر چھاپہ مار کر اس کی کاپیاں ضبط کر لیں۔اس معاملے میں کشمیر کے صحافیوں نے مظاہرہ بھی کیاہے ۔وادی میں ہوئے حالیہ تشدد میں اب تک 43شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ابھی تک سیکورٹی فورسز کے 1500جوان سمیت 3140افراد زخمی ہوئے ہیں۔دعوی کیا جا رہا ہے کہ 1990کے بعد سے ایسا پہلی بار ہوا ہے، جب میڈیا پر اس طرح کی بندشیں لگائی گئی ہیں۔وہیں کشیدگی کے پیش نظر ریاستی حکومت نے 24؍جولائی تک اسکولوں کو بند رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ادھر وادی میں آٹھویں دن بھی حالات کشیدہ رہے ، وادی کے سبھی 10اضلاع میں کرفیو ابھی بھی جاری ہے ۔اس کے باوجود کئی علاقوں میں مظاہرین پاکستان کے جھنڈے لے کر ہندوستان کی مخالفت میں نعرے بازی کی ۔کپواڑہ میں پولیس چوکی پر حملہ کرکے پٹرول بم سے آگ لگانے کی کوشش کی گئی ،جان بچانے کے لیے پولیس کو فائرنگ کرنی پڑی جس میں مظاہرہ کررہے شوکت احمد نامی ایک شہری کی موت ہو گئی جبکہ درجن بھر زخمی ہوئے۔بانڈی پورہ کے وولر پارک میں پولیس گارڈ روم پر حملہ کیا گیا۔اس حملے میں سب انسپکٹر سمیت 4 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔افواہ پھیلانے والی کسی بھی واقعہ کوروکنے کے لیے موبائل ،ٹیلی فون سروس بند کردی گئی ہیں۔مقامی ٹی وی کیبل نیٹ ورک بھی بند کروا دئیے گئے ہیں۔ادھرکشمیر میں جاری تشدد کی مخالفت میں پاکستان 19؍جولائی کے بجائے اب 20؍جولائی کو یوم سیاہ منائے گا ۔جمعہ کوپاکستان کی وفاقی کابینہ نے برہان وانی کی موت کے خلاف پورے ملک میں یوم سیاہ منانے کا فیصلہ کیاتھا۔اب19؍جولائی کو کشمیر کا مرڈر ڈے منایا جائے گا۔وہیں ہفتہ کو سخت سیکورٹی کے درمیان جموں سے دو دن کے وقفے کے بعد امرناتھ یاترا کا دستہ روانہ کردیا گیاہے ۔اس میں تین ہزار بھکت شامل ہیں۔ہفتہ کو پولیس نے ایک مقامی اردواورانگریزی اخبارات کو ضبط کر لیا۔اس سے پہلے جمعہ کی رات پرنٹنگ پریس پر چھاپے ماری کی گئی تھی ۔ناشرین نے ویب سائٹ پردعویٰ کیا کہ ان کی پرنٹ کاپیاں ضبط کر لی گئیں اور8 افراد کو حراست میں لے لیاگیاہے ۔