کولکتہ 5/اکتوبر(ایس او نیوز) – مغربی بنگال کے ہمالیائی خطے میں شدید بارش اور مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں کم از کم 20 افراد ہلاک ہو گئے، جب کہ متعدد افراد لاپتہ ہیں۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق دارجلنگ، کالمپونگ، کرسیانگ اور اطراف کے پہاڑی علاقوں میں ہفتہ کی رات سے جاری موسلا دھار بارش نے تباہی مچا دی ہے۔ مقامی انتظامیہ اور قومی آفات سے نمٹنے والے ادارے (این ڈی آر ایف) نے امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں، تاہم دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور بند راستوں کے باعث ریسکیو آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ جانی نقصان کرسیانگ ضلع کے میرک سب ڈویژن میں ہوا ہے، جہاں اب تک 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ دارجلنگ میں مزید سات افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ مختلف مقامات پر بارش کے باعث زمین کھسکنے سے مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جب کہ کئی گاڑیاں ملبے تلے دب گئیں۔ میچی، میرک بستی، سرسالی، جسبرگاؤں اور ناگرکت کے علاقوں سے بھی اموات کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
شدید بارش کے باعث پلوں اور سڑکوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ تیستا ندی پر قائم ایک لوہے کا پُل سیلابی ریلے میں بہہ گیا، جس سے سکم اور کالمپونگ کا دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ میرک اور دودھیا کے درمیان قائم پل کے منہدم ہونے کے بعد سیلی گوڑی جانے والی سڑک بند ہو چکی ہے۔ کرسیانگ سے دارجلنگ جانے والی مرکزی سڑک ڈلارم کے مقام پر مکمل بند ہے، جب کہ روہنی روڈ زمین کھسکنے کے باعث بیٹھ گئی ہے۔ پُل بازار اور تھانا لائن کو جوڑنے والا پُل بھی ایک بڑے تودے کی زد میں آ کر بہہ چکا ہے۔
ادھر دارجلنگ پولیس نے ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں سیاح، جو درشن اور پوجا کی چھٹیوں کے لیے ان پہاڑی علاقوں کا رخ کیے ہوئے تھے، اب ان علاقوں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ پولیس، مقامی انتظامیہ اور این ڈی آر ایف کی مشترکہ کوششوں سے تندھریا روڈ کے ذریعے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ گورکھا لینڈ ٹیریٹوریل ایڈمنسٹریشن (جی ٹی اے) نے فوری طور پر تمام سیاحتی مقامات، جن میں ٹائیگر ہل اور راک گارڈن شامل ہیں، بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی نے ریاستی سیکریٹریٹ "نابنّا" میں ہنگامی اجلاس طلب کیا اور 24 گھنٹے کام کرنے والا کنٹرول روم قائم کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود صورتحال کی نگرانی کر رہی ہیں اور پیر کے روز متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گی۔ اپنے سوشل میڈیا پیغام میں انہوں نے اس صورتحال کو "انتہائی سنگین" قرار دیتے ہوئے کہا کہ شمالی بنگال میں صرف 12 گھنٹوں کے دوران 300 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کے بقول، بھوٹان اور سکم سے سانکوش ندی میں پانی کی شدید آمد نے صورتحال کو مزید ابتر کر دیا ہے۔
ادھر وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی دارجلنگ اور دیگر علاقوں میں ہونے والی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے اور مرکز ہر ممکن تعاون فراہم کرے گا۔
دوسری جانب، محکمہ موسمیات نے دارجلنگ، کالمپونگ، جلپائی گوڑی اور علی پور دوار سمیت ہمالیائی خطے کے لیے ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق پیر، 7 اکتوبر تک ان علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث مزید تودے گرنے اور سڑکیں بند ہونے کا خدشہ ہے۔ متاثرہ علاقوں میں زمین کی نمی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، جو مزید خطرات کو جنم دے سکتی ہے۔