نئی دہلی، 15؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )’شیلا دکشت اترپردیش میں کانگریس کا نیا چہرہ‘ کے اعلان پر اظہارِ افسوس کرتے ہوئے آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے نیشنل آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر ڈی آر سنگھ نے کہا کہ اردو پنجابی اور طب یونانی کو شیلادکشت نے اپنی پندرہ سالہ حکمرانی کے دوران شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس سے نہ صرف اردو داں طبقہ بلکہ روایتی ہندوستانی طریقہ علاج طب یونانی سے محبت رکھنے والوں کو بھی صدمہ پہنچا۔ ڈاکٹر ڈی آر سنگھ نے یہ بھی کہا کہ محترمہ شیلا دکشت نے متعدد مرتبہ مسیح الملک حکیم اجمل خاں کی مسیحائی اور قومی خدمات کے اعتراف میں ان کے قائم کردہ 100 سال پرانے آیوروید اینڈ یونانی طبیہ کالج، قرول باغ کو یونیورسٹی بنانے کا نہ تو وعدہ نبھایا اور نہ ہی طب یونانی کے فروغ کے لیے کوئی منصوبہ بنایا، بلکہ طب یونانی کو نقصان پہنچانے کے لیے انہوں نے محکمہ ISM&H میں ڈپٹی ڈائرکٹر یونانی کا عہدہ بھی خالی رکھا، جو آج تک خالی ہے۔ جس کی وجہ سے دہلی میں طب یونانی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اپنے پندرہ سالہ دورِ اقتدار میں محکمہ تعلیم کے ذریعہ ایک بھی اردو ٹیچر کا تقرر نہیں کیا۔ ڈاکٹر ڈی آرسنگھ نے مزید کہا کہ مرکزی یا صوبائی حکومتوں پر لازم ہے کہ وہ عوام کے حق میں انصاف کے ساتھ حکمرانی کریں، دورانِ حکمرانی کسی خاص طبقہ یا خفیہ ایجنڈے پر کام نہیں کرنا چاہیے کیوں کہ ایسا کرنے سے قوم کوشدید نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ لہٰذا سبھی قومی و صوبائی سیاسی جماعتوں کو اپنے نمائندوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے تاکہ وہ عوام کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ نہ کرسکیں۔