ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کلبرگی قتل معاملہ : سی آئی ڈی کو اہم سراغ مل گیا،تین ترقی پسند ادیبوں کا قتل ایک ہی پستول سے کیاگیا:رپورٹ

کلبرگی قتل معاملہ : سی آئی ڈی کو اہم سراغ مل گیا،تین ترقی پسند ادیبوں کا قتل ایک ہی پستول سے کیاگیا:رپورٹ

Sun, 21 Aug 2016 12:11:37    S.O. News Service

بنگلورو۔20؍اگست (ایس اونیوز؍صدیق آلدوری)ریاست کے نامور ترقی پسند کنڑا ادیب ایم ایم کلبرگی قتل معاملہ کی جانچ کررہی سی آئی ڈی پولیس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انہیں کلبرگی قتل معاملہ میں ایک اہم سراغ حاصل ہوا ہے۔ پونے کے ترقی پسند ادیب نریندر گووند راؤ اور مہاراشٹرا کے کولہاپور کے گووند راؤ پنسارے کے قتل کے لئے جس پستول کا استعمال کیا گیا تھا ایسے ہی ایک پستول سے کرناٹک کے ادیب ومفکر ایم ایم کلبرگی کو قتل کیاگیا ہے۔ اب تک کی جانچ کے بعد یہ قیاس کیا جارہاہے کہ ان تینوں ترقی پسند ادیبوں وریسرچ اسکالرس کا قتل ایک ہی پستول سے کیاگیا ہے۔ یہ انکشاف اسکاٹ لینڈ یارڈ کی پولیس رپورٹ میں کیاگیا ہے۔ دھابولکر کے قتل معاملہ میں شبہ کے تحت گرفتار کئے گئے سناتن دھرم کے ایک کارکن ڈاکٹر رویندر تاوڈے پر اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے اس بنیاد پر شبہ ظاہر کیا ہے کہ کلبرگی اور دھابولکر کا قتل ایک ہی پستول کی گولیوں سے کیاگیا ہے۔ سی آئی ڈی پولیس نے اب دوبارہ سی بی آئی سے درخواست کی ہے کہ انہیں دوبارہ ویریندر تاوڈے سے پوچھ تاچھ کی اجازت دی جائے لیکن سی بی آئی پولیس نے اب تک اس درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ سی آئی ڈی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے یہ بات بتائی ہے۔ ان تینوں ادیبوں کا قتل 7.65 ایم ایم کی غیر ملکی پستول استعمال کرکے کیاگیا ہے۔ جس کا پتہ قتل کے بعد مقتول کے جسم سے نکالی گئی گولی اور مقام قتل پر ملنے والے خالی بلٹ سے کیاگیا ہے۔ یف یس یل کی سابقہ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیاگیا تھا لیکن دھابولکرکے قتل معاملہ کی جانچ کررہی سی بی آئی پولیس نے ممبئی ہائی کورٹ کی ہدایت پر اس کی تصدیق کے لئے یف یس یل ماہرین کی رپورٹ گزشتہ ماہ مئی میں اسکاٹ لینڈ یارڈ کی پولیس کو روانہ کی تھی۔ اسکاٹ لینڈ یارڈ پولیس نے یف یس یل کی رپورٹ اور تینوں کے قتل کے مقام سے پولیس کے ضبط شدہ بلٹ کے نمونوں کا جائزہ لے کر یہ رپورٹ دی ہے کہ تینوں کے قتل میں ایک ہی طرح کے بلٹ استعمال ہوئے ہیں اور تینوں قتل معاملات میں ایک ہی ماڈل کی موٹر سائیکل بھی استعمال کی گئی ہے۔ دھابولکر کے قتل کے الزام میں گرفتار ویریندرا تاوڈے کے پاس جو سیاہ رنگ کی موٹر سائیکل ضبط کی گئی تھی۔ دھابولکر اور پنسارے کے قتل کے لئے بھی اس ماڈل اور رنگ کی موٹر سائیکل استعمال کئے جانے کے ثبوت ملے ہیں اور قتل کے ان تینوں معاملات میں تاوڑے کے ملوث ہونے کا ظاہری طور پر شبہ کیا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ 30؍اکتوبر2015 کی صبح موٹر سائیکل پر دو افراد طلباء کے بھیس میں آکر کلبرگی کے گھر کا دروازہ کھلوانے کے بعد ان پر گولیاں چلاکر انہیں قتل کرکے فرار ہوگئے تھے۔ فروری 2015 میں کولہاپور میں صبح چہل قدمی کے لئے جارہے پنسارے پرگولیاں چلاکر انہیں قتل کرکے قاتل سیاہ موٹر سائیکل پر فرار ہوئے تھے۔ اسی طرح اگست 2013میں پونہ میں صبح کے وقت اپنے گھر سے باہر چہل قدمی کررہے دھابولکر پر بھی گولیاں برساکر ملزم سیاہ موٹرسائیکل میں فرار ہوئے تھے۔

 


Share: