اسلام آباد ،13؍اگست(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)افغانستان کے صوبہ لوگر میں گزشتہ ہفتے پاکستانی ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ کے بعد یرغمال بنائے عملے کے افراد کو بازیاب کروا لیا گیا ہے۔پاکستان کی وزارت خارجہ نے جمعہ کو تصدیق کہ ہیلی کاپٹر پر سوار چھ پاکستانی اور ایک روسی شہر اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ ہیلی کاپٹر کے عملے کو پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر قبائلی تبادلے کے تحت رہا کیا گیا۔ترجمان کے مطابق ہیلی کاپٹر کے ذریعے تمام افراد کو وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا)سے اسلام آباد منتقل کیا گیا اور یہ تمام افراد محفوظ و صحت مند ہیں۔تاہم پاکستانی ہیلی کاپٹر کے عملے کی بازیابی سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔لیکن پاکستانی عہدیداروں کی طرف یہ کہا گیا تھا کہ قبائلی عمائدین کی مدد اور دیگر ذرائع سے ہیلی کاپٹر کے عملے کی بازیابی کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔پنجاب کی صوبائی حکومت کا ایک سویلین ہیلی کاپٹر ایم آئی 17معمول کی مرمت کے لیے ازبکستان کے راستے روس جا رہا تھا کہ افغانستان کی فضائی حدود سے گزرتے ہوئے صوبہ لوگر کے دور دراز علاقے میں اُسے ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔ہیلی کاپٹر پر چھ پاکستانیوں کے علاوہ ایک روسی شہر سوار تھا۔جس کے بعد افغان حکام نے کہا تھا کہ ہیلی کاپٹر کے عملے کو افغان طالبان نے یرغمال بنا لیا ہے۔یہ واضح نہیں کہ ہیلی کاپٹر کو کس بنا پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔
پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے نا صرف افغان صدر اشرف غنی سے اس سلسلے میں رابطہ کیا تھا بلکہ افغانستان میں تعینات امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن سے بھی مدد طلب کی تھی۔وزیراعظم نواز شریف کی طرف سے بھی ایک بیان کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت متعلق افغان حکام سے رابطے ہیں اور ہیلی کاپٹر کے عملے کی بازیابی کے لیے تمام رسمی اور غیر رسمی ذرائع استعمال کیے جا رہے ہیں۔افغان حکومت نے بھی پاکستانی ہیلی کاپٹر کے عملے کی بازیابی کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی تھی لیکن یہ واضح نہیں کہ اس بازیابی میں افغانستان کا کتنا کردار ہے۔