انسانی حقوق کی خلاف ورزی بند ہو،پنتھرس پارٹی کی گورنرسے اپیل
جموں، 18؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )نیشنل پنتھرس پارٹی کے بانی پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں و کشمیر کے گورنر مسٹر این این ووہرا سے پرزورالفاظ میں اپیل کی ہے کہ وہ جموں و کشمیر آئین کی دفعہ ۔92 کا استعمال کرکے جموں و کشمیر میں گورنر راج نافذ کردیں اور موجودہ حکومت اور اسمبلی کو تحلیل کرنا انتہائی ضروری ہے، تاکہ کشمیر وادی میں کشیدگی کی صورت حال کو ختم ہو۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ آج وادی کشمیر میں وہی حالات پیدا کر دیے گئے ہیں، جو 1947 میں پاکستان کی جانب سے آئے قبائلی مسلح افراد نے پیدا کئے تھے، اس وقت ہندوستانی فوج اور شیخ عبداللہ اور ان کے ساتھی مرزا افضل بیگ کی رہنمائی بھی کشمیری عوام کے ساتھ تھی۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ یہ تکلیف دہ حالات ہیں کہ جموں و کشمیر کی آر ایس ایس (بی جے پی) ۔پی ڈی پی کی حکومت جموں و کشمیر میں لوگوں کے ساتھ مل کر امن بحال کرنے میں ناکام رہی ہے اوروادی کشمیر کو ایک قیدخانہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری وادی کشمیر میں پولیس وغیرہ نے محاصرہ کر کے ایک ہفتے سے پوری وادی کشمیر کے لوگ قیدیوں کی طرح اپنے گھروں میں بندکرکے رکھا ہوا ہے۔ پنتھرس پارٹی کے نائب صدر مسٹر مسعود اندرابی اور کشمیر صوبے کے صدر فاروق ڈار نے بی ایس این ایل ٹیلی فون سے یہاں کی دردک ناک کہانی پروفیسر بھیم سنگھ کو بیان کی۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر کے لوگ اپنے اپنے گھروں میں قیدی بنے ہوئے ہیں، نہ روٹی، نہ کھانا، نہ دوائی اور نہ پانی۔ ایسا لگتا ہے کہ اب انہیں کوئی شخص بھی جینے کی ہمت نہیں دلا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جیسی کوئی بھی چیز یہاں موجود نہیں ہے۔ کئی نہایت بیمار لوگ اپنے گھر میں دم توڑ گئے ہیں، انہیں قبرستان میں لے جانا بھی ممکن نہیں ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے وادی کشمیر کو پورے ہندوستان سے توڑنے کی ایک سازش کی جارہی ہے اور اس کی ذمہ داری ہوگی بی جے پی۔پی ڈی پی حکومت پر اور ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی بھی ان حالات کیلئے ذمہ دار ہوں گے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے ہندوستان کے صدر جناب پرنب کمار مکھرجی سے جموں و کشمیر کے لوگوں کے طرف سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ دفعہ ۔370 میں صدر کو دی ہوئی طاقتوں کا استعمال کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے گورنر مسٹر این این ووہرا کو ہدایت دیں کہ جموں و کشمیر میں موجودہ حکومت کو فوری طور پر تحلیل کرکے وہاں کی اسمبلی کو بھی تحلیل کیا جائے اور لوگوں کو اس تاریکی سے نجات دلائی جائے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے صدر سے بھی اپیل کی کہ جتنے بھی معصوم لوگوں کو خاص طور پر نوجوانوں کوجیل میں بند کیا گیا ہے، انہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔ انہوں نے دفعہ ۔370 میں صدر سے فوری طور پر ترمیم کرنے کی اپیل بھی کی، تاکہ پارلیمنٹ کو جموں و کشمیر پر قانون بنانے کا پورا حق مل سکے یعنی ایک ہندوستان ہو، اس کا ایک پرچم ہو اور ایک ہی آئین ہو۔