بھٹکل 30 نومبر (ایس او نیوز) انجمن حامئی مسلمین بھٹکل کے زیراہتمام اسلامیہ اینگلو اُردو ہائی اسکول میں انجمن کی صدسالہ تقریبات کی مناسبت سے مختلف کالج و اسکولی بچوں کے درمیان حمدیہ،کوئز و تقریری مقابلہ منعقد ہوا جس میں اول، دوم اور سوم آنے والوں کو انعامات سے نوازا گیا۔
حمدیہ مقابلہ میں نونہال سینٹرل اسکول کے ہود ابن عبدالقیوم سدی باپانے اول انعام، انجمن انگلش میڈیم پرائمری اسکول کے محمد افشان ابن محمد اکرم دوم انعام اور نیو شمس انگلش میڈیم اسکول کے عبادہ ابن عبدالرحمن سوم انعام کے حقدار قرار پائے۔ تقریری مقابلہ میں حذیفہ یمان ابن مولانا عبدالرزاق اول، محمد انس ابن عبدالرحیم مصباح دوم اورسید عبدالمنان ایس ایم سوم نمبر پر کامیاب رہے۔یہ سبھی انجمن پی یو کالج کے طلبا رہے۔کوئز مقابلہ میں اسلامیہ اینگلو اُردو ہائی اسکول (انگریزی میڈیم) کے خبیب احمد، مفاز احمد اور احمد ریان کی ٹیم اول نمبر پر، اسلامیہ اینگلو اُردو ہائی اسکول (اُردو میڈیم) کے عبدالرحمن، عبدالباری اور مشرف محی الدین کی ٹیم دوم نمبر پر اور نونہال سینٹرل اسکول کے سراج محمد غوث ائیکری، ماہر سنہری، زعیم کھروری کی ٹیم سوم نمبر پر کامیاب رہی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی مفتی محمد اسلم رشادی قاسمی نے کہا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ انسان کے علاوہ تمام مخلوقات کو اسکی تمام فطری ضروریات کے ساتھ پیدا کرتا ہے، ان کےلیے کوئی تربیت گاہ نہیں ہوتی،انسان کے علاوہ جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ اپنی پیدائش کے ساتھ اللہ کے پاس سے لے آتے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ انسان کا بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اسکو ماں کی گود میں دودھ پینا بھی نہیں آتا ،عورتیں انگلی میں شہد لگا کر بچے کے منہ میں چوسنے کے لئے دیتی ہے وہاں سے اسکی علم کی ابتدا ہوتی ہے۔وہ چوسنا سیکھتا ہے، اللہ نے انسان کو حواس خمسہ عطا فرمائے ہیں جس سے انسان تمام علوم سیکھتا ہے اور ترقی کرتا ہے، انسان عقل اور سمجھ کے راستے سے بھی علم حاصل کرتا ہے۔اور ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ انسان کو انسان بنانے والا علم وہی ہے جو اللہ کے رسول ﷺ ہمارے درمیان چھوڑ کر گئے ہیں۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں(قرآن مجید اورحدیث مبارکہ) چھوڑ کر جا رہا ہوں تم ان چیزوں کو تھا مے رہوگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوں گے۔
جماعت اسلامی کے شعبہ دعوت کے سکریٹری جناب اقبال ملا صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم یہ دیکھیں کہ ہمارے اخلاق وکردار نبی کریم ﷺ کے مطابق ہے یا نہیں، ہم بحیثیت مسلمان اس ملک میں اپنی ایک شناخت رکھیں، تاجر ہو، پڑوسی ہو یا کوئی بھی مسلمان ہو،اُن کو چاہئے کہ وہ اسلامی اخلاق پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بندوں کے حقوق کے بارے میں کوتاہی کرتے ہیں حالانکہ اسلام دو چیزوں حقوق العباد اور حقوق اللہ کا نام ہے۔ اپنے اچھے اخلاق کے ساتھ انہوں نے غیر مسلمانوں میں بھی اسلام کا صحیح تعارف پیش کرنے اور اُن کے درمیان پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی طرف مسلمانوں کی توجہ مبذول کرائی۔
پڑوسی علاقہ منکی جماعت المسلمین کے قاضی مولانا شکیل احمد ندوی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ ہمارے لیے اللہ کے رسول ﷺ ہی نمونہ ہیں ہم ہر چیز میں اللہ رسول ﷺ کے اخلاق کو ہی نمونہ بنائیں۔مولانا نے کہا کہ آپﷺ صحابہ کو جس بات کی دعوت دیتے تھے پہلے خود اس پر عمل کرکے دکھاتے تھے,،جن لوگوں نے آپکی شان میں گستاخی کی تھی جن لوگوں نے آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اذیتیں پہونچائی تھی اللہ کے رسولﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر سب کو معاف کر دیا، آج ہندوستان کے اس پر آشوب دور میں انہی اخلاق کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ جلسہ محمد حسین ابن عبد العظیم قاضیا کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوا تھا، محمد حذیفہ بن عبدالرزاق نے بارگاہ رسالت میں گلہائے عقیدت پیش کی، دانش اور اس کے ساتھیوں نے ترانہ انجمن پیش کیا جبکہ استقبالیہ کلمات سکریٹری انجمن جناب صدیق اسماعیل صاحب نے پیش کیےاور انجمن کے قیام کے مقاصد پیش کرتے ہوئے کہا کہ انجمن کی ابتدا ایک مکتب سے ہوئی تھی اور شروع سے ہی انجمن میں عصری علوم کے ساتھ دینی تعلیم کا بہترین نظم ہے۔ صد سالہ جشن کے کنوینر عبد الرقیب یم جے ندوی نے عوام کو انجمن سے جڑے رہنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے اسلاف کی امانت ہے اس کی حفاظت کرنا ہم سبھی حضرات کی ذمہ داری ہے۔
پروگرام میں انجمن کے تحت نیا قائم شدہ الفطرہ پری پرائمری اسکول کے ننھے طلباء و طالبات نے خوبصورت پروگرام بھی پیش کیا۔ اس موقع پر صد سالہ جشن کی مناسبت سے اقبال سعیدی کیلکھی گئی نظم عمیر سدی باپا نے پیش کی ۔ صدر انجمن عبدالرحیم جوکاکو نے صدارت کی ۔جلسہ کی نظامت مولوی شاہین ندوی اور مولوی دانش عسکری ندوی نے کی ۔ ڈائس پر شہر کے قاضی صاحبان کے علاوہ دیگر عمایدین شہر اور عہدیداران انجمن موجود تھے۔ پروگرام ساحل آن لائن پر لائیو ٹیلی کاسٹ کیا گیا تھا۔
:Full Program