ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / شہر سے عازمین حج کی پروازیں کل سے ، بکنگ کا آغاز ہوگیا ، حج بھون اور حج ٹرمینل میں 475 رضاکاروں کی ٹیمیں: رومان بیگ،امسال 5900عازمین کی روانگی

شہر سے عازمین حج کی پروازیں کل سے ، بکنگ کا آغاز ہوگیا ، حج بھون اور حج ٹرمینل میں 475 رضاکاروں کی ٹیمیں: رومان بیگ،امسال 5900عازمین کی روانگی

Sat, 05 Aug 2017 21:47:50    S.O. News Service

 

بنگلورو:5/اگست(ایس او نیوز) امسال سفر حج بیت اﷲ کیلئے حج بھون بنگلور سے عازمین کی روانگی کیلئے تیاریاں تقریباً مکمل ہوچکی ہیں اور پہلی فلائٹ کے عازمین حج کی بکنگ آج ہوگئی۔ جبکہ پیر کے روز پہلی پرواز سے عازمین حج کا قافلہ سوئے حرم روانہ ہوجائے گا۔ آج ریاستی حج کمیٹی کے ایگزی کیٹیو آفیسر سرفراز احمد نے حج انتظامات کے متعلق میڈیا کے نمائندوں کو بتایاکہ پہلی حج پرواز 7 اور8اگست کی درمیانی شب 3-50 روانہ ہوگی۔ سابقہ روایات سے ہٹ کر پہلی بار یہ کوشش کی گئی ہے کہ عازمین حج کو اور بھی بہتر انتظامات مہیا کرائے جائیں اور حج بھون سے ان کی بروقت روانگی یقینی بنانے غیر معمولی طور پر پابندیاں اپنائی گئی ہیں۔ حج کیمپ کے چیف والنٹیر رومان بیگ کی قیادت میں475 والینٹیرس کی ٹیمیں الگ الگ کاموں پر مامور کی جاچکی ہیں۔ ان میں سے 75والینٹیرس صرف ایرپورٹ کیلئے خدمات پر مامور رہیں گے۔ سرفراز خان نے بتایاکہ امسال حج فلائٹ کی روانگی کا سلسلہ 8اگست سے شروع ہوکر 31 اگست تک جاری رہے گا۔جملہ 14 فلائٹس میں روزانہ 340 تا344 عازمین حج کی روانگی ہوتی رہے گی۔ انہوں نے بتایاکہ وزیر شہری ترقیات وحج اور ریاستی حج کمیٹی کے چیرمین روشن بیگ کی قیادت میں جاری حج انتظامات میں ہر مرحلے میں یہ کوشش کی جارہی ہے کہ انتظامات کو عمدہ سے عمدہ رکھا جائے۔ایرپورٹ روانگی کے بعد جدہ پہنچنے تک عازمین حج کیلئے کھانے کا انتظام پہلی بار مہیا کراتے ہوئے جناب روشن بیگ نے اپنی ذاتی نگرانی میں فضائی کینٹرنگ کمپنی ایر سیاٹ کے توسط سے عازمین حج کو کھانے کے پیاکیٹ مہیا کرانا یقینی بنایا ہے۔ حال ہی میں جناب روشن بیگ نے بذات خود حج کیمپ سے وابستہ مختلف شعبوں بشمول ایر انڈیا ، ایرپورٹ اتھارٹی آف انڈیا، امیگریشن ، کسٹمز ، ٹریفک پولیس ، لاء اینڈ آر ڈر پولیس اور دیگر حکام کو طلب کرکے تمام انتظامات کا جائزہ لیا اور حسب سابق ان سے خصوصی تعاون کی گذارش کی ۔ 
امیگریشن حج ٹرمینل:

مسٹر سرفراز خان نے بتایاکہ اس سے پہلے گزشتہ 20 سالوں کے دوران عازمین کے حج کی روانگی کے مرحلے میں امیگریشن کی سہولت حج کیمپ اور حج بھون کے احاطہ میں ہی مہیا کرائی جاتی ، اس بار چونکہ امیگریشن حکام کا کمپیوٹر سرور ایرپورٹ کے باہر قانون کے مطابق نہیں لایا جاسکتا ، اسی لئے عازمین حج کا امیگریشن ایرپورٹ پر قائم حج ٹرمینل میں ہی کیاجائے گا۔ اس سلسلے میں ضروری ہدایات عازمین حج کو پہلے ہی دی جاچکی ہیں اور ساتھ ہی ان کی بکنگ کے مرحلے میں بھی ان کی آمد کے متعلق اوقات سے آگاہ کرایا جائے گا۔انہوں نے بتایاکہ امیگریشن کا مرحلہ حج ٹرمینل میں تقریباً تین گھنٹے چل سکتا ہے، جس کے سبب حج بھون سے عازمین حج کے قافلوں کو قبل از وقت رخصت کیا جائے گا، اس سلسلے میں عازمین کو بکنگ کے وقت جو بھی ہدایت دی جائے گی انہیں اس کی پابندی کرنی ہوگی۔ 
حج بھون میں داخلہ:

مسٹر سرفراز خان اور حج کیمپ کے کوآرڈینیٹر سید اعجاز احمد نے اس موقع پر بتایا کہ حج بھون میں داخلہ صرف عازمین حج ، رضاکاروں اور سرکاری افسران کیلئے ہی ہوگا، ان کے علاوہ کسی اور کو حج بھون میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔ عازمین حج کے رشتہ داروں کیلئے جو دور دراز مقامات سے آتے ہیں انتظامات حج بھون سے متصل کے این ایس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے احاطہ میں کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ پہلی بارعازمین حج کیلئے حج بھون میں فائیو اسٹار سہولیات مہیا کرائی گئی ہیں۔ اس عمارت کی آرائش کا کام بھی پورا ہوچکا ہے، گزشتہ مرتبہ رشتہ داروں کے کمروں میں داخل ہوجانے کے سبب پریشانی اٹھانی پڑی تھی، اسی لئے اس بار یہ سخت پابندی لگائی گئی ہے کہ عازمین حج کیلئے جو کمرے مخصوص رہیں گے وہاں تک رشتہ داروں کو رسائی قطعاً نہیں دی جائے گی۔ حج بھون میں عازمین حج کی ہمہ وقت طبی امداد کیلئے خصوصی میڈیکل یونٹ اور اسپتال کی سہولت مہیا کرائی گئی ہے جہاں پر وافر تعداد میں ڈاکٹر اور طبی عملہ موجود رہے گا۔ اس کے علاوہ ہنگامی صورتحال میں حاجیوں کی امداد کیلئے ایمبولنس سہولت حج بھون اور حج ٹرمینل میں دستیاب ہے۔ 
خادم الحجاج:

انہوں نے بتایا کہ امسال خادم الحجاج کے طور پر 14 سرکاری ملازمین وافسران کا انتخاب کیاگیاہے جو ہر فلائٹ کے ساتھ روانہ ہوں گے۔ خادمین پر یہ پابندی لگائی گئی ہے کہ وہ عازمین کو ہونے والی کسی بھی شکایت کا ازالہ کرنے کیلئے ان کی رہنمائی اور مدد کریں گے۔ اس مقصد کیلئے خادم الحجاج کا ایک خصوصی واٹس اپ گروپ بھی ترتیب دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری خرچ پر بطور خادم الحجاج روانہ ہونے کے بعد افسران اور ملازمین نے اگر لاپرواہی برتی اور عازمین کی خدمت کئے بغیر لوٹ آئے تو ان کے اس سفر کو ان کا ذاتی سفر قرار دیا جائے گا اور سفر کے اخراجات ان کی تنخواہ اور دیگر مراعات سے کاٹے جائیں گے۔ ساتھ ہی ان کے سرکاری سرویس ریکارڈ میں ان کی مبینہ لاپرواہی کے متعلق اندراج کیا جائے گا۔ اس موقع پر سید اعجاز احمد نے بتایاکہ امسال کرناٹک سے جملہ 5990عازمین حج روانگی کے چار مقامات سے روانہ ہورہے ہیں۔ منگلور سے 771 ، عازمین ، 26,25,24 جولائی کو روانہ ہوچکے ہیں۔ 7 تا 21اگست بنگلور سے 14پروازیں روانہ ہوں گی، جبکہ 13اگست سے حیدرآباد سے ریاست کے عازمین روانہ ہوں گے۔اسی طرح گوا سے بھی بلگام اور کاروار اضلاع کے عازمین روانہ ہوں گے۔ انہوں نے بتایاکہ 7 اگست کی شام چھ بجے عازمین حج کی روانگی کا افتتاحی جلسہ منعقد کیاگیاہے۔ جس کا افتتاح وزیر اعلیٰ سدرامیا کریں گے، اور صدارت مقامی رکن اسمبلی اور وزیر زراعت کرشنا بائرے گوڈا کی ہوگی۔انہوں نے بتایاکہ حج کیمپ کے اہتمام کا یہ ایکسواں سال ہے۔ اس کیمپ میں عازمین حج کیلئے ہر طرح کی سہولت حسب معمول پورے جوش وخروش کے ساتھ مہیا کرائی گئی ہے۔ انہوں نے بتایاکہ عازمین حج کی سہولت کیلئے حج بھون میں طعام کا مکمل انتظام شہر کی معروف کمپنی آئی مانیٹری اڈوائزری چاریٹبل کونسل(آئی ایم اے ) کی طرف سے کیا جارہاہے۔ اس موقع پر چیف والینٹئر رومان بیگ نے بتایاکہ حج کیمپ میں رضاکاروں کی ٹیمیں کام کرنے کیلئے پوری طرح مستعد ہوچکی ہیں۔ جیسے ہی عازمین حج روانگی کے دو دن قبل حاضر دیں گے اسی وقت سے رضاکاروں کی ٹیمیں ان کی دیکھ بھال میں لگ جائیں گی۔حج کیمپ میں عازمین کی خدمت کیلئے ہمہ وقت 400 والنٹیر مستعد رہیں گے، جبکہ ایرپورٹ پر خدمات انجام دینے کیلئے 75 والینٹرس کو خصوصی طور پر مامور کیاگیاہے۔ انہوں نے بتایاکہ ایرپورٹ پر رضاکاروں کی ٹیمیں وہاں سیکورٹی پر تعینات سی آئی ایس ایف اور کسٹمز کے افسران کے ساتھ تال میل سے کام کریں گے۔ساتھ ہی حج ٹرمینل میں عازمین حج کی روانگی اور آمد کے مرحلے میں بھی ان رضاکاروں کی ٹیمیں خصوصی طور پر متحرک رہیں گی۔ 
پکوان کی اجازت نہیں:

اس موقع پر سید اعجاز احمد نے بتایاکہ سعودی حکومت کے سخت ضوابط کے نتیجہ میں اس بار گرین زمرے کے تحت سفر حج بیت اﷲ کیلئے روانہ ہونے والے عازمین کو مطلع کیاجاتا ہے کہ گرین زمرے میں پکوان کی قطعاً اجازت نہیں ہوگی۔ سعودی حکومت نے پہلے ہی حرم شریف کے اطراف واکناف پکوان کو ممنوع قرار دیا ہے۔ اسی لئے گرین زمرے میں جتنی بھی عمارتیں الاٹ کی گئی ہیں ان میں باورچی خانہ نہیں ہے۔اس کے باوجود بھی اگر عازمین نے اس پابندی کوپامال کیاتو نہ صرف عمارت سے انہیں بے دخل کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی بلکہ اس پوری عمارت کو عازمین حج کو فراہمی کے لائسنس کو بھی رد کردیا جائے گا۔ البتہ عزیزیہ زمرے میں جانے والے عازمین حج کیلئے پکوان کی پوری سہولت دستیاب ہے۔ انہوں نے بتایاکہ جن عازمین کو ان کے کور نمبرز کے مطابق روانگی کی اطلاع نہیں ملی ہے انہیں ویزا منظور ہوتے ہی فوری طور پر حج کمیٹی آف انڈیا کے ذریعہ مطلع کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں عازمین حج یا ان کے کور نمبر ہیڈ کو چاہئے کہ حج کمیٹی سے مسلسل ربط میں رہیں ۔ 
سم کارڈ کی فراہمی: ریاستی حج کمیٹی کے ممبر جے سید ثناء اﷲ نے اس موقع پر بتایاکہ عازمین حج کو بکنگ کے مرحلے میں حج کمیٹی آف انڈیا کی طرف سے ایک سم کارڈ مہیا کرایا جارہاہے، یہ سم کارڈ سعودی موبائل کمپنی موبائیلی کا ہوگا۔ جدہ پہنچتے ہی عازمین حج کسی بھی موبائیلی کاؤنٹر پر اپنے پاسپورٹ اور ویزا کی نقل دے کر اس کم کارڈ کوچالو کرسکتے ہیں۔ انہوں نے عازمین سے گذارش کی کہ اپنے ساتھ پاسپورٹ اور ویزا کی زیراکس ضرور لے جائیں ، اس کیلئے حج بھون میں بھی سہولت دستیاب رہے گی۔ اس موقع پر ریاستی حج کمیٹی کے ایک اور ممبر ایم ایس ارشد ، ریاستی منصوبہ بندی بورڈ کے آفیسران اسپیشل ڈیوٹی محمد اعظم شاہد ، اور دیگر حج کمیٹی کے افسران ، وزیر حج کا عملہ وغیرہ موجود تھے۔


Share: